درس ملتا ہے۔۔۔۔۔ماہرین فن کے مشاہدات وتجربات سے

درس ملتا ہے۔۔۔۔۔ماہرین فن کے مشاہدات وتجربات سے

4 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

بڑے لوگوں کی خود نوش آپ بیتیاں اور سرگزشتیں پڑھنے سے بے شمار فوائد حاصل ہوتے ہیں۔ مشکلات میں ڈھارس بندھتی ہے۔خوداری اور انسانیت سے محبت کا درس ملتا ہے۔ مشکل مرحلے، ہنسی خوشی میں گزر جاتے ہیں۔ناموافق حالات میں جینے کا طریقہ آجاتا ہے۔ از خود زندگی کی پلاننگ ہوجاتی ہے۔ کچھ کرگزرنے کا جذبہ بیدار ہوجاتا ہے۔ سوچ میں وسعت پیدا ہوتی ہے۔ اپنوں کی بے رعنائیاں اور غیروں کی ریشہ دوانیاں انسان کو مایوس اور غمگین نہیں کرتیں۔ ظلم کے خلاف ڈٹ جانے کا حوصلہ ملتا ہے۔ دشمن تک کو بھی معاف کرنے اور نوازنے کی پیغبری صفت پیدا ہوجاتی ہے۔ اپنی جدو جہد میں بہترین نتائج کے حصول کی خواہیشات امڈ آتیں ہیں اور امیدیں کم از کم نتائج پر مرکوز رہتی ہیں اور پھر انسان بدترین اور مشکل سے مشکل نتائج و حالات کے لیے بھی تیار رہتا ہے۔زندگی حرکت میں رہتی ہے۔ایسی زندگی گزارنے والے لوگ، کل کو دوسروں کے لیے اسوہ بنتے ہیں۔بڑوں کی نقالی کرنے والے اصاغر، کل کے اکابرجاتے ہیں۔سیر اورسوانح کی اہمیت کا اندازہ ایسے مواقعوں پر خوب ہوجاتا ہے۔میری دانست میں اپنے فن و پیشہ میں ہر بڑے انسان(ماہر) کو اپنی یاداشتیں اور بیتیاں ضرور رقم کرنی چاہیے۔ان کو یہ ہرحال میں نہیں سوچنا یا کہنا چاہیے کہ میں کیا میرے سوانح اور تجربات کیا؟ نہیں جی۔آپ کے سوانح، اپ کے تجربات و مشاہدات اور بیتیاں و کہانیاں کل کے لیے نمونہ عمل بن جائیں گی اور دوسرے لوگ عبرت پکڑیں گے۔آج اپ کی سستی یا عدم توجہی کی وجہ سے کل کی نسل ایک بہترین اور مشاق استاد کے تجربات و مشاہدات سے محروم رہ سکتی ہے۔۔میری ان تمام ماہرین جو اپنے فن و پیشہ(ہر قسم)سے گزارش ہے کہ اپنے تجربات و مشاہدات یا تو خود قلم بند کریں یا پھر املاکروائیں یا ریکارڈنگ۔۔اور بھی کئی صورتیں ہوسکتی ہیں۔۔

کچھ آپ بیتیوں اور سوانح عمریوں نے میری زندگی میں خوشگوار تبدیلیاں پیدا کی ہیں۔۔۔۔۔بہت ساری پڑھیں ہیں لیکن کچھ کے نام لکھنے میں احباب کا بھلا سمجھتا۔۔لیجیے۔

۱۔ آپ بیتی۔۔۔۔ شیخ زکریا

۲۔ ناقابل فراموش۔۔۔۔۔ دیوان مفتون سنگھ

۳۔ بوئے گل نالہ دل، دود چراغ محفل۔۔۔۔شورش کاشمیری

۴۔ کالا پانی ۔۔۔ جعفر تھانیسری

۵۔یادوں کی بارات۔۔۔جوش ملیح آبادی

۶۔ میرا افسانہ۔۔۔۔۔چودھری افضل حق

۷۔جہانِ دانش۔۔۔۔۔احسان دانش

۸۔شہاب نامہ۔۔۔۔ قدرت اللہ شہاب

۹۔ احاطہ دار العلوم میں بیتے ہوئے دن۔۔۔۔۔۔۔مناظر احسن گیلانی

۱۰۔ آپ بیتی۔۔۔۔۔عبدالماجد دریابادی

۱۱۔ دیدہ ور۔۔۔۔کوثر نیازی

۱۲۔ اورٹوٹ گئی زنجیر۔۔۔۔ اعظم طارق

۱۳۔سچ کی تلاش۔۔۔۔صدرالدین ہاشوانی

۱۴۔شاہرہ مکہ۔۔۔۔۔علامہ اسد

۱۵۔ نورتن۔۔۔۔شورش کاشمیری

۱۶۔ نقشِ حیات۔۔۔حسین احمد مدنی،،،،،

۱۷۔ وہ صورتیں الہٰی ۔۔۔مالک رام

۱۸۔ معاصرین۔۔۔۔عبدالماجد دریاآبادی

۱۹۔من الظلمات الی النور۔۔۔پروفیسر غازی احمد

۲۰۔سید سلیمان ندوی کی یادرفتگان اور مفتی تقی عثمانی کی نقوش رفتگان کو بھی تقریبا تقریبا سوانحی کتابیں قرار دی جاسکتی ہیں لیکن بنیادی طور پر یہ دونوں کتابیں وفیات پر ہیں۔

ان کے علاوہ بھی بہت ساری خود نوشت سوانح عمریاں ، سرگزشتیں اور آپ بیتیاں پڑھیں ہیں بالخصوص شورش کاشمیری کی بڑے لوگوں پر لکھئی ہوئی سوانح عمریاں۔۔اور بڑے انسانوں کے حوالے سے شائع کیے گئے خصوصی شمارے۔۔۔میں اپنے احباب سے بھی گزارش کرونگا۔ان کتابوں کو ایک دفعہ ضرور پڑھے گا۔بہت کچھ مل جائے گا۔۔۔سمجھو، مشکل کے اوقات میں یہ کتابیں آپ کا سرمایہ ہیں۔۔اور اپنے اس سرمایہ کو کسی صورت ضائع مت کیجیے گا۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔