شگر: چھورکاہ ڈسپنسری میں نہ ڈاکٹر ہے اور نہ دوائی، مریضوں کا کوئی پرسان حال نہیں۔ شگرایکشن کمیٹی

شگر(عابد شگری) شگرایکشن کمیٹی کے چیئرمین شیخ زکاوت علی نصرالدین نے کہا ہے کہ چھورکاہ ڈسپنسری میں نہ ڈاکٹر ہے اور نہ دوائی ۔مریضوں کا کوئی پرسان حال نہیں۔ ستم تو یہ ہے کہ اس سخت سردی میں بھی جلانے کیلئے لکڑی تک موجود نہیں۔ صوبائی حکومت اور محکمہ صحت جان بوجھ کر شگر خصوصا چھورکاہ کو نظرانداز کررہے ہیں۔اس قسم کی تاثرات کا عوام میں پیدا ہونا انتہائی خطرناک ہے۔اس کا رد عمل بھی خطرناک ہوسکتا ہے۔چیئرمین ایکشن کمیٹی شگر شیخ نصرالدین نے بدھ کے دن سول ڈسپنسری کا دورہ کیا۔ اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ 14000آبادی کیلئے واحد سول ڈسپنسری کا کوئی پرسان حال نہیں۔ جب سے شگر ضلع بنا ہے اور ضلعی سیٹ اپ آیا ہے ۔ اس ڈسپنسری کی حلات بد سے بدتر ہوتا جارہا ہے۔ گذشتہ ایک سال سے میڈیکل آفیسر غائب ہے۔اس وقت نہ ہی مریضوں کو دوائی مل رہا ہے اور نہ ہی ڈاکٹر کی سہولت موجود ہے۔ بلکہ اس سخت سردی میں وارڈ اور کمروں میں ہیٹنگ کا کوئی انتظام موجود نہیں۔چھورکاہ اور اس کے گرد ونواح کے مریض سخت دربدر ہورہے ہیں اور علاج کیلئے دور دراز علاقوں میں جانے پر مجبور ہے انہوں نے ڈائریکٹر محکمہ صحت بلتستان ، سیکریٹری صحت اور وزیر صحت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ سول ڈسپنسری چھورکاہ کی حالت زار کا نوٹس لیں۔اور فوری طور میڈیکل آفیسر تعینات کریں۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments

کیٹاگری میں : صحت