آغا خان یونیورسٹی، انسٹی ٹیوٹ فار ایجوکیشنل ڈیویلپمنٹ  کراچی میں عالیجاہ زین العابدین کی یاد میں تعزیتی ریفرنس کا انعقاد

آغا خان یونیورسٹی، انسٹی ٹیوٹ فار ایجوکیشنل ڈیویلپمنٹ  کراچی میں عالیجاہ زین العابدین کی یاد میں تعزیتی ریفرنس کا انعقاد

23 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

کراچی (زین الملوک )قدرت کا ایک اٹل قانون اور ایک تلخ حقیقت ہے کہ انسان اِس دنیا میں مختصر سی مدت کے لئے روتا ہوا آتا ہے اور رُلاتا ہوا جاتا ہے ۔ تاہم کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جو اِس دارِ فانی سے کوچ کرنے کے باوجودبھی  ہمیشہ دلوں میں زندہ رہتے ہیں اور اپنے نیک اعمال اور اچھے اخلاق کے باعث دلوں پر راج کرتے ہیں۔ مرحوم عالیجاہ زین العابدین  کا  نام ایسے لوگوں کی صفوں میں نمایاں طور پر نظر آتا ہے۔ مرحوم  کے اِنہی خصائل کی روشنی میں مورخہ ۲۲ مئی ۲۰۱۶ بروز اتوار کو آغا خان یونیورسٹی، انسٹی ٹیوٹ فار ایجوکیشنل ڈیویلپمنٹ   کراچی  میں ایک تعزیتی ریفرنس کا انعقاد کیا گیا۔ اِس تعزیتی اجتماع میں خاندان کے چشم و چراغ ، قریبی رشتہ داروں، دوست احباب، پارٹی ورکرز اور کراچی میں مقیم چترال اور گلگت بلتستان کے مختلف علاقوں سے آئے ہوئے  دوسرے عقیدت مندوں نے بھی  کثیر تعداد میں شرکت کی۔

پروگرام کے مہمانِ خصوصی ایڈوکیٹ صمصام علی خان رضا تھے  اور صدرِ محفل کے فرائض پروفیسر نصاب حسین نے انجام دیئے، جبکہ راقم الحروف (زین الملوک) اور نورشمس الدین نے سٹیج سیکریٹری کے فرائض نبھائے۔ تعزیتی ریفرنس کا باقاعدہ آغاز قاری محمد شمس الدین (خطیب و دعاگو ، مزارِ قائد کراچی) نے تلاوتِ کلامِ مجید سے کیا  جس کے بعد اطرب کے نوجوان سکالر، الواعظ عبادالرحمٰن نے  زین العابدین  اور سید سعداللہ جان (زین العابدین کے انتہائی قریبی رشتہ دار اور دیرینہ ہم عمر دوست جن کا زین العابدین  کی تدفین کے فوراً بعداپنے آبائی گاؤں چرون واپس جاتے ہوئے جنالکوچ کے مقام پر ٹریفک حادثے میں انتقال ہوا تھا) کے

لئے مشترکہ طور پر دعائے مغفرت کی۔
zainulزین العابدین کے خاندان کے تمام افراد کی طرف سے خطبۂ استقبالیہ دیتے ہوئے ڈاکٹر میر افضل تاجک نے تمام حاضرینِ مجلس کو خوش آمدید کہا اور اُن کا شکریہ ادا کیا کہ اُنہوں نے اپنی گونا گوں مصروفیات کے باوجود پروگرام میں شرکت کرکے اسے رونق بخشی۔ڈاکٹر تاجک نے اپنے زمانہ طالب علمی کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ گورنمنٹ ہائی سکول بونی میں تعلیم  کے سلسلے میں قیام کے دوران انہیں علاقے کے جن چیدہ چیدہ لیڈروں کے بارے میں بتایا گیا اُن میں سے ایک زین العابدین  بھی تھے۔ انہوں نے بتایا کہ خندان جنالی میں ایک ٹورنامنٹ کے موقع پر گورنمنٹ کالج بونی کے قیام کا مطالبہ سب سے پہلے زین العابدین نے ہی کیا تھا جو کہ ایک بصیر راہنما ہی کر سکتاہے۔ ڈاکٹر تاجک نے بتایا کہ دورانِ ملازمت چترال میں کئی بار زین العابدین اُن سے ملے اور پورے چترال کی ترقی بالعموم اور وادئِ ارکاری کی فلاح و بہبود کے لئے بالخصوص اپنے زرین خیالات سے اُنہیں آگاہ کیا، جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ مرحوم اپنی ذات، اپنے رشتہ داروں اور اپنے آبائی علاقے سے بالاتر ہو کر پورے ضلع کے لئے سوچا کرتے تھے۔انہوں نے مزید بتایا کہ وہ اپنے طلبا کو لیڈرشپ کے حوالے سے  جو نظریات پڑھاتے ہیں وہ تمام خوبیاں زین العابدین کے اندر بدرجہ اُتم موجود تھیں۔

ایڈوکیٹ  علی افسر جان نے اپنے خطاب میں کہا کہ زین العابدین ایک فرد ہی نہیں تھے بلکہ وہ ایک مکمل ادارہ تھے اور چترال بھر میں پھیلے ہوئے اپنے خاندان اور رشتہ داروں کے لئے بہترین گائیڈ تھے۔ انہوں نے بتایا کہ مرحوم نے اُنہیں نصیحت کی تھی کہ اپنے خطرناک پیشے میں کامیابی حاصل کرنے کے لئے بہت احتیاط سے کام کریں اور غریب پرور بن کر ہمیشہ غریبوں کی مدد کریں۔ اور ایڈوکیٹ صاحب اُس نصیحت پر ہمیشہ سے عمل کرتے آئے ہیں۔

اجلاس سے محمد نظار لال نے بھی خطاب کیا اور بتایا کہ زین العابدین ایک ایسے شریف النفس انسان تھے جنہوں نے سیاست اور عام زندگی میں کبھی بد عنوانی نہیں کی اور اُن جیسی مثال آج کل کے سیاستدانوں میں ملنا نا ممکن سی بات ہے۔

اپنے خطاب میں  انجنئیر امجد نادر تاج نے بتایا کہ زین العابدین بچوں بڑوں سب کا یکساں خیال رکھتے تھے اور اپنے تمام دوست احباب سے ہمیشہ رابطے میں رہتے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ آج کل کے دور میں بڑا آدمی اُسے تصور کیاجاتا ہے جس کے پاس زیادہ دولت اور پیسہ ہولیکن اُن کے خیال میں بڑا آدمی وہ نہیں ہے جو دولت اور پیسہ ہوتے ہوئے دوسروں کا خیال نہ رکھے اور اپنے دوست احباب سے کم رابطہ رکھے ۔ اِس لحاظ سے انجنیئر امجد نے زین العابدین کو سب سے بڑا انسان قرار دیا جو ہمیشہ اپنے دوست احباب سے رابطے میں رہتےتھے۔امجد نادر تاج نے مزید بتایا کہ ایم پی اے کی مدت ختم ہونے  کے بعد مرحوم کے دو بینک اکاؤنٹس چیک کئے گئے تو کُل ملا کر مشترکہ طور پر سولہ ہزار روپے پڑے تھے جو کہ اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ وہ کبھی اپنی ذات کے بارے میں نہیں سوچتے تھے بلکہ ہمیشہ اپنے   علاقے کی بہتری کے بارے میں ہی سوچتے تھے۔ اِس کی ایک اور مثال اُنہوں نے اس طرح دی کہ ایم پی اے شپ کے دوران ملنے والا دو کلومیٹر تارکول سڑک کا خصوصی فنڈ اپنے علاقے کوشٹ اور موردیر کے لئے وقف کرنے کی بجائے وہ فنڈ اُنہوں نے اویون کے لئے مختص کردیا کیونکہ اس سے علاقے میں کیلاش کلچر کو دیکھنے اور سیاحت کو فروغ دینے میں بڑی مدد مل سکتی تھی اور وہ اپنے مقصد میں کامیاب بھی ہو گئے۔

زین العابدین کے دیرینہ  اور مخلص دوست لیاقت علی صاحب جو کہ خود اپنے گاؤں بریپ میں تھے ، نے انگریزی میں لکھا ہوا اپنا تعزیتی مقالہ بھیجا تھا جو کہ اُن کے فرزند فدا نے پڑھ کر سنایا۔ مقالے میں اُنہوں نےمرحوم ایم پی اے  کو انتہائی پرہیزگار، صوفی منش، سب سے زیادہ نیک، سب سے زیادہ  مہذب، سب سے زیادہ مہربان، سب سے زیادہ مدبر اور دوستوں کا دوست قرار دیا۔ اُنہوں نے مزید بتایا کہ زین العابدین مجسم ِ محبت تھے جن کے اندر انسان دوستی ، اخلاق اور دوسروں کا خیال رکھنے کا جذبہ کُوٹ کُوٹ کر بھرا ہوا تھا۔ وہ ایک ایسے وقت میں ہمیں چھوڑ کر چلے گئے جب سرزمینِ چترال اور کھؤ ثقافت کو اُن کی سب سے زیادہ ضرورت تھی۔

تقریب  میں چترال کے مشہور نوجوان شعرا سعادت حسین مخفیؔ ، علاؤالدین عرفیؔ اور مرحوم  کے بھتیجے اظہر علی اظہرؔ کے لکھے ہوئے مرثیے بالترتیب راقم الحروف، شیر عالم خان اور رضوانہ امجدنادرتاج نے پڑھ کر سُنائے  اور حاضرینِ محفل سے داد وصول کی۔علاوہ ازیں مرحوم زین العابدین کی زندگی کے مختلف ادوار کی تصویری جھلکیاں بھی دکھائی گئیں جسے حاضرین نے بہت دلچسپی سے دیکھا۔

تعزیتی اجلاس کے مہمانِ خصوصی ایڈوکیٹ صماصم علی خان رضا نےاس  دِن کو اپنی زندگی کا سب سے یادگار دن قرار دیا کہ جس میں اُنہیں زین العابدین جیسی ہستی کے بارے میں تعزیتی ریفرنس کے مہمان خصوصی بننے کا شرف حاصل ہوا اور اِس اعزازکو ایڈوکیٹ صمصام نے بہت مشکل کردار بھی قرار دیا کیونکہ اس سے پہلے بے شمار پروگراموں میں مہمانِ خصوصی  بننے اور شرکت کرتے ہوئے اُنہیں کبھی ججھک محسوس نہیں ہوئی تھی اور آج وہ مرحوم  کی غیر متنازعہ شخصیت کی وجہ سے اندر سے تھوڑی سی پریشانی کا شکار تھے۔ انہوں نے زین العابدین کے خاندانی پس منظر کے بارے میں بتایا کہ اُن کا تعلق بابا ایوب کی نسل سے ہے اور اس نسل کے مختلف سپوتوں نے صدیوں تک چترال سے لے کر ضلع غذر کے ہیڈ کوارٹر گاہکوچ تک حکومت کی ہے۔ تاہم انہوں نے مرحوم ایم پی اے کے والد محترم لیفٹننٹ شرف الدین مرحوم کے بارے میں بتایا کہ بابا ایوب کی نسل سے شاید وہ واحد شخصیت تھے جنہوں نے اپنے خاندان کی علمی بنیادوں پر تربیت کی اور زین العابدین نے اُس ورثے کو بامِ عروج تک پہنچایا۔ایڈوکیٹ صمصام نے لیفٹننٹ شرف الدین کو چترالی ثقافت کی ایک مکمل ڈکشنری اور زین العابدین  کو اُس ڈکشنری سے پھوٹتی ہوئی ایک مکمل و ترو تازہ شاخ قرار دیا۔ مہمانِ خصوصی نے مرحوم کو انتہائی نڈر اور بہادر انسان قرار دیا جنہوں نے ۱۹۸۲ میں اپنے چھوٹے بھائی سیف الملوک  کی شہادت کی خبر سن کر اِسے امرِ الٰہی قرار دیتے ہوئے الحمدللہ کا ورد کیا تھا اور اِس کے بعد ۱۹۸۸ میں اپنے بڑے فرزند عمران کی ناگہانی شہادت کو بھی انتہائی پُر عزم طریقے سے سہہ لیا تھا۔

پروگرام کے صدرِ محفل پروفیسر نصاب حسین نے عالیجاہ زین العابدین  کو چترال میں مذہبی ہم آہنگی پیدا کرنے والے چند اہم کرداروں میں سے ایک مضبوط ستون قرار دیا۔ انہوں نے بتایا کہ مرحوم زین العابدین نے کبھی بھی کسی بھی فورم پر نسلی ، مذہبی اور علاقائی نفرت والی بات نہیں کہی بلکہ اُنہوں نے علاقائی لباس اور مذہبی گُونا گُونی  کے ساتھ اخلاص و محبت سے رہنے کو ہمیشہ بہترین زندگی قرار دیا ۔ انہوں نے بتایا کہ مرحوم زین العابدین کا اگر کوئی مسلک تھا تو وہ انسانیت اور مساوات کا مسلک تھا اور ہمیں آپ (زین العابدین ) کی زندگی سے برابری ، مساوات اور انسانیت کا درس ہی ملتا ہے ۔ لہٰذا ہمیں چاہیئے کہ ہم اِن زرین اصولوں کو اپنی زندگی کا شعار بنائیں۔

اپنے خاندان کے تمام افراد کی نمائیندگی کرتے ہوئے زین العابدین کی سب سے چھوٹی بیٹی نسیمہ زین العابدین نے تمام مہمانوں کا فرداً فرداً شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے مختصر نوٹس کے باوجود پروگرام میں بھر پور انداز میں شرکت کر کے اُن کی اور اُن کے خاندان کی حوصلہ افزائی کی ۔ نہ صرف یہ بلکہ اُن کے  مرحوم  والد کے لاہور میں ہسپتال میں علاج کے دوران بھی چترال کے غیور عوام  نےجس طرح فون کر کے ، پیغامات کے ذریعے اور ذاتی طور پر حاضری دے کر اُن کی ہمت بندھائی ، اُن سب کے لئے بھی شکریہ ادا کیا۔اُنہوں نے ڈاکٹر میر افضل تاجک اور اُن کے انتظامیہ کا بھی شکریہ ادا کیا جنہوں نے اِس پروگرام کے کامیاب انعقاد میں بھر پور تعاون کیا۔نسیمہ زین العابدین نے خطیب مزارِ قائد محمد شمس الدین کا بھی خصوصی طور پر شکریہ ادا کیا کہ آج صبح یہاں آنے سے پہلے اُنہوں نے اپنےگھر میں مرحوم کی روح کے ایصالِ ثواب کے لئے  اپنے بچوں سے قرآن خوانی کروائی۔ آخر میں نسیمہ نے اپنے  اِس ارادے سے بھی آگا ہ کیا کہ وہ اور اُن کا پُورا خاندان اُن کے والد صاحب کے بتائے ہوئے زرین اصولوں پر چلیں گے اور انسان دوستی کا درس جاری و ساری رکھیں گے۔

پروگرام کے آخر میں قاری محمد شمس الدین نے دعائے خیر کی اور یوں تمام مہمانوں کی ضیافت کے بعد یہ پروگرام اختتام پذیر ہوا۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔