چترال ٹاون میں ۱۳ دنوں سے بجلی بند، کاروبار ٹھپ

چترال ٹاون میں ۱۳ دنوں سے بجلی بند، کاروبار ٹھپ

9 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

چترال(نذیرحسین شاہ نذیر) چترال کے سیاسی ،سماجی اور کاروباری حلقوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا ہے کہ چترال ٹاون کی بجلی13 دنوں سے بند ہے۔ناغہ کا کوئی باقاعدہ شیڈول نہیں ہے۔لوگ تنگ آگئے ہیں۔کاروبار ٹھپ ہوگیا ہے۔واپڈا کی من مانی ہے قومی اسمبلی میں چترال کا کوئی نمائندہ نہیں۔صوبائی اسمبلی میں چترال کی کوئی آواز نہیں۔واپڈا حکام اور مقامی انتظامیہ کو نکیل ڈالنے والا کوئی نہیں ہے۔سابقہ دور میں عوامی نمائندوں کی کمزوری پر سابق ڈی سی رحمت اللہ وزیر نے پردہ ڈالا ہوا تھا۔اب ضلعی انتظامیہ بھی خاموش تماشائی کا کردار ادا کرتی ہے۔سیاسی اور سماجی حلقوں نے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا ہے کہ 13 دنوں تک واپڈانے لائن کی خرابی کو دور نہیں کیا۔مقامی بجلی گھر سے36گھنٹے بعد یا 48گھنٹے بعد 4گھنٹے کی بجلی دی جاتی ہے۔حالانکہ ایمرجنسی میں ناغہ کرکے24گھنٹوں میں6گھنٹے کی بجلی ہرگاؤں کو دی جاتی تھی۔سیاسی اور سماجی حلقوں نے اس بات پر بھی افسوس کا اظہار کیا ہے کہ چترال ٹاون کی فعال پاؤر کمیٹی بھی اس ظلم اور ناانصافی پر خاموش ہے،تجار یونین نے بھی ہڑتال کی کوئی کال نہیں دی۔ڈپٹی کمشنر نے اس پر کوئی ایکشن نہیں لیا۔سیاسی اور سماجی حلقوں نے پی ٹی آئی،جے یو آئی،پیپلز پارٹی،جماعت اسلامی اور اے این پی سے مطالبہ کیا ہے کہ چترال ٹاون میں بجلی کے طویل بریک ڈاون کے خلاف قومی اسمبلی میں آواز اُٹھائیں ۔مسلم لیگ(ن) کے خلاف چترال بازار میں احتجاجی دھرنا دیں اور ن لیگی لیڈروں کے پُتلے جلاکر ثابت کریں کہ ہم زندہ قوم ہیں۔پائیندہ قوم ہیں۔ عوامی اور کاروباری حلقوں نے چترال کے عوام نمائندوں کی بے حسی پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔عوامی حلقوں نے خبردار کیا ہے کہ48گھنٹوں کے اندر بجلی بحال نہ ہوئی تو بڑے پیمانے پر ہنگامے ہونگے جن کی تمام تر ذمہ داری واپڈا حکام پر عائد ہوگی۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔