چلاس میں دو سال بعد بھی گائناکولوجسٹ کی تعیناتی نہ ہوسکی

چلاس(مجیب الرحمان)موجودہ حکومت کا دور دیامر کی خواتین پر گراں گزرنے لگا۔خواتین کے حقوق کا رونا رونے والے دو سالوں میں گائناکولوجسٹ تک کی تعیناتی کو یقینی نہ بنا سکے۔خواتین اپنے امراض کا علاج مرد ڈاکٹروں سے کروانے جبکہ بعض خواتین مرد ڈاکٹروں کو امراض بتانے سے کترا کر اپنی اور نومولود بچوں کی زندگی کو خطرے میں ڈالنے پر مجبور ہیں۔

چلاس ڈی ایچ کیو ہسپتال میں عرصہ دراز سے گائنا کولوجسٹ موجود ہی نہیں ہے ۔اپنی من پسند سٹیشنوں میں ڈیوٹی کر کے تنخواہیں چلاس ہسپتال سے ہی لے رہی ہیں۔جبکہ دیامر کی سیاسی قیادت بھی صورتحال سے بے خبر وزارتوں کے مزے لوٹنے میں مشغول ہیں۔گائنی کالوجسٹ کی عدم موجودگی سے زچگی کا آپریشن بھی بروقت نہیں ہو پارہا ہے۔جس کی وجہ سے مائیں گلگت پہنچنے تک راستے میں ہی دم توڑ جا تی ہیں۔ جبکہ غریب ماؤں کے علاج کے لئے دور دراز شہروں میں جانا بھی ممکن نہیں ہو سکتا ہے۔اگر کسی کو گلگت پہنچایا بھی جائے تو علاج معالجہ بھی کسی اذیت سے کم نہیں ہوتا ہے۔گائنی کالوجسٹ کی عدم موجودگی سے خواتین کے امراض کی تشخیص بھی نہیں ہو سکتی ہے۔عوام اس صورتحال سے سخت نالاں ہیں۔

آپ کی رائے

comments

کیٹاگری میں : صحت