گلگت بلتستان میں مقامی زبانوں کا تحفّظ

گلگت بلتستان میں مقامی زبانوں کا تحفّظ

14 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

اشتیاق احمد یاد

مادری زبانوں کا تحفّظ قومی غیرت اور قومی شناخت کا معاملہ ہے۔اِن زبانوں کے مٹ جانے کا مطلب تاریخی اثاثے، اجتماعی دانش، تہذیب وتمدّن، عِلم و فکر، نظریات، دیومالائی داستانوں، لوک کہانیوں اور اساطیر کے مٹ جانے کے مترادف ہے۔ماہرینِ لسانیات و ماہرینِ تعلیم کا یہ باقاعدہ تحقیقی نقطۂ نظر ہے کہ مادری زبان کے تحفّظ اور ترویج کا بہترین ذریعہ مادری زبان میں تعلیم دینا ہے۔اِن ماہرین کا یہ کہنا بھی ہے کہ بچوں کو مادری زبان میں تعلیم دینا، موثر آموزش (Effective Learning) اور تصوّرات کی حقیقی سمجھ کیلئے ناگزیر ہے۔

آئینِ پاکستان کے باب 2، آرٹیکل28کے مطابق زبان اور ثقافت کا تحفّظ پاکستانیوں کا بنیادی انسانی حق ہے۔ اور اِسی تناظر میں پاکستان’’ڈاکار فورم2001ء‘‘کا باقاعدہ حصّہ بھی ہے۔جس کے مطابق پاکستان کی ریاست اور حکومت یہاں کی زبانوں اور ثقافت کے تحفّظ کے پابند ہیں۔’’گلگت بلتستان کی تعلیمی حکمتِ عملی2015-2030 ‘‘میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ ’’ متعلقہ سکول اور وہاں کی کمیونٹی کی خواہش کو مدِ نظر رکھتے ہوئے گلگت بلتستان کے تعلیمی اداروں میں ابتدائی تعلیم ،طالب علموں کی مادری زبان میں دی جائے گی۔ پھرمرحلہ وار اُردو اور انگریزی زبان کی جانب بڑھا جائے گا۔‘‘

ورلڈ بینک کی تحقیق2004ء سے یہ حقیقت آشکار ہوجاتی ہے کہ ’’طالب علموں کو بنیادی تصورات کے سمجھ نہ آنے، بار بار فیل ہونے اور سکول چھوڑنے کے اسباب میں سب سے بنیادی سبب درس و تدریس کے عمل میں مادری زبان اور ثقافت کو نظر انداز کرنا ہے‘‘۔جبکہ یونیورسٹی آف ٹورنٹو کے Jim Cummins کے مطابق’’درس و تدریس کے عمل میں ایک بچے کی مادری زبان کو رد کرنا گویا اُس بچے کو رد کرنا ہے‘‘۔

گلگت بلتستان کا سماج’’زبانی کلامی سماج (Oral Society)‘‘رہا ہے اور کافی حد تک اب بھی ایسا ہی ہے۔تاریخ شاہد ہے کہ یہاں کے باسیوں میں بالخصوص لکھنے اور بالعموم پڑھنے کا رُجحان نہ ہونے کے برابر رہا ہے۔جبکہ مادری زبانوں میں پڑھنے لکھنے کے عمل کی بات کی جائے تو اِس میں قحط الرجال رہا ہے۔گلگت بلتستان کی مادری زبانوں پر سب سے اوّلین ، بنیادی اور اہم کام غیر ملکی ماہرین نے انجام دیا ہے۔انہوں نے ایسی ٹھوس بنیادیں قائم کیں جن پر آج عمارتیں تعمیر کی جارہی ہیں۔اُن کے کلیدی کام کو خراجِ تحسین پیش کرنا ہم سب کا فرض ہے۔اُن کو خراجِ تحسین پیش کرنے کا ایک طریقہ یہ ہو سکتا ہے کہ مستقبلِ قریب میں قائم ہونے والی مُجوّزہ’’گلگت بلتستان لینگویجز اکیڈمی‘‘ کی عمارت میں اُن کیلئے ایک مخصوص گیلری قائم کی جا سکتی ہے۔مادری زبانوں کی بہتری کیلئے خدمات انجام دینے والے مقامی قلم کاروں اور ادیبوں کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ہے۔جنہوں نے غیر ملکی ادیبوں کی مدد اور اپنی مدد آپ کے تحت اس حوالے سے کارہائے نمایاں انجام دیئے ہیں اور اب بھی دے رہے ہیں۔ اِن کی گراں قدر خدمات کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اِنہوں نے شنا، بلتی، بروشسکی، کھوار اور وخی زبانوں پر سو کے لگ بھگ تحقیقی، لسانی ، ادبی، سماجی اور ثقافتی کتابیں لکھی ہیں۔

گلگت بلتستان کی مقامی زبانوں پر قراقرم انٹرنیشل یونیورسٹی گلگت تحقیقی اور اشاعتی کام احسن انداز سے سر انجام دی رہی ہے۔ جبکہ علّامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کا شعبہء پاکستانی زبانیں اور ادب بھی ان زبانوں کے تحفّظ کے لیے اہم کردار ادا کررہا ہے۔ان جامعات کی اس قومی نوعیّت کی خدمت کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جارہا ہے۔تاہم ان جامعات کے اس اہم کام کو وُسعت دینے کی ضرورت بھی محسوس کی جارہی ہے۔
یہ ایک مسلّمہ حقیقت ہے کہ ریاستی اور حکومتی سرپرستی اور تعاون کے بغیر گلگت بلتستان کی مقامی زبانوں کا تحفّظ ناممکنات میں سے ہے۔کفر ٹوٹا خدا خدا کرکے ، کے مصداق موجودہ حکومت، اعلیٰ سرکاری اہلکار اور متعلقہ اداروں نے اس ضمن میں سائنسی بنیادوں پر عملی کام کا آغاز کردیا ہے۔ 2015 میں گلگت میں منعقدہ بین الصوبائی وزرائے تعلیم کانفرنس میں فیصلہ کیا گیا تھا کہ گلگت بلتستان کے تعلیمی اداروں میں مادری زبانوں میں تعلیم دی جائے گی۔ اس مقصدکے حصول کے لیے حکومت بھر پور وسائل فراہم کرے گی۔ اپنی نوعیّت کی اس اہم کانفرنس میں وفاقی وزیر تعلیم انجینئر بلیغ الر حمن صاحب اور وزیر اعلیٰ وگورنر گلگت بلتستان سمیت پاکستان بھر سے وزرائے کرام ، اعلیٰ سرکاری اہلکار اور ماہرینِ تعلیم نے شرکت کی تھی۔

مادری زبانوں کو نصابِ تعلیم میں شامل کرنے کے حوالے سے ایک اہم قدم، رکن گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی ریحانہ عابدی صاحبہ کا 2016 میں اسمبلی میں ایک بِل پیش کرنا تھا۔ جسے اتّفاقِ رائے سے منظور کیا گیا تھا۔ یہ عمل ریحانہ عابدی صاحبہ اور اسمبلی کے اراکین کا مقامی زبانوں سے محبت کا بیّن ثبوت ہے۔

آج سے تقریباََ نو ماہ قبل وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن صاحب کی جانب سے سی ایم ہاؤس گلگت میں ادب، ثقافت اور مقامی زبانوں کے حوالے سے اہم اجلاس منعقد کیا گیا۔اِس تاریخ ساز اجلاس میں گلگت بلتستان کی تمام ادبی تنظیموں کے نمائندوں نے شرکت کی۔اِس موقع پر وزیر اعلیٰ نے کہا کہ میری خواہش اور عملی کوشش ہے کہ گلگت بلتستان کی ادب، ثقافت اور مقامی زبانوں کی آبیاری کیلئے پیشہ ورانہ اور سائنسی بنیادوں پر عملی طور پر کام کا آغاز کیاجائے۔انہوں نے اہلِ قلم سے مخا طب ہوتے ہوئے کہا کہ یہ تب ہی ممکن ہے جب آپ سب کا بھرپور تعاون ہمارے ساتھ شامِل حال رہے۔ وزیر اعلیٰ نے مزید کہا کہ گلگت بلتستان کی ثقافت اور زبانوں کا تحفّظ، ترویج اور ترقی ہماری اوّلین ترجیحات میں شامل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے منشور کے بنیادی نکات میں خطّے کی تمام مقامی زبانوں بالخصوص شنا، بلتی، بروشسکی ، کھوار اور وخی کا تحفّظ شامل ہے۔ اس قومی نوعیّت کے عزم کو عملی صورت دینے کے لیے ہم نے 2017-18کیADP میں5کروڑ کی خطیر رقم مختص کی ہے جسکا پہلا مقصد مقامی ماہرینِ لسانیات اور ادیبوں کے تعاون سے گلگت بلتستان کی پانچ زبانوں میں درس و تدریس کیلئے نصاب کی تشکیل اور نفاذ ہے۔دوسرا مقصد مقامی زبانوں میں تحقیق اورکُتب کی اشاعت کیلئے’’گلگت بلتستان لینگویجز اکیڈمی‘‘کا قیام عمل میں لانا ہے۔وزیر اعلیٰ نے اُس اجلاس میں مقامی زبانوں کی ترقی کے علاوہ اُردو ادب(Literature)کو بھی بھرپور انداز میں پروان چڑھانے کیلئے گلگت میں قومی سطح کے ’’ادبی میلے‘‘کے انعقاد کا اعلان کیا۔اور کہا کہ اس ادبی میلے میں پاکستان کے تمام صوبوں کے شعرائے کرام اور ادباء شریک ہونگے۔جس میں ماہرین کی جانب سے ادب اور مقامی زبانوں پر تحقیقی مقالے پیش کئے جائیں گے،محفلِ مشاعرے منعقد ہونگے اور کتابوں کے سٹالز لگائے جائیں گے۔ ادبی میلے کے احسن طریقے سے انعقاد کیلئے مقامی ادیبوں پر مشتمل ایک کمیٹی بھی تشکیل دی گئی۔وزیرِ اعلیٰ نے اس موقع پر یہ خوش خبری بھی دی کہ گلگت بلتستان میں جلد ’’اکادمی ادبیات پاکستان‘‘ کی شاخ کھولی جائے گی۔ اجلاس میں شریک ادبی تنظیموں کے نمائندوں نے ان اقدامات کو ادب اور ثقافت دوست قرار دیا۔اِس موقع پر حلقہء اربابِ ذوق گلگت کے جنرل سیکریٹری جمشید خان دکھی صاحب نے اجلاس میں شریک ادیبوں کی نمائندگی کرتے ہوئے ادب کے فروغ اور ادیبوں کے حقوق کے تحفظ کیلئے وزیر اعلیٰ کو ایک قرارداد بھی پیش کی ۔جس پر عمل در آمد معاشرے کے وسیع تر مفاد اور ادب کے فروغ کیلئے ناگزیر ہے۔

بعد ازاں وزیر اعلیٰ کی ہدایت پر چیف سیکریٹری گلگت بلتستان ڈاکٹر کاظم نیاز صاحب نے ’’گلگت بلتستان لینگویجز اکیڈمی‘‘ کے قیام کیلئے اعلیٰ سرکاری اہلکاروں پر مشتمل ایک کمیٹی بھی تشکیل دی۔اس کمیٹی کے ممبر سیکریٹری واٹر اینڈ پاور گلگت بلتستان ظفر وقار تاج صاحب جو بذاتِ خود ایک نامور شاعر اور ادیب بھی ہیں کو نصاب سازی و لینگویجز اکیڈمی کے قیام کی کلیدی ذمہ داری سونپی گئی۔نصاب سازی کا براہِ راست تعلق محکمہء تعلیم گلگت بلتستان سے ہے اس لئے سیکریٹری تعلیم گلگت بلتستان ثناء اللہ صاحب اور ان کی ٹیم کو بھی اہم ذمہ داری دی گئی۔چیف سیکریٹری اور اِس کمیٹی کے دیگر معزز ممبران کی مشاورت کے بعد ثناء اللہ صاحب اور ظفر وقار تاج صاحب نے مقامی زبانوں میں نصاب سازی کیلئے پانچ زبانوں کے ماہرینِ لسانیات اور ادیبوں پر مشتمل ایک سربراہ کمیٹی جبکہ ہر زبان کیلئے الگ الگ ذیلی کمیٹیاں تشکیل دیں۔پچھلے سات ماہ سے یہ کمیٹیاں ظفر وقار تاج صاحب کی سربراہی میں اس حوالے سے خدمات انجام دے رہی ہیں۔یہ امر نہایت طمانیت کے باعث ہے کہ ان کمیٹیوں کے اراکین حروفِ تہجّی اور نظامِ لکھائی پڑھائی(Orthography)پر متّفق ہوچکے ہیں اور پہلے مرحلے میں شینا زبان کی کمیٹی نصاب سازی کے عمیق، گنجلک اور تاریخ ساز کام میں انہماک و ارتکاز کے ساتھ جُڑی ہوئی ہے۔ نتیجے کے طور پراوّل ادنیٰ جماعت سے لیکر تیسری جماعت تک شنا زبان کی کتابوں کا مسوّدہ تیار ہوچکا ہے۔دسمبر2017ء کے آخر تک پانچویں جماعت تک شنا زبان میں نصاب کی کتابیں تیار کی جائیں گی اور اگلے اکیڈمک سیشن میں یہ کتابیں گلگت بلتستان کے سرکاری سکولوں میں باقاعدہ درس و تدریس کا حصّہ ہونگی۔ مستقبلِ قریب میں شینا زبان کی نصابی کتابوں کو سامنے رکھتے ہوئے بلتی، بروشسکی، کھوار اور وخی زبانوں کی کمیٹیوں کے اراکین اپنی اپنی زبانوں میں نصاب سازی کا عمل مکمل کریں گے۔
گلگت بلتستان کی مقامی زبانوں میں ایک زبان ’’ڈوماکی‘‘ ہے۔ جو معدومیّت کی صورتِ حال سے دوچار ہے۔ اس زبان پر تحقیقی کام کرنے اور معدومیّت کی صورتِ حال سے نکالنے کی اشد ضرورت ہے۔ جبکہ گوجری زبان بھی اربابِ بست و کُشاد کے توجہ کی متقاضی ہے۔
لسانیات (Linguistics) نے باقاعدہ ایک سائنس کی صورت اختیار کی ہے۔ اس سائنس کے لوازمات کے اندر رہتے ہوئے مادری زبانوں کے تحفّظ اور ترویج کیلئے خدمات انجام دینا وقت کی سب سے اہم ضرورت ہے۔

ماہرینِ لسانیات نے ’’مادری زبان کی بنیاد پر کثیرالّسانی تعلیم Multilingual Education-MTB-MLE Mother Tongue Based – ‘‘ نصاب سازی کے عمل اور درس و تدریس کے لیے لازمی قرار دیا ہے ۔ جس کے مطابق طالبعلموں کو ابتدائی تعلیم مادری زبان میں جسے L1 پھر قومی زبان میں جسےL2 اور پھر انگریزی زبان میں جسے L3 کہا جاتا ہے ،میں دی جانی ضروری ہے۔ MTB-MLE ایک باقاعدہ سائنسی اور فنّی عمل کا نام ہے اور انتہائی ماہرانہ اور پیشہ ورانہ مہارت کا متقاضی ہے۔ پاکستان میں اس شعبے میں مہارت رکھنے والے اداروں اور شخصیات کی تعداد اُنگلیوں میں گنی جا سکتی ہے۔ فورم فار لینگویج اِنِیشیٹیو – اسلام آباد، اُن اداروں میں ایک ہے۔ جو اس شعبے کے علاوہ گلگت بلتستان، آزاد کشمیر ، کوہستان اور کے پی کے، کی مقامی زبانوں کے تحفّظ، ترویج اور ترقی کے لیے بیس سالوں سے تحقیق، استعدادِ کار میں اضافے اور اشاعت میں کلیدی کردار ادا کر رہا ہے۔ میری ذاتی رائے ہے کہ گلگت بلتستان میں مقامی زبانوں میں جاری نصاب سازی کے عمل کو MTB-MLE کے تکنیک کے سانچے میں ڈھالنے کے لیے وقتاََ فوقتاََ ا س ادارے کی خدمات لینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ بصورتِ دیگر فنّی مسائل کے جنم لینے کا احتمال ہے۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔