نصاب میں اخلاقیات

ڈاکٹر عنایت اللہ فیضیؔ

اٹھارویں ترمیم کے بعد صوبوں کو نصاب سازی کا اختیار ملا توماہرینِ تعلیم نے اِس پر خوشی کا اظہار کیا ہر صوبہ اپنی صوابدید اور اپنے ماحول کے مطابق تعلیمی نصاب بنانے کے قابل ہوا 2012ء میں خیبر پختونخوا کی حکومت نے 5 مادری زبانوں کو اوّل سے بارھویں جماعت تک نصاب میں شامل کرنے کا قانون منظور کیا2017ء میں خیبر پختونخوا حکومت نے نیا سنگِ میل عبور کرتے ہوئے نصاب میں اخلاقیات کو جگہ دینے کی منظوری دی ابتدائی طور پر جو منصوبہ سامنے آیا ہے اُس کی بسم اللہ ہی بسم اللہ سے ہوتی ہے نصاب میں بچوں کو تربیت دی جائیگی کہ کھانا کھانے سے پہلے بسم اللہ پڑھیں کھانے سے پہلے ہاتھ دھوئیں اور داہنے ہاتھ سے کھائیں اس حوالے سے اخلاقیات کے نصاب کی جو جھلکیاں اخبارات میں شائع ہوئی ہیں اُن سے اندازہ ہوتا ہے کہ حکومت سکولوں کے نصاب کو وقت کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے میں مخلص ہے جو موضوعات تجویز کی گئی ہیں اُن میں سڑک پر چلنے اور زیبرا کراسنگ کو پار کرنے کے آداب، ٹریفک قوانین کی پابندی، پبلک مقامات پر گھومنے پھرنے کے آداب، کوڑا کرکٹ کو ٹھکانے لگانے کے طریقے،بینکوں ، ڈاکخانوں ، بس اسٹیشنوں اور دیگر عوامی جگہوں پر قطار بنانے کے طریقے بھی شامل کئے گئے ہیں۔ تجاویز میں یہ بھی لکھا گیا ہے کہ نصاب کے ذریعے بچوں کو یہ بھی بتایا جائے گاکہ تمباکو نوشی صحت کے لئے مضر اور اخلاقی برائی ہے دیگر موضوعات میں والدین کا ادب ،اساتذہ کا احترام ،بڑوں کا ادب، ہمسایوں کی خدمت ، معذوروں کی مدد، سلام کی عادت ،جانوروں اور پرندو پر رحم،بجلی اور گیس کو ضائع ہونے سے بچانے کی عادت،اجنبی لوگوں اور مسافروں کا احترام، مسکرانے کی عادت،برداشت اور تحمل کی عادت، کسی سے اختلاف کرنے کے آداب،روزانہ ورزش کی اہمیت ، موبائل فون استعمال کرنے کے آداب، ریڈیو ، ٹی وی اورلاؤڈ اسپیکراستعمال کرنے کے آداب وغیرہ سمیت 62موضوعات کا احاطہ کیا گیا ہے یہ نصاب اگر مرتب ہوا تو قوم کے بہتر مستقبل کی ضمانت ہوگی اور یہ حکومت کا تاریخی کارنامہ تصور کیا جائے گامگر وہ جو شاعر نے کہا ہے’’ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں‘‘ اب اِس تجویز کو ایک ایسی جگہ پر قید کیا جائے گا جس کا نام سرد خانہ ہے خدا کرے اِس تجویز کو سرد خانے میں طویل عرصہ تک قیدو بند میں نہ رہنا پڑے آگے ایسے مراحل ہیں جن میں سے ہر مرحلہ ایک کوہِ قاف ہے مثلاََ تجویز کو عملی اقدامات کے لئے شعبۂ نصاب سازی و تربیت اساتذہ ایبٹ آباد (DCTE)کو بھیجا جائے گا جہاں نصاب سازی کا مرحلہ طے ہوگا ہر موضوع کے اہداف مقرر ہوں گے اور اہداف کی روشنی میں نصاب کے خدوخال تجویز کئے جائیں گے اس کام میں کم از کم ایک سال لگے گا نصاب تیا ر ہونے کے بعد ٹیکسٹ بُک
بورڈ کا کام شروع ہوگا ٹیکسٹ بُک بورڈ کے پاس بھلے وقتوں میں ماہرینِ مضمون ہوتے تھے لکھاریوں کا پینل ہوتا تھا ماضی صوفی غلام مصطفی تبسم ؔ ،حفیظ جالندھریؔ ،احمد ندیم قاسمیؔ ، پروفیسر خاطر غزنویؔ ،پروفیسرطٰہٰ خان اور پروفیسر اشرف بخاری ؔ کی طرح نامور لوگ اس پینل میں ہوا کرتے تھے وقت گزرنے کے بعد ٹیکسٹ بُک بورڈ میں بھی چچا، ماموں قسم کے لوگ جمع ہوگئے اورلکھاریوں کے پینل میں بھی گائیڈ اور پاکٹ بُک لکھنے والوں میں سے بھانجے، بھتیجے آگئے 2005ء سے 2017ء تک 12سالوں کے دوران جو نصابی کتابیں پشاور ، صوابی اور مردان سے شائع کی گئیں ان کا معیا ر انتہائی پست رہا ان میں نہ متن کی کوئی خوبی ہے نہ درست کمپوزنگ اور پروف ریڈنگ ہو ئی ہے نہ طباعت کا معیا ر دیکھا گیا ہے نصابی کتابیں مفت تقسیم ہوتی ہیں اس لئے’’ الا بلا بہ گردنِ ملا‘‘ کے مصداق الم غلم کرکے کام مکا دیا گیا ان کتابوں کو دیکھ کر افسوس ہوتاہے کہ اٹھارویں ترمیم کیوں آیا اور نصابی کتابوں کی اشاعت کا کام صوبائی حکومت کو کیسے ملا؟ اس وقت ملک میں نصاب کے مطابق کتابوں کی چھپائی کے حوالے سے پنجاب ٹیکسٹ بورڈ ، سندھ ٹیکسٹ بورڈ اعلیٰ ترین معیار کے حامل ہیں نیشنل بُک فاؤنڈیشن اور بلوچستان ٹیکسٹ بُک بورڈ بھی معیاری کتابیں شائع کرتے ہیں خیبر پختونخوا کی حکومت کو ان کے تجربات سے استفادہ کرنا چاہیئے اور خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بُک بورڈ کی تنظیم نو کر کے کم از کم اخلاقیات کی کتابیں اعلٰی اخلاقی معیا ر کے مطابق شائع کرنی چاہیئے اس وقت ملک میں کئی نجی ادارے نصابی کتابیں شائع کررہی ہیں ان کا معیا ر خیبر پختونخوا ٹیکسٹ بُک بورڈ سے بدرجہا بہتر ہے اگر نصابی کتاب کا کام بھانجے اور بھتیجے کو دیا گیاتو کھانے سے پہلے بسم اللہ پڑھنے کے فضائل پر بے رنگ ،بے بو ،بے ذائقہ اور خشک مضمون لکھا جائے گا جو طلبہ اور طالبات کو متاثر کرنے کے بجائے بو ر کردے گا یہی کام اگر کسی تخلیق کار، ناول نگار،ڈرامہ نگار، افسانہ نگار اور دانشور کو دیا گیاتو وہ تخلیقی ماحول پیدا کرے گا مکالمہ کا انداز اپنائے گا تجسس پیدا کرے گااور کہانی کو مکالمے کا روپ دیکر 150یا 200الفاظ میں دلچسپ پیرائیے میں بسم اللہ سے کھانا شروع کرنے کی اہمیت کو اجاگر کرے گا جو اساتذہ اور طلباء کے لئے یکساں مفید ہوگاہر موضوع کو اس پر قیاس کیا جاسکتا ہے خیبر پختونخوا کے سکولوں کے لئے نصاب میں اخلاقیات کا مضمون متعارف کرانا یا اخلاقیات کو مختلف مضامیں کے اند ر شامل کرانا بیحد اہم فیصلہ ہے اب اخلاقیات کا تقاضا یہ ہے کہ یہ کام بھانجے، بھتیجے ، چچا یا ماموں سے لینے کی جگہ تخلیقی صلاحیت والے ادیبوں اور دانشوروں کے پینل سے لیا جائے تاکہ وقت کے تقاضوں کے مطابق کتابیں شائع کی جاسکیں

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments