یاسین: دوکانوں پر بکنے والی ڈش اور رسیوز پر پابندی عائد کرنے کی درخواست۔کیبل آپریٹرز

یاسین: دوکانوں پر بکنے والی ڈش اور رسیوز پر پابندی عائد کرنے کی درخواست۔کیبل آپریٹرز

8 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

یاسین( ڈسٹرکٹ رپورٹر) ضلع غذر میں شدید برفباری کے بعد غذر کے مختلف علاقوں میں کیبل نیٹ ورک کا نظام مکمل طور پر درہم برہم ۔کیبل سپلائی کرنے والی تار بری طرح تباہ ہوگئے ہے ۔ ضلع بھر میں گزشتہ تین تاریخ سے پانچ تاریخ تک ہونےنے والی برفباری نے علاقے میں تباہی مچا دی ہے۔ علاقے کے کیبل آپریٹر ز کو لاکھوں کا نقصان پہنچا ہے۔ کیبل کی تاروں کے ساتھ بوسٹر بھی درجنوں سے زائد جل کر خاکستر ہو گئے ہیں۔ کیبل آپریٹرز کو پہلے سے ہی ریکویری کے مسٗائل کاسامناہے، اوپر سے برفباری نے مزید مشکلات میں ڈال دیا ہے۔کیبل آپریٹرز کے مطابق انڈین چینلز بند ہونے کے بعد صارف کیبل نیٹ ورک کی کنکشن کاٹتے جاتے ہیں اور علاقے میں دوبارہ ڈش کلچر متعارف ہو رہا ہے جس سے سب سے بڑا نقصان یہ ہوا کہ گھروں میں انڈیا کے تمام چینلز ٹاک شوز بھی لوگ دیکھتے ہیں جبکہ کیبل نیٹ ورک میں مخصوص انٹرٹیمنٹ کے چینلز چلتے تھے۔اگر انڈین چینلز پر مکمل پابندی لگانا ہے تو دوکانوں پر بکنے والی ڈش اور رسیور پر بھی پابندی لگانا چاہئے۔ ایک ضلع میں صرف تین سے چار دوکانوں میں ڈش اور رسیور کا کاروبار ہوتا ہے جبکہ کیبل نیٹ ورک کا کاروبار ضلع بھر میں پندرہ سے بیس نیٹ ورک کام کرتے ہیں جس میں سینکڑوں گھرانوں کا روزگار وابسطہ ہے کہی گھرانوں کے چولحے اسی نیٹ ورک کے ذریعے چلتا ہے ان کو نقصان پہنچا کر کس کو فائدہ دیا جا رہا ہے۔غذر کیبل آپریٹرز نے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان،چیف سیکرٹری جی بی اور ہوم سیکرٹری جی بی سے مطالبہ کیا ہے ایک تو گزشتہ دنوں سے جاری برفباری کے باعث نقصانات کا ازالہ کیا جائے۔ دوسرا دوکانوں پر بکنے والی ڈش اور رسیوز پر بھی پابندی عائد کی جاہئے۔ اگر یہ سب ممکن نہیں ہے تو کیبل نیٹ ورک کا کاروبار مکمل طور پر بند کر کے اس نیٹ ورک سے وابسطہ افراد کو روزگار دیا جائے تاکہ تمام کیبل آپریٹرز مزید مالی نقصان سے بچ سکیں۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔