’’سائنس ہزار سال آگے‘‘۔۔۔۔۔ابو اِنشال۔۔۔۔۔

8 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

مذاکرتی ٹیم کی حیرانگی بڑھتی جا رہی تھی۔ اُن کو اپنی آنکھوں پہ اعتبار نہیں ہو رہا تھاکہ سائنس اور ٹیکنالوجی کی دنیا میں اتنی ترقی ممکن کیسے ہوئی ایڈز،ہیپٹائٹسس اور پولیو جیسی امراض کا چند گھنٹوں میں علاج اور مکمل شفایابی، کینسر جیسے جان لیوامرض سے دو دن کے اندر چھٹکارا۔

ٹیکنالوجی میں وہ مہارت ہے کہ B-52،AWACSاورڈرون جیسی ٹیکنالوجی بچوں کا کھیل لگے۔میٹافزکس کے ایسے جزیات پر تحقیق جن کو سمجھنے کے لئیے آ نسٹائن جیسے دماغ درکار ہوں،آرٹس ،لٹریچرمیں اتنی گہرائی کہ غالب ،شکشیپئراور ٹئیگور جیسوں کو دنیا بھول جائے۔ ناقابل تسخیر دفاع کے لیے بلسیٹک میزائل اور ایٹمی ہتھاروں سے لیس جدید نظام۔
مذاکرتی ٹیم سے بالاخر رھا نہ گیااور ایک رکن نے سوال کر ہی ڈالا کہ آخر اتنی بڑی کامیابی کا راز کیا ہے ،یعنی
ُُ’’وچ دی گل کی اے‘‘

مذاکرتی ٹیم کے سسپنس کو مزید بڑھائے بغیر مسلح نوجوان اُن کو اُس مقام تک لے گئے جہاں سے علم کے یہ سارے دروازے پھوٹ رہے تھے۔ایک ایسی لائبریری جہاں موجودہ سائنس کی ترقی سے ہزاروں سال آ گے کی ریسرچ موجود تھی،طب ،معاشیات،عمر انیات الغرض ہر موضوع اور ہر مسئلے کے حل پر ایسی لاکھوں کتابیں کہ جن سے کائنات کی تسخیر آسان بنا دی گئی۔
مذاکرتی ٹیم کی حیرانگی اُس وقت انتہا کو پہنچی جب ریاستی طور پر کالعدم تنظیم کے ایک رُکن نے یہ انکشاف کر دیا کہ ان لاکھوں کتابوں پر مشتمل لائبریری اور سائنس و ٹیکنا لو جی کی ترقی کا سہرا ان کے دو عظیم سائنسدانوں،مفکروں،دانشوروں اور معاشیات دانو ں کے مرہون منت ہے اور عنقریب دُنیا کے 7 ارب لوگ بشمول ،یورپ اور امریکہ کے غریب ممالک اس سے مستفید ہونے جا رہے ہیں۔
پھر مسلح محافظوں کے اپنے عظیم سا ئنسدانوں کے حق میں بلند آواز میں نعرے لگا ئے اور فضا گونج اُٹھی
اوریا :۔زندہ باد
انصار:۔ زندہ باد
مذاکراتی ٹیم نے بھی نعروں کا بھرپو ر جواب دیا۔واہ کیا عجب سماں تھا۔
ستمبر 2014میں ٹیم کے ایک رُکن نے انکشاف کیا کہ مذاکرات کے دوران فضا میں اڑنے والے ڈرون کو صرف اس وجہ سے نشانہ نہیں بنا یا جاسکاکہ بلسیٹک مزائل نظام کے passwordsدونوں سائنسدانوں کے علاوہ کسی کو معلوم نہیں تھے اور وہ دونوں قریبی ملک پاکستان میں مقیم تھے۔رُکن کراچی میں مذاکرات کی ناکامی کی وجوہات پر صحافیوں کے سوالوں کا جواب دے رہے تھے اور یہ سوالNFPنے کیا تھا۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔