پروفیسروں کے تجربات اور سفارشات کوتعلیمی پالیسی کا حصہ بنایا جائے گا، ثنا اللہ سیکرٹری ایجوکیشن

پروفیسروں کے تجربات اور سفارشات کوتعلیمی پالیسی کا حصہ بنایا جائے گا، ثنا اللہ سیکرٹری ایجوکیشن

6 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

گلگت(خصوصی رپورٹ ) گلگت بلتستان پروفیسر اینڈ لیکچرار ایسوسی کی کابینہ کی ایک اہم میٹنگ سیکرٹری ایجوکیشن ثناء اللہ کے ساتھ ان کی آفس میں ہوئی۔جی بی ایل اے کے صدر پروفیسر راحت شاہ اور پریس سکریٹری امیرجان حقانی نے سیکرٹری ایجوکیشن کے ساتھ تعلیمی اور انتظامی امور کے حوالے سے تفصیلی گفتگو کی۔

سیکرٹری ایجوکیشن نے کہا کہ پروفیسروں کے تجربات اور سفارشات کوتعلیمی پالیسی کا حصہ بنایا جائے گا۔ پالیسی سازی میں پروفیسروں کو ضرور ساتھ لیا جائے گا۔ ایک ایجوکیشنسٹ ہی تعلیمی و نصابی امور کو بہتر سمجھ سکتا ہے۔جس کے لیئے آپ کی خدمات لینی ضروری ہے۔ گلگت بلتستان کے پروفیسروں اور لیکچراروں کے لیے پنجاب کی طرح دیگر صوبوں میں بھی ٹریننگ اور ورکشاپس کے انعقاد کی کوشش کی جائے گی۔پنجاب حکومت نے گلگت بلتستان کے پروفیسروں کی ٹریننگ کے لیے دس کروڈ کا بجٹ منظور کرکے اور ایجوکیشن یونیورسٹی لاہور نے بہترین نظم و ضبط کے ساتھ ٹریننگ دے کر اپنائیت کا احساس دلایا ہے۔ کالجز کے فیکلٹی سے گزارش ہے کہ وہ ٹریننگ سے حاصل ہونے والے تجربات اور مشاہدات کی روشنی میں اپنے کالجوں میں ریفامز لائیے اور ان مشاہدات وتجربات کی روشنی میں سفارشات مرتب کرکے ہمیں پیش کریں تو ہم آئندہ کی تعلیمی پالیسوں میں ان کے سفارشات کو لازمی حصہ بنائیں اور تعلیمی امور کو مزید بہتر سے بہتر بنائیں گے۔

ایک سوال کے جواب میں سیکرٹری ایجوکیشن نے کہا کہ گلگت بلتستان کے کالجز اور حکومت نے قراقرم یونیورسٹی کے قیام میں سب سے زیادہ تعاون کیا۔ یونیورسٹی کی وجہ سے اب تک تین کالجز مسائل کا شکار ہیں۔ اور بڑا عرصہ کالجز کے پروفیسروں نے یونیورسٹی میں تدریسی خدمات انجام دی ہیں جس کے وجہ سے کالجز متاثر ہوئے ہیں۔ پاکستان کی کسی بھی صوبائی حکومت نے یونیورسٹیوں کے قیام میں اتنی قربانی نہیں دی جتنی جی بی حکومت نے دی لیکن قراقرم یونیورسٹی کا تعلیمی معیار وہ نہیں جس کی توقع کی جاتی ہے۔یونیورسٹی کو اپنا نظم و ضبط کے ساتھ تعلیمی معیار پر بھی توجہ دینی چاہیے۔

پروفیسر ایسوسی ایشن کے صدرراحت شاہ نے کہا کہ ہم اس بات کی بھرپور مخالفت کرتے ہیں کہ گلگت بلتستان کی کالجز کو یونیورسٹی کیمپس بنایا جائے۔ جگہ جگہ کیمپس بنانے کے بجائے مین کیمپس کو مضبوط کیا جائے اور اس کو ایک قابل اعتماد تعلیمی ادارہ بنایا جائے اور مزید شعبے قائم کرنے کے ساتھ ریسرچ کے پروگرام بھی شروع کریں۔ اگر قراقرام یونیورسٹی اپنے مزید کیمپس قائم کرنا چاہتی ہے تو وفاق سے بجٹ لائے اور نئے سرے سے کیمپسس تعمیر کریں۔ یہ کہاں کا انصاف ہے کہ کالجز کو کیمپس بنایا جائے۔

ایسویسی کے ذمہ داروں نے سیکرٹری ایجوکیشن کا شکریہ ادا کرتے ہوئے ان سے گزارش کی ہے کالجز کے لیے جلد ڈپٹی سیکرٹری کا تعینات کریں تاکہ کالجز اور پروفیسروں کے مسائل اور فائلیں آسانی سے پایہ تکمیل کو پہنچ جائیں ۔

سیکرٹری اطلاعات امیرجان حقانی ؔ نے اپنی گفتگو میں کہا کہ پروفیسر ایسوسی ایشن ایک نیوز لیٹر اور تحقیقی مجلہ نکالنا چاہتی ہے جس کے لیے آپ کا تعاون ضروری ہے۔

سیکرٹری ایجوکیشن نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہم ہر ممکن تعاون کریں گے ، علمی اور تحقیقی سرگرمیوں کو بڑے پیمانے پر فروغ دینے کی ضرورت ہے تاکہ طلبہ وطالبات اور پروفیسروں میں لکھنے لکھانے اور تحقیق و تفتیش کا عمل آگے بڑھایا جاسکے۔ان امور کے علاوہ ایگزامینشن، نصاب سازی اور بورڈ کے قیام کے حوالے سے بھی گفت و شنید ہوئی۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔