غلطی کی گنجائش نہیں

غلطی کی گنجائش نہیں

10 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آل پاکستان مسلم لیگ کے رہنما سابق صدر جنرل (ر)پرویز مشرف نے پارٹی کے جلسے میں ویڈیو لنک پر بیرون ملک سے تقریر کرتے ہوئے 2018 کے الیکشن میں ایک بار پھر چترال سے انتخاب لڑنے کا اعلان کیا ہے سنجیدہ لو گوں نے سابق صدر کے اعلان کو سنجیدہ نہیں لیا تاہم سوشل میڈیا اور قومی پریس میں اس پر لے دے ہوری ہے 2013 کے الیکشن میں سا بق صدر نے چترال سے کا غذات نا مزد گی داخل کرا نے کا اعلان کیا تو پاک فوج کے ایک ریٹائرڈ لانس نائیک نے جنرل مشرف کو خط لکھا تھا کہ پاک فوج کا سپہ سالار ہو نا بہت بڑا اعزاز ہے پھر ملک کا صدر بننا اس سے بڑا اعزاز ہے کیا آپ ان دو اعزازات کو بھول گئے کہ قومی اسمبلی کا رکن بننے کے لئے ایک ریٹائرڈ جے سی او، ایک ریٹائرڈ تحصیلدار اور ایک ریٹائرڈ میجر کے مقابلے پر آکر اپنی تصویر اپنی عزت اور اپنا نام خاک میں ملا نا چاہتے ہو ؟جنر ل مشرف نے لانس نائیک اشرف خان کے اس خط کا جواب دیا تھا یا نہیں اس پرکچھ کہنے کی ضرورت نہیں ملک کے تین حلقوں سے سا بق صدر کے کا غذات نا مزدگی مسترد ہو ئے چترال کے حلقہ این اے 32 سے کا غذات نا مزد گی منظور ہوئے تھے مگر مخالف فریق کی اپیل پر عدالت عالیہ نے کا غذات کو مسترد کر دیا اے پی ایم ایل نے کراچی سمیت ملک کے مختلف حلقوں سے اُمید وارنا مزدکئے تھے وہ سب بُری طرح شکست سے دوچار ہوئے صرف حلقہ این اے 32 چترال سے اے پی ایم ایل کا اُمیدوار شہزادہ افتخارالدین کا میا ب ہوا پھر2015کے بلدیا تی ابتخابات میں صرف چترال سے اے پی ایم ایل کے دو اُمیدوار شہزادہ خالد پرویز اور عبدالقیوم ڈسٹرکٹ کو نسل کے ممبر منتخب ہوے چترال سے اے پی ایم ایل کو صوبائی اسمبلی کی نشست پی ایف 90 پر بھی کا میابی ہوئی تھی حاجی غلام محمد کے خلاف عدالتی کا روائی میں مخالف اُمیدوار کا پلٹرا بھاری رہا چترال کے عوام نے جنرل مشرف کے ساتھ اپنی محبت کا اظہا ر جس والہا نہ انداز میں کیا تھا وہ بے نتیجہ ثا بت ہوا پارٹی کی تنظیم پر توجہ نہیں دی گئی پارٹی کے چیدہ کارکن دوسری پارٹیوں میں چلے گئے حاجی غلا م محمد نے جمعیہ العمائے اسلام (ف)میں شمولیت اختیار کی چیرمین فضل الرحمن عوامی نیشنل پارٹی میں شا مل ہو گئے جون ایلیا کہتا ہے ۔
کیا میری فصل کٹ گئی ہاں میری فصل کٹ گئی
کیا وہ جوان گزر گئے ہا ں وہ جوان گزر گئے
2013میں جب جنرل مشرف طویل جلا وطنی کے بعد وطن واپس آئے تو کرا چی اور اسلام اباد میں ان کے استقبال کے لئے کوئی نہیں گیا انہوں نے پارٹی قائدین سے وجہ پو چھی تو ان کو بتایا گیا کہ حکومت نے راستوں میں کنٹینر لگا کر کسی کو آنے نہیں دیا جنر ل مشرف نے اخبار نہیں منگوایا تاکہ تصدیق ہو جاتی انہوں نے پارٹی قیادت سے یہ نہیں پوچھا کہ کنٹینروں کو ہٹاتے ہوئے کتنے پارٹی کارکن گرفتار ہوئے ؟ ہمارا خیال ہے اب بھی جنر ل مشرف کے گرد خو شامدیوں کا ٹولہ مو جود ہے یہ لوگ الٹی سیدھی باتیں بنا کر اپنے قائدکو تصویر کا صرف ایک رُخ دکھا تے ہیں دوسرا رُخ نہیں دکھا تے تصویر کا دوسرا رخ یہ ہے کہ 2015اور 2017 کے درمیانی عرصے میں بہت سا پانی پلوں کے نیچے سے بہہ چکا ہے جنر ل مشرف کو جو حما یت 2013ء اور 2015میں چترال سے ملی تھی وہ حمایت اب نہیں ملے گی پاک فوج کے سابق سپہ سالار اور اسلامی جمہوریہ پاکستان کے سابق صدر کی ضما نت ضبط ہوئی تو یہ بہت بُرا ہوگا اور اس بار ضمانت ضبط ہونے کے’’ روشن امکانات‘‘ نظر آرہے ہیں

ایک با دشاہ تھا اس نے اعلان کیا کہ جو شخص مجھے ایسے کپڑے بنا کر دے جو نئے اسلو ب کے حامل ہوں تو اس شخص کو منہ مانگی رقم دیدونگا بہت سے جولا ہے اور درزی آئے بادشاہ کی شر ط پوری نہ کر سکے آخر میں ایک شخص آیا اُس نے کہا میں با دشاہ کے لئے نئے کپڑے بنا دونگا ان کپڑوں کی نمایاں خصوصیات یہ ہوگی کہ جس شخص کے نسب میں ذرہ برابر فرق ہوگا اس کو یہ کپڑے نظر نہیں آئینگے جب بھرے دربار میں بادشاہ آیاتو اس کے بدن پر درحقیقت کوئی کپڑا تھا ہی نہیں بادشاہ کے کپڑے اتار کر اُس کو باور کر ایا گیا تھا کہ تم نے نئے کپڑے پہن لئے جس کو یہ کپڑے نظر نہ آئیں اس کے نسب میں ضرورکھوٹ ہوگا بادشاہ کو بھی کوئی کپڑا نظر نہیں آرہا تھا مگر اُسے یقین تھا کہ کپڑے تو ٹھیک ہیں میرے نسب میں گڑبڑ ہے چنا نچہ وہ ’’قدرتی لباس‘‘میں باہر آیا جسم پر کوئی کپڑا نہیں تھا سب نے تالیاں بجا کر بادشاہ کے کپڑوں کی تعریف کی جنر ل مشرف کے بہی خواہوں اور مداحوں کو شبہ ہے کہ شاطر ،چالاک اور مکا ر درباری جنرل مشرف کے ساتھ بادشاہ والا معاملہ دہرا رہے ہیں اگر جنرل مشرف کا کوئی دوست اور ہمدرد ہے تو ان کوخیالات کی دنیا سے باہر آکر حقائق سے آگاہی حاصل کرنے کا مشورہ دے کہ خدا را!2015 والی غلطی دوبارہ نہ دھرائیں مزید غلطی کی گنجائش نہیں

سنا ہے کہ دہلی میں جنرل مشرف کا آبائی گھر بَلی ماروں میں مرزا غالب کے آس پاس کہیں واقع ہے گفتار غالب سے جنرل مشرف کو یقیناًآشنائی ہوگی ۔
ایمان مجھے روکے ہے تو کھینچے ہے مجھے کفر
کعبہ میرے آگے پیچھے ہے کلیسا میرے آگے
گو ہاتھ کوجُنبش نہیں آنکھوں میں تو دم ہے
رہنے دو ابھی ساغرو مینا میرے آگے

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔