نشے میں چور حکمران

12 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

مصطفی کمال 

گلگت بلتستان گورننس آرڈر کے تحت ملنے والی مالی اور انتظامی خود مختاری کے نشے میں سرمست حکمرانوں کے قدم اقتدار کے آخری لمحوں میں واضح طور پر لڑکھڑا رہے ہیں – پارٹی کے وزرا اور اسمبلی کے اندر اراکین کے جانب سے  ایک دوسرے کے خلاف بیان بازی کی ایک لہر جاری ہے اور عوام کو انیوالے دنوں میں کسی خوشخبری کی جگہ الزامات پر مبنی مزید بیانات سننے کو ملیں گی – اس حمام میں سبھی ننگے تھے مگر اب کے بار حمام کے ننگے ایک دوسرے کو مزید ننگے کرنے پر تلے ہوے ہیں –

گلگت سے جاری اخباری بیانات کے مطابق اس غیر قانونی صوبے (اعتزاز احسن کے بقول ) کے تمام ڈسٹرکٹ میں سینکڑوں کے حساب سے اساتذہ کو غیر قانونی طور پر بھرتی کرایا گیا ہے – تین سے پانچ لاکھ کی قیمت پر ایک پوسٹ کا سودا ہوا ہے – اگر استاد روحانی باپ ہے تو مہدی شاہ اور علی مدد شیر کی حکمرانی میں بھرتی ہونے والے اساتذہ کے لئے یقینی طور پر کوئی اور مناسب نام تجویز کرنی کی ضرورت ہو ، شائد رشوتی باپ –

برسوں سے گلگت کے سیاستدانوں اور قوم پرستوں کا یہی رونا رھا ہے کہ پنجاب کی بیوروکریسی با اختیار ہے اور عوامی نمائیندے بے اختیار – ھر بار ناکامی کا الزام بیورکریسی کے سر تھوپ کر اپنی بدعنوانیوں پر پردہ ڈالتے رہے – وہ تو بھلا ہو گلگت بلتستان سیلف گورننس پیکج کا جسکی وجہ سے اختیارات مہدی شاہ اور دھرتی ماں (قوم پرستوں کا مرغوب نعرہ) کے دیگر سپوتوں کو مل گیے اور کرپشن کے ایک تاریخی سفر کی بنیاد دھرتی ماں کے سپوتوں نے ہی رکھی –اس بہانے گلگت کے عام آدمی کو یہ احساس ہوا کہ انکے اصل دشمن پنجابی ہوتیانہ یا سندھی ڈاگا نہیں بلکہ گلگت بلتسان سے تعلق رکھنے والے مہدی شاہ اور اسکی کابینہ کے دیگر اراکین ہیں –

مہدی شاہ سرکار نے جن دنوں عنان حکوت کی ذمہ داریاں سنبھالی وہ کرپشن کا زریں دور تھا – زرداری، گیلانی اور بعد میں راجہ پرویز اشرف نے مرکز میں ، ریئسانی نے بلوچستان میں اور سندھیوں نے سندھ میں جس طریقے سے عوامی خزانے کو لوٹا وہاں گلگت بلتستان کی حکومت بھلا کیونکرپیچھے رہ سکتی تھی – سو انہوں نے بھی وہی کیا جو پاکستان میں سب کرتے ہیں –

دکھ مگر اس بات کا ہے کہ گلگت بلتستان کے کسی بھی علاقے سے ، کسی بھی حلقے سے اس منظم کرپشن کے خلاف کوئی تحریک نہیں چلی – گندم کی سبسڈی پر تو احتجاج ہوا مگر تعلیمی اداروں میں کرپٹ افراد کو بھرتی کر کے قوم کے مسقبل کے نسلوں کو تباہ کرنے والوں کے خلاف کوئی تحریک نہیں چلی – شائد ہمارے قومی ایجنڈے میں گندم تعلیم سے زیادہ اہمیت کا حامل ہے  !!

سجاد سلیم ہوتیانہ نے گلگت کے اندر ای –گورننس کا ایک بہترین نظام متعارف کروایا – کرپٹ عناصر کے خلاف ایکشن لیا – مہدی شاہ اور اسکی کابینہ سے یہ بات ہضم نہیں ہوئی – ہوتیانہ کا ٹرانسفر کرایا گیا – ہوتیانہ کی پیروی میں  اب یونس ڈاگا بھی کرپٹ عناصر کے گرد گھیرا تنگ کر رہے ہیں جسکی ایک مثال ان ٹھیکیداروں کے خلاف کارروائی ہے جو اپنے پروجیکٹس ادھورے چھوڑ کر بیٹھے ہیں – مگر گلگت بلتستان کے سیاستدانوں کے پیٹ میں پھر سے درد شروع ہوا ہے اور یونس ڈاگا ہٹاو مہم کی تیاریاں جاری ہیں – اخباری بیانات کے مطابق کرپشن کے بے تاج بادشاہ سردار لطیف کھوسہ نے مہدی شاہ کو مشورہ دیا ہے کہ وہ استعفیٰ دینے کی بجائے بیوروکریسی کو انکی اوقات یاد دلا دے –  اگر ایسا ہوا تو یہ قوم کے لئے ایک سانحہ ہی ثابت ہو گا –

مہدی شاہ اور اسکے کرپٹ وزرا کی ہٹ دھرمی اس انتہا کو جا پہنچی ہے کہ کرپشن پر قوم سے معافی مانگنے کی بجائے وہ اب اجتماعی طور پر مستعفی ہونے کی دھمکیاں دے رہے ہیں – گویا وہ ہمیں بتانا چاہتے ہیں کہ حکومت میں رہ کروہ قوم پر احسان کر رہے ہیں اور اگر وہ مستعفی ہوں گلگت بلتستان ترقی کے ایک عظیم سفر سے محروم ہو جائیگا –

ہم یہ سمجھتے ہیں کھ محکمہ تعلیم اور دیگر محکمہ جات میں شرمناک ناک حد تک کرپشن کے تمام ذمہ دارون کو قرار واقعی سزا دے کر ہی معاشرے میں میرٹ کی بالا دستی کو یقینی بنایا جا سکتا ہے – گیلانی، راجہ رینٹل، عقل کرم ڈھیڈی جیسے لوگوں پر اگر وفاق کرپشن کے کیسز کھول سکتی ہے تو گلگت بلتستان کے سابقہ اور موجودہ بدعنوان عناصر اور غیر قانونی کاموں کے احکامات دینے والے اور انکی تعمیل کرنے والوں کے خلاف بلا تفریق  انصاف کے تقاضوں کے مطابق سلوک کیا جایئے- اس بیمار معاشرے کا یہی حل ہے جہاں انفرادی اور اجتماعی ضمیر دونوں مردہ ہو چکے ہیں –

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔