کراچی میں مقیم گلگت بلتستان کے باشندوں کو تحفظ دیا جائے، سی پیک منصوبے میں گلگت بلتستان کو نظر انداز نہ کیا جائے: مظاہرین کا مطالبہ

کراچی میں مقیم گلگت بلتستان کے باشندوں کو تحفظ دیا جائے، سی پیک منصوبے میں گلگت بلتستان کو نظر انداز نہ کیا جائے: مظاہرین کا مطالبہ

7 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

کراچی (خبرنگارخصوصی) گلگت بلتستان کے طلباء و طالبات کی بے دردری سے قتل عام بند کیا جائے اور کراچی میں بسنے والے گلگت بلتستان کے طلباء و طالبات اور ملازم پیشہ افراد کو تحفظ دیا جائے ،سی پیک میں گلگت بلتستان گیٹ وے کی حیثیت رکھتا ہے جس پر سی پیک کے لئے ملنے والا رقم کاکم از کم 50فیصد گلگت بلتستان میں پاور ،معدنیات ،سیاحت ،فروٹس اوردیگر شعبوں میں لگایا جائے تاکہ گلگت بلتستان میں بے روزگاری اور غربت میں کمی آجائے اور آئینی حیثیت سے محروم گلگت بلتستان کومسئلہ کشمیر کے حل تک آزاد کشمیر طرز کا سیٹ آپ دیا جائے جہاں آپنا صدر ،وزیراعظم اور سپریم کورٹ ہو ۔

گزشتہ روزکراچی میں قراقرم نیشنل مومنٹ اورقراقرم سٹوڈنٹس آرگنایزیشن سندھ کے زیر اہتمام کراچی میں گلگت بلتستان کے طلبہ کے قتل عام و دیگر مسائل کے حوالے سے احتجاجی ریلی سرجانی ٹاون سے لیکر کراچی پریس کلب تک نکالی گی۔جسکی قیادت KNM سندھ کے صدر رحمت دین،جنرل سکریٹری کریم حسین،مرکزی رہنما فقیر حسین چانڈیو نے کی۔ مظاہرین میں گلگت بلتستان سے تعلق رکھنے والے طلباء و طالبات اور کثیر تعداد میں دیگر افراد نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔ مظاہرین نے بینرز اور پلے کارڈز اٹھائے ہوئے تھے جس میں گلگت بلتستان کے عوام کو سی پیک میں نظراندازکرنے اور کراچی میں دہشتگردوں کے ہاتھوں گلگت بلتستان کے طالب علموں کے قتل کے خلاف نعرے درج تھے۔

ریلی سے KNM سندھ کے صدر رحمت دین نے خطاب کرتے ہوے کہا کہ گلگت بلتستان سی پیک کے کا گیٹ وے ہے اور اس خطہ کاچھ سو سے زاید کلو میٹر علاقہ سی پیک کے زد میں آ رہا ہے ،جسے یکسر نظر انداز کیا جارہاہے جو کہ خطہ قراقرم کے عوام کے ساتھ زیادتی ہے اور اس ظلم کی پر زور مزمت کرتے ہیں۔انہوں نے مطالبہ کرتے ہیں کہ GB کے عوام کو خصوصی حق دیا جائے ورنہ،نہ روکنے والا احتجاج شروع کیا جائے گا۔

جنرل سکریٹری KNMسندھ کریم حسین نے خطاب کرتے ہوے کہا کہ گلگت بلتستان میں سہولیات کی فقدان اور گھر کی دہلیز پر میسرنہ ہونے کی وجہ سے گلگت بلتستان کے عوام اور بالخصوص طلباء و طالبات شہروں کا رخ کرتے ہیں،جہاں پر جان و مال عدم تحفظ کا شکار ہیں ۔آے روز کراچی میں گلگت بلتستان کے طالب علموں اور ملازموں کا قتل عام کیا جارہا ہے جسکی ہم مزمت کرتے ہیں اور مطالبہ کرتے ہیں کہ قاتلوں کو گرفتار کر کے پھانسی پر لٹکایا جا ئے اور آئندہ ایسے وقعات رونماء ہوئے تو سندھ کے حکومت اس کی ذمہ دار ہوگی ۔

احتجاجی ریلی سے خطاب کرتے ہوے KNM کے مرکزی رہنما فقیر حسین چانڈیو نے کہاکہ حکمران 70 سالوں سے سیاسی و قانونی حقوق دینے میں یکسر ناکام ہوچکی ہیں اور آے روزآئینی صوبے کے نام پر عوام کو بیوقوف بنانا بند کرے، اقوام متحدہ کے زیر اہتمام استصواب راے تک کشمیر طرز کا سیٹ اپ دیا جائے جہاں پراپنا صدر،وزیراعظم،سپریم کورٹ جھنڈا اور قومی ترانہ سٹیٹ سبجیکٹ رول کی بحالی اور مقامی لوگوں کو بیوروکریسی کے تمام اعلی عہدوں پرتعینات کیا جاے گا۔

انہوں نے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ تمام سیاسی اسیروں کو بلامشروط رہا کیا جائے اور KNMکے مرکزی چیرمین محمد جاوید اور سابق چیرمین ایدوکیٹ ممتاز نگری و دیگر سیاسی رہنماوں کے نام شیدول فوتھ سے نکالا جائے اور پرامن سیاسی سرگرمیوں پر پابندیفل فور ختم کئے جائیں اور سی پیک میں جی بی کو خصوصی حصہ دیا جائے ۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔