گلگت بلتستان لیویز فورس آرڈینینس کا نفاذ

گلگت بلتستان لیویز فورس آرڈینینس کا نفاذ

12 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

تحریر : سید عبدالوحید شاہ

گذشتہ روز گورنر گلگت بلتستان جناب میر غضفر علی خان صاحب نے گلگت بلتستان لیویز فورس کے قیام کے آرڈینینس پر دستخط ثبت کر کے لیویز فورس کی تاریخ میں اہم سنگ میل نصب کیا۔ لیویز فورس کا وجود اگرچہ صوبہ کے اندر قبل ازیں چند اضلاع میں موجود تھا تاہم اب اس آردینینس کی منظوری کے بعد فورس کا وجود اور دائرہ کار دوسرے اضلاع میں بھی پھیل جائے گا ۔ پہلے سے موجود اضلاع میں غذر ، دیامر کے علاوہ ہنزہ نگر اور گلگت شامل ہیں ۔ایک سال قبل جب راقم الحروف بلوچستان لیویز کی تابندہ و درخشندہ روایات اورامن و امان میں ادا کردہ کردار کا طویل عرصہ تک حصہ رہنے اوربغور مشاہدہ کرنے کے بعد گلگت بلتستان آیا تو انتظامی سربراہان کے پاس ایسی کسی بھی فورس کے عدم وجود کو شدت سے محسوس کیا ۔ تاہم امید کی کرن تب پیدا ہو چلی جب ہمارے چند نوجوان افسران نے اپنی اپنی سب ڈویژن میں لیویز کو فعال کرنا شروع کیا اور ان کی بنیادی ابتدائی تربیت کا بھی آغاز کیا ۔ مجھے اسسٹنٹ کمشنر خرم پرویز نے چلاس اور ڈپٹی کمشنر غذر میر وقار اور اسسٹنٹ کمشنر پونیال نوید احمد نے غذر لیویز کی پاسنگ تقریب میں مدعو کیا ۔ میں ان جوان افسران کی آنکھوں میں وہ جذبہ اور لگن دیکھ رہا تھا جو ایک انتظامی حلقہ کے پر اثر و پرجوش اہلکاران کا خاصہ ہیں ۔ سیکرٹری محکمہ داخلہ حکومت گلگت بلتستان جناب احسان بھٹہ کی موجودگی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ان سے استدعا کی کہ وہ لیویز فورس کو دوبارہ سے اپنے قدموں پہ ایستادہ کرنے کی جہد کریں ، تو ان کی مشفقانہ اور مستعد رضامندی نے حوصلہ بلند کیا ۔ لیویز فورس گلگت کی خوش بختی ہی سمجھ لیجیے کہ اسے ایسے افسران بالا میسر آئے ہیں کہ جن کا ملک کے مختلف علاقوں میں لیویز کا طویل تجربہ رہا ہے ۔ موجودہ چیف سیکرٹری جناب طاہر حسین صاحب کم و بیش پندرہ سال ڈیرہ بگٹی و دیگر ایسے علاقوں میں اس فورس کی کمان سنبھالتے رہے جہاں امن و امان کا مکمل دارومدا ر لیویز کی استعداد اور ان کے افسران بالا کی صلاحیت و ایمانداری پر منحصر ہوتا ہے ۔ سیکرٹری محکمہ نظم و نسق وملازمتہائے عمومی جناب وقار علی خان صاحب مہمند ایجنسی سے لیویز اور خاصہ دار فورس کا احسن تجربہ سمیٹے گلگت بلتستان میں براجمان ہیں ۔ لہٰذا اس آرڈینینس کی تیاری اور اس کی فعالیت کے لئے تیار شدہ مسودہ پر ایسے ہی ماہرین امور کی مشاورت اور ہدایت ہمراہ رہی ۔

عوام الناس کی دہلیز پر حکومتی اقدامات کے اثرات کو پہنچانے کی خاطر اس فورس کا قیام عمل میں لایا گیا ہے اور اس آرڈینینس کی تحت یہ فورس بلا واسطہ محکمہ داخلہ اور ڈائریکٹر جنرل لیویز فورس کی زیر نگرانی کام کرے گی ۔ فورس کا دائرہ اور احاطہ صوبائی نوعیت کا ہے اور اس کی ترکیب و ترتیب کی تفصیلات اس کے ذیلی و ضمنی قوانین میں بیان ہوں گے ۔ اس آرڈینینس کی تمہید ہی میں اس فورس کا مقصد دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ مل کر امن عامہ قائم کرنا اور علاقے میں لوگوں کی جمہوری خواہشات کے عین مطابق شہری و میونسپل قوانین پر عملدرآمد کروانا گردانا گیا ہے ۔آرڈینینس کے آرٹیکل سات میں لیویز فورس کے فرائض منصبی کو قدرے تفصیل سے بیان کیا گیا ہے جن میں انتظامی ضلعی مجسٹریٹ کے احکامات کی تعمیل کرتے ہوئے تعزیرات پاکستان کے تحت ان تمام معاملات کی تحقیق و تفتیش شامل ہے جو کہ مقامی و خصوصی قوانین(لوکل و سپیشل لاز)کے دائرہ میں آتے ہوں ۔ اس کے علاوہ عوام الناس کی جان و مال ، عزت و آبروکی حفاظت کے ساتھ ساتھ نقص امن کی کوششوں کا بر وقت تدارک ، شاہراہ عام یا شارع عام پر بے جا رکاوٹ و مداخلت کے خلاف اقدامات ، دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ خفیہ اطلاعات کا باہمی تبادلہ ، امن عامہ کا تسلسل ، عوامی جگہوں اور گذر گاہوں کی حفاظت ، چوراہوں اور سڑکوں پر آمدو رفت کی روانی کا انتظام کے علاوہ مجرموں کو انصاف کے کٹہرے میں پیش کرنا بھی شامل ہے ۔ اختیارات و ذمہ داریوں کی فہرست اگرچہ طویل ہے تاہم اس میں جو خاص عناصر ہیں جن کی بدولت اس فورس کا وجود از بس لازمی اور ناگزیر ہے وہ مقامی و خصوصی قوانین پر عملدرآمد اور سرکاری املاک و اراضی پر ناجائز قبضہ و تسلط کے خلاف اختیار ہے۔ لوکل اور سپیشل لاز ہی در اصل وہ روزمرہ کے امور ہیں جن سے عام آدمی کا تعلق واسطہ رہتا ہے اور جن کا نفاذ یا عدم نفاذ ہی حکومت وقت کی کارکردگی کا عندیہ ہے اور عوام کی سہولت کا معیا ر و پیمانہ ہے ۔ جس قدر گراں فروشی کے خلاف مقامی قوانین کا نفاذ سخت و بے لچک ہو گا اور اس کی پشت پر حکومتی مضبوط اہلکاران ہونگے اسی قدر عوام سکھ کا سانس لے سکے گی اور حکومتی پالیسیوں کا بلا واسطہ فائدہ لوگوں تک منتقل ہو گا ۔ اسی طرح دیگر امور جن میں جواء ، منشیات فروشی ، مذبح خانوں کا قیام و انصرام ، عوامی مقامات اور سرائے کی صفائی و قیام و طعام کا معیار ، لوگوں کے لئے سستے بازاروں کا قیام ، سستے نرخوں پر عملدرآمد ، شہر کی گلی کوچوں کی نگرانی و صفائی وغیرہ ایسے ان گنت عوامل ہیں کہ جن کے لئے مقامی و خصوصی قوانین پر عمل در آمد کے لیے ضلعی انتظامیہ کو دست بازو کی اشد ضرورت ہوتی ہے ۔ اور یہ ضرورت گلگت بلتستان کے تناظر میں اشد محسوس کی جا رہی تھی ۔ چونکہ دوہزار نو کے خود اختیاری وتقویتی آرڈینینس کے تحت شمالی علاقہ جات کی حیثیت اب ایک صوبے کی ہے اور باقاعدہ طور پر میونسپل کارپوریشن اور دیگر بڑے شہری اداروں کی موجودگی میں اب ضلع مجسٹریٹ کی دست گیری کی خاطر اب اس فورس کا مزید مضبوط ہونا اور پھلنا پھولنا چنداں اہم تھا ۔ وقت کی اس ضرورت کا ادراک کرتے ہوئے حکومت وقت نے جس دانشمندی کا ثبوت دیا ہے اس سے نہ صرف لیویز کی استعداد کار میں اضافہ ہو گا بلکہ صوبائی درجہ ملنے کے بعد عوام الناس کی جو توقعات حکومت و حکومتی اداروں سے وابسطہ ہیں ان کی بھی پذیرائی ہو گی ، اور یوں یہ فورس حکومتی احکامات کی تشریح بمفاد عامہ کرے گی جس کے دور رس اثرات مرتب ہونگے ۔

اس آرڈینینس میں لیویز فورس کو جہاں ان تمام اختیارات سے نوازا گیا ہے جو باقی صوبوں میں اس فورس کو حاصل ہیں وہیں گلگت بلتستان لیویز فورس آرڈینینس نے لیویز پر کچھ ایسی ذمہ داریاں بھی ڈال دی ہیں جو ریاست کے دیگر اداروں کے لئے ایک گو نہ اطمینان و تشفی کا باعث ہیں۔ قدرتی آفات کی صورت میں یہ فورس پابند ہے کہ وہ متعلقہ اداروں کے ساتھ مل کر ہر وہ کام سر انجام دے جس کا اس کو حکم دیا جاتا ہے اور عوام الناس کو محفوظ مقامات تک منتقل کرنے ، ان کی بحالی ، تقسیم و ترتیب خیمہ جات وغیرہ کے علاوہ ایسے دیگر تمام ان امورکی انجام دہی جو ادارہ قدرتی آفات و بچاوُ کو حادثات کی صورت میں درپیش ہوں ۔ راستے کے حادثات اور وہاں پہ زخمیوں کی دیکھ بھال اور ان کو ہسپتال منتقل کرنا ، سڑک خراب ہونے کی صورت میں عوام کو پیشگی اطلاع دینا وغیرہ بھی اس آرڈینینس کی رو سے لیویز فورس کے دائرہ اور ذمہ داریوں میں شامل ہے ۔
آرڈینینس کی روح لیویز فورس کو اس بات کا پابند بناتی ہے کہ حکومت وقت اور ریاست کے جو جائز احکامات انہیں دئیے جائیں ان کی بجا آوری اور تعمیل میں وہ اپنی استطاعت اور مقدور بھر سعی کریں اور اپنے حکام بالا کی اطاعت ریاست کی بھلائی کی خاطر لازم پکڑیں ۔ گلگت بلتستان میں اس فورس کو اب تقویت ملنے کے بعد انتظامی مجسٹریٹ حضرات سے اب توقع رکھنی چاہئے کہ ان کی شہری حدود میں عوام کی بھلائی کی بنیادی ضروریات اب مزیدموٗثر اور صحت مند انداز سے میسر ہونگی اور خلق خدا منافع خوروں ، قبضہ مافیا اور منشیات فروشوں سے ہمیشہ کے لئے نجات پا لے گی ۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔