زندہ لوگ

زندہ لوگ

11 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

ہمیں چلنا نہیں آیا اب تک گھٹنوں کے بل ہی چلتے ہیں ،لوگ کہتے ہیں کب آئیگا چلنا تمہیں کیوں نہیں سیکھتے ہو زمانے کی چالیں۔بڑی ہی آسان اور سہل ہیں یہ۔ بہت جلد سڑھیاں چڑھنی پڑتی ہیں ۔اور اب یہ چالیں کیسی ہیں ان سے کون  واقف نہیں ۔۔نا سمجھ ہیں تو بس ایک ہم  ۔بڑی ہی کوششیں کی ان چالوں کو سیکھنے کی اور ہر بار ناکامی،ایک دوست نے مشورہ دیا۔ یار تمھارا دل نہیں کرتا کہ کوئی عہدہ تمھارے پاس ہو۔ میں بولا کیوں نہیں۔ بڑا دل کرتا ہے کہ میں بھی مشہور ہو جائوں میرا بھی نام ہو۔وہ بولا بس اس کی ایک آسان ترکیب ہے ۔اس کے لئے ایک گُر ہی سیکھنا ہے باقی کام خود بخود ہونا شروع ہوتے ہیں ۔گرُ کیسا گرُ ۔کئی گرُ تو اپنائے ہیں اسے پانے کے لئے۔وہ بولا ذرا ہم بھی تو جانے کہ آپ نے کونسے گرُ استعمال میں لائے ہیں ۔ ایک ہو تو بتائوں  اہنے میاں مٹھو سے لیکر سلیفیوں  تک سارے ۔ ارے بابا یہ سب بے کار ہیں آپ تو اصل گرُ تک ابھی پہنچے ہی نہیں ہو ۔میں حیران اس کی طرف دیکھتا رہا اور ان سے کہا جی حضور اب آپ ہی وہ کار آمد گرُ بتا ہی دیں ۔

وہ بولا آپ ضمیر سے واقف ہیں؟  ارے کون وہی نا کریم کا بیٹا محمد ضمیر جو آج کل  لندن میں ہیں؟

اوہ  یہی تو تمھارا سب سے بڑا مسلہ ہے تم بات کو دیر سے سمجھتے ہو میں اس ضمیر کی بات نہیں کر رہا ہوں میں تو انسانی ضمیر کی بات کر رہا ہوں جو آپ اور ہمارے اندر رہتا ہے ۔

ارے ہاں بہت پہلے بھی کسی نے یہی کہا تھا کہ ضمیر نام کی کوئی چیز انسانوں کے اندر ہوتی ہے ارے بابا یہ ہوتی نہیں ہے ہوتا ہے۔چھوڑو یار یہ ہوتی اور ہوتا سے کیا ہوتا ہے۔کیوں نہیں ہوتا ہے بڑا فرق پڑتا ہے اس سے ۔ جہاں دیکھو مذکر کو مونث اور مونث کو مذکر استعمال کرتے ہو۔بھائی آپ میری مذکر اور اور مونث درست کر رہے ہو جبکہ زمانہ آج کل اس ریت سے آزاد ہی ہے۔بس یہی مسلہ ہے آپ کے ساتھ تم اپنے اس ضمیر کے ساتھ ہی رہوگے کبھی نہیں سوچوگے اس کا ساتھ چھوڑنا اور جب تک یہ تمھارے ساتھ چمٹا رہیگا تم ایسے ہی رہوگے۔کیوں میں نے کوئی غلط بات کہی جو یہ کہہ رہے ہو ۔جی ہاں بلکل غلط بلکہ نا زیبا یہ بھی کوئی بات ہے کہنے کہ مذکر اور مونث کی ریت نہیں رہی اگر آپ نے آگے بڑھنا ہے تو یہ تنقیدی جملے کہنا بند کردو نہیں تو سب کی تنقید کا نشانہ بنوگے۔

خیر چھوڑیں ان باتوں کو ہاں تو میں کہہ رہا تھا کہ ہر انسان کے اندر ایک ضمیر ہوتا ہے اور آپ کے اندر جو ضمیر ہے ابھی تک جاگا ہوا ہے اور جب تک یہ سوئے گا نہیں آپ کا شہرت پانا ، دولتمند بنا اور کوئی عہدہ پانا بڑا ہی مشکل ہے وہ زمانہ گیا جب اس کی قدر تھی اب زمانہ بدل گیا ہے اب اس ضمیر شمیر کا کوئی کام باقی نہیں رہا ہے اس لئے  جتنی جلدی ہو سکے اس ضمیر سے جان چھڑائیں نہیں تو کہیں کے نہیں رہوگے ہاں ایک بات ہے کہ جب تمھارا انتقال ہوگا تو ایک جملہ ضرور بولا جائیگا کہ مرنے والا شخص ایک باضمیر انسان تھا ۔اور شائد اسی کا نام عزت ہے جسے پانے اور اس کے حصول کے لئے لوگ زندگی کے بدلے بھی ضمیر کا سودا نہیں کرتے۔اور یہی حقیقی کامیابی ہے اور جس نے یہ گرُ سیکھا وہی انسان زندوں میں شمار ہوگا ۔

ابھی تک صحرا سے صدا آر ہی ہے
یہ نہ سمجھنا کہ سارے مور مر گئے

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔