چترال کے وادی کوہ میں دریا پر پُلوں کی خستہ حالی کسی بھی وقت حادثے کا باعث بن سکتا ہے

چترال کے وادی کوہ میں دریا پر پُلوں کی خستہ حالی کسی بھی وقت حادثے کا باعث بن سکتا ہے

47 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

چترال(گل حماد فاروقی) چترال کے علاقے وادی کوہ میں دریائے چترال پر جھولا پل اکثر حراب ہیں بعض پل نہایت پرانے اور بوسیدہ ہیں جو کسی بھی وقت کسی بڑے حادثے کا باعث بن سکتا ہے۔ ماضی میں بھی ان پلوں کی وجہ سے کئی قیمتی جانیں ضائیع ہوچکی ہیں مگر حکومت نے ابھی تک ہوش کے ناحن نہیں لئے ہیں۔
وادی کوہ میں برغوزی گاؤں کو جانے والا پل 1993میں تعمیر ہوا تھا اس کے بعد اس پل پر کوئی کام نہیں ہوا ہے۔رضوان اللہ ایڈوکیٹ کا تعلق اسی گاؤں سے ہے جہاں سے وہ روزانہ پل پر سے گزرتا ہے۔
رضوان اللہ کا کہنا ہے کہ یہ پل قاضی حسین احمد جب سنینٹر تھے انہوں نے بنایا اس کے بعد کسی نے اس کی مرمت یا توسیع پر توجہ نہیں دی۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایک مقامی ناظم نے اس کی مرمت کیلئے دو لاکھ روپے کا فنڈ دیا تھا مگر اس کے ٹھیکدار نے اس فنڈ کو بھی ہڑپ کیا اور اس میں کوئی حاص کام نہیں ہوا۔ انہوں نے کہا کہ اس کا محکمہ بھی ٹھیکدار سے نہیں پوچھتا کہ وہ فنڈ کہاں اور کیسے خرچ ہوا۔ 
اس پل کے دونوں جانب سڑک کے کنارے دریا کی طرف نہ کوئی حفاظتی دیوار ہے نہ جنگلہ۔ اگر خدانحواستہ کسی گاڑی کا بریک فیل ہوا تو سیدھا دریا میں گرنے کا حطرہ ہے اور دریا انتہائی گہرا ہے جس سے لاشیں نکالنا بھی مشکل ہے۔ 
مقامی لوگوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ برغوذی کے مقام پر دریا پر آر سی سی پل کو تعمیر کیا جائے اور موجودہ پل کی مرمت میں جو فنڈہضم ہوا ہے اس کی تحقیقات کی جائے کہ وہ فنڈ کہاں خرچ ہوا۔
واضح رہے کہ اس پل سے جاتے ہوئے سڑ ک انتہائی حطرناک ہے اور نہایت چڑھائی پر واقع ہے جس کے کنارے کوئی حفاظتی دیوار بھی نہیں ہے 

برغوذی وادی حکام کی آنکھ سے اوجھل ۔ صرف بیس کلومیٹر دور اس وادی میں سرکاری کی طرف سے صرف ایک مکتب سکول کا استاد اور ایک حستہ پل ہے۔ 
چترال(گل حماد فاروقی) چترال شہر سے صرف بیس کلومیٹر دور برغوذی وادی حکام کی دائیں آنکھ سے ابھی تک اوجھل رہی ہے۔ یہ وادی 700 افراد پر مشتمل ہیں جہاں تین سو رجسٹرڈ ووٹ ہیں مگر ابھی تک اس وادی میں نہ تو کوئی سکول ہے نہ کالج (مردانہ یا زنانہ) نہ ہسپتال ہے نہ سڑک، نہ بجلی نہ ٹیلیفون ۔
اس وادی سے آل پاکستا ن مسلم لیگ کا واحد منتحب جنرل کونسلر احمد خان جو سابق صدر پاکستان پرویز مشرف کا شیدائی ہے وہ یہاں سے منتحب ہوا ہے مگر اس کا رونا یہ ہے کہ ابھی تک اسے کوئی فنڈ نہیں ملا تاکہ وہ اپنے وادی کی سڑک تو بناسکے۔
وادی برغوذی میں ایک غیر سرکاری ادارے کی تعاون سے صرف ایک پن چکی ہے جو وادی بھر کے لوگوں کا آٹا پھیستا ہے۔ 
فیض احمد جو پن چکی چلاتا ہے کا کہنا ہے اگر حکومت میرے ساتھ تعاون کرے تو میں اس پانی سے پن بجلی گھر بھی بنا سکتا ہوں۔ ان کا کہنا ہے کہ میرے پن چکی کیلئے پائپ کے ذریعے پانی کافی اونچائی اور دور سے آیا ہے جو ایک ٹربائن کو آسانی سے چلا سکتا ہے۔ یہ وادی پچھلے دو سالوں سے بجلی سے مکمل طور پر محروم ہیں کیونکہ ریشن بجلی گھر سیلاب کی وجہ سے سال 2015 میں تباہ ہوا تھا اس وقت سے اس پورے علاقے میں بجلی نہیں ہے۔
گاؤں میں ٹھنڈے اور صاف دودھیا پانی کا تو چشمے موجود ہیں مگر اکثر لوگ پانی سے محروم ہیں کیونکہ اس پانی کو پائپ لائن کے ذریعے لانا پڑتا ہے جو ابھی تک کسی نے نہیں کیا۔
اس گاؤں میں سرکار نے صرف ایک ہی مہربانی کی ہے کہ یہاں کے مسجد میں قائم مکتب سکول کیلئے ایک استاد کو تنخواہ دے رہا ہے جو 34 بچوں اور بچیوں کو مسجد میں پڑھاتا ہے۔ ایک معصوم بچی مسکان جو تیسری جماعت میں پڑتھی ہے کا کہنا ہے کہ میں رات کو اکثر یہ سوچتا ہوں کہ تیسری جماعت پاس کرنے کے بعد میں مزید تعلیم کیسے حاصل کرسکوں گی کیونکہ میرے علاقے میں کوئی زنانہ سکول نہیں ہے۔ اور ایک پیاری سی بچی صائمہ کہتی ہے کہ جب بارش ہوتا ہے تو اس مسجد کا چھت بھی ٹپکتا ہے جو بہت پرا نا ہے اور راستوں میں کیچڑ کی وجہ سے ہم سکول بھی نہیں آسکتے ۔ 
اس وادی میں نہایت ٹھنڈے اور صاف پانی کے قدرتی چشمے موجود ہیں جو ایک ندی میں بہتے ہوئے گاؤں سے گزرتی ہے اور اگر حکومت یہاں راستے اور ضروری سہولیات فراہم کرے تو یہاں سیاحوں کا تانتا بنے گا جو یقینی طور پر اس علاقے کی معیشت پر نہایت مثبت اثرات ڈال سکتے ہیں۔ 
منتحب کونسلر احمد خان کا کہناہے کہ میرے ساتھ آل پاکستان مسلم لیگ کی جانب سے بھی کوئی امداد نہیں ہوا ہے اگر میر ی پارٹی ہی میری مدد کرے تو میں اگلے انتحابات میں پرویزمشرف کے پارٹی کیلئے بڑا سیٹ بھی جیت سکتا ہوں۔ 
علاقے کے لوگوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وادی برغوذی میں سڑک، سکول، کالج، ہسپتال کے ساتھ ساتھ ایک پن بجلی گھر بھی تعمیر کرے تاکہ اس وادی کو اندھیروں سے نکالا جاسکے اور ان کی زندگیوں میں بھی اجالا آجائے۔ 

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔