کھرمنگ : ضلعی ہیڈ کوارٹر بننے میں خلل ڈالنے سےفنڈز واپس ہونگے۔ کمشنر بلتستان

کھرمنگ : ضلعی ہیڈ کوارٹر بننے میں خلل ڈالنے سےفنڈز واپس ہونگے۔ کمشنر بلتستان

4 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

کھرمنگ (سرور حسین سکندر) کمشنر بلتستان عاصم ایوب مختصر دورے پر کھرمنگ پہنچ گئے اس دوران انہوں نے گوہری سے ا پر میدان کا پیدل چل کر دورہ کیا۔ ان کے ساتھ ڈپٹی کمشنر کھرمنگ بشارت حسین اور اے سی کھرمنگ قربان علی بھی تھے اپر گوہری میدان سے واپسی کے بعد انہوں نے گوہری کے عمائدین سے غیر رسمی گفتگو بھی کی۔ کمشنر بلتستان کو گوہری کی عوام نے اپنے مطالبات پیش کرتے ہوئے کہا کہ گوہری تھنگ پچھلے تین سو سالوں سے گوہری کی ملکیت ہے اگر یہاں ہیڈ کوارٹر بنا تو ہمارے مطالبات کو مد نظر رکھنا چاہیے۔ جس پر عاصم ایوب نے کہا کہ تمام معاملات کو افہام و تفہیم سے حل کرینگے ہیڈ کوارٹر کا نوٹیفیکیشن پہلے سے ہوا ہے اور ڈی سی ہاوس اور آفس کے لئے فنڈز بھی جاری ہوا ہے جلد کام شروع ہوجائے گا۔ انہوں نے کہا کہ کھرمنگ ڈسٹرکٹ بنا ہے یہ آپ کے لئے بنا ہے جتنے بھی دفاتر یہاں بننے جارہے ہیں یہ سب آپ کی پراپرٹی ہے۔ اگر ہیڈ کوارٹر بننے میں خلل پیدا کیا تو سارے فنڈز واپس جا سکتے ہیں۔ یہاں تک کی ضلع بھی اس میں آپ کاہی نقصان ہے۔ اگر ہیڈ کوارٹر آپ کے گھر کے سامنے بنا تو آپ کے لئے دفاتر تک رسائی میں آسانی پیدا ہوگی اور ضلعی ہیڈ کوارٹر کے تمام سہولیات آپ کو ملیں گی۔ آپ کو اعتراض کرنے کے بجائے حکومتی امور میں حکومت کے ساتھ دینا چاہیے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ میری خواہش ہے کہ کوئی کام زبردستی نہ ہو سب مل بیٹھ کے حل ہو۔ نوزائیدہ ضلع کی حفاظت کرنی چاہیے ۔ انہوں نے ہلال آباد میں کئی دن سے بجلی بند ہونے کا نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ ڈیپارٹمنٹ سے بات کرنے کی یقین دھانی کرائی ہے ۔ واضح رہے کہ کمشنرکھرمنگ کا کھرمنگ میں کھلی کچہری طے تھا لیکن موسم کی خرابی اور بالائی علاقوں کا دورہ ملتوی کرنا پڑا ۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔