ہنزہ میں بجلی بحران پر قابو پانے کے لئے زیرِ تعمیر منصوبوں پر کام کی رفتار مزید تیز کرنے پر اتفاق

ہنزہ میں بجلی بحران پر قابو پانے کے لئے زیرِ تعمیر منصوبوں پر کام کی رفتار مزید تیز کرنے پر اتفاق

16 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

ہنزہ ( بیورو رپورٹ) ڈپٹی کمشنر ہنزہ کی زیر صدارت اجلا س، ہنزہ میں بجلی کے بد ترین بحران اور دیگر ترقیاتی منصوبوں پر ضلعی انتظامیہ کے سربراہان اور منتخب نمائندہ سر جوڑ کربیٹھ گئے۔

گزشتہ روز ڈپٹی کمشنر ہنزہ افس میں ممبر قانون ساز اسمبلی شاہ سلیم خان کے ہمراہ ڈی سی ہنزہ کپٹن (ر) سمیع اللہ فاروق کی  زیر صدرات اجلاس میں ہنزہ کے عوام میں درپیش مسائل پر غور کرنے کے لئے ہنزہ لائین ڈیپارنمنٹس کے نمائندوں کا اجلاس ہوا۔اجلاس میں ہنزہ میں بڑھتی ہوئی بجلی بحران اور دیگر ترقیاتی کاموں کی رفتار پر گفت شیند ہوئی۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ ہنزہ میں بجلی کی بدترین لوڈ شیڈنگ پر قابو پانے کے لئے جاری منصوبوں کو مزید تیز کرنے کی ضرورت پر زوردیا گیا۔ اجلاس کے دوران کہا گیا کہ بجلی کے بغیر ترقیاتی کامنصوبوں کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہنزہ ملکی و غیر ملکی سیاحوں کا مسکن ہے۔ جب سیاح ہنزہ اندھیرے دیکھتے ہیں تو پورے گلگت بلتستان کا امیج متاثر ہو تا ہے۔

اجلاس میں مسگر پاور پرجیکٹ کو جون سے قبل مکمل کرنے کے علاوہ حسن آباد نالے میں 2میگاوٹ اور مایون کے5سو کلوواٹ بجلی کے منصوبے کو روااں سال مکمل کرنے پر اتفاق کیاگیا۔ جبکہ دوسری جانب حسن آباد اور مایون میں ہونے والے کام پر ممبر قانون ساز اسمبلی اور ضلعی انتظامیہ نے اطمینان کا اظہار کیا۔

ڈی سی کی زیر صدارت اجلاس میں کہاگیا کہ ضلع ہنزہ میں صحت ، تعلیم اور دیگر شعبوں سے متعلق ترقیاتی منصوبے جس انداز میں کئے جا رہے ہیں عوام پر امید ہیں کہ ضلعی انتظامیہ اور ممبر قانون ساز اسمبلی مل کر عوامی مشکلات حل کرنے میں کلیدی کردار ادا کرینگے۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔