چترال، حیات کلب نے نوجوان نیشکو ٹیم کو صفر کے مقابلے میں ایک گول سے شکست دے کر فٹبال چیمپین شپ جیت لی

چترال، حیات کلب نے نوجوان نیشکو ٹیم کو صفر کے مقابلے میں ایک گول سے شکست دے کر فٹبال چیمپین شپ جیت لی

15 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

چترال(گل حماد فاروقی) آل چیمپین شپ فٹ بال ٹورنمنٹ احتتام پذیر ہو گیا۔ گزشتہ روز افغان سٹیڈیم میں اس ٹورنمنٹ کا فائنل فٹ بال میچ حیات فٹ بال کلب اور نوجوانان نیشکوہ فٹ بال ٹیم کے درمیان کھیلا گیا، جس میں حیات فٹ بال کلب ٹیم نے صفر کے مقابلے میں ایک گول سے شکست دیکر فائنل ٹرافی جیت لی۔ پہلے ہاف تک کوئی بھی ٹیم گول نہ کرسکا تاہم دوسرے ہاف میں جارحانہ انداز میں کھیلتے ہوئے حیات فٹ بال ٹیم نے ایک گول کردیا۔

فائنل میچ کے موقع پر ضلع ناظم پشاور ارباب محمد عاصم مہمان حصوصی تھے جنہوں نے ونر ٹیم کیلئے بیس ہزار روپے،رنر اپ ٹیم کیلئے دس ہزار اور آرگنائزنگ کمیٹی کیلئے تیس ہزار روپے کا اعلان کرتے ہوئے کھلاڑیوں میں ٹرافی اور انعامات تقسیم کئے۔

اس موقعے پر چترال سے تعلق رکھنے والے ایک کھلاڑی ابو بکر جو فرسٹ ائیر کا طالب علم بھی ہے کا کہنا ہے کہ ان کا تعلق بالائی علاقے ملکہو سے ہے مگر وہا ں پر کوئی کھیل کا میدان نہیں ہے یہ حکومت بڑے بڑے دعوے تو کرتے ہیں مگر عملی طور پر کوئی کام نہیں کرتا۔ قومی ٹیم میں کھیلنے والے محمد رسول کا کہنا ہے کہ چترال میں بین الاقوامی معیار تو چوڑے مقامی معیار کا میدان بھی نہیں ہے اگر چترال کے کھلاڑیوں کو موقع دیا جائے تو یہ پورے دنیا میں ملک کا نام روشن کرسکتا ہے۔

پی ٹی آئی کے سابق صدر عبد الطیف کا کہنا ہے کہ پہلی بار چترال میں دو اسٹیڈیم پر کام ہورہا ہے بونی کے مقام پر اسٹیڈیم پر 90 فی صد کام مکمل بھی ہوا اور سید آباد کا اسٹیڈیم اگلے سال مکمل ہوجائے گا۔ نادر خواجہ کا تعلق بھی چترال کے بالائی علاقے نیشکو ہ سے ہے جن کا ٹیم آج ہار گیا ان کہنا ہے کہ موجودہ حکومت نے یقین دہانی تو کرائی ہے مگر فی الحال چترال میں کوئی بھی معیاری اسٹیڈیم تیار نہیں ہیں جہاں کھلاری پریکٹس کرکے فٹ بال اور دیگر کھیلوں میں مہارت حاصل کرکے قومی اور بین الاقوامی سطح پر کھیل سکے۔اس میچ کو دیکھنے کیلئے چترال کے سینکڑوں تماشائی میدان میں آئے تھے

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔