کسی ادارے کو گلگت بلتستان کے وسائل کی بندربانٹ کا اختیار نہیں: ایم ڈبیو ایم

کسی ادارے کو گلگت بلتستان کے وسائل کی بندربانٹ کا اختیار نہیں: ایم ڈبیو ایم

5 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

پریس ریلیز

 گلگت بلتستان کے قدرتی وسائل سے استفادہ کرنے کے سب سے زیادہ حقدار یہاں کے مقامی افراد ہیں۔ کسی ادارے کو ہمارے قدرتی وسائل کی بندر بانٹ کا اختیار حاصل نہیں ہے اور اگر زبردستی کی گئی تو بھرپور مزاحمت کی جائے گی۔دنیا کی نظریں گلگت بلتستان کے قدرتی وسائل کی طرف لگی ہوئی ہیں اراکین کونسل اور ممبران اسمبلی اپنے ذاتی مفادات کی خاطر علاقے کو گروی رکھنے سے باز آجائیں۔

ان خیالات کا اظہار مجلس وحدت مسلمیں پاکستان گلگت ڈویژن کے سیکرٹری ترجمان سعید الحسنین نے اپنے ایک اخباری بیان میں کیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ماضی میں کچھ ناعاقبت اندیش اہل کاروں نے ناقص قوانین KANA ڈویژن سے پاس کرواکر علاقے میں نافذ کرنے کو کوشش کی جسے اس علاقے کے عوام نے مسترد کیا ہے۔ اب گلگت بلتستان کونسل کے ذریعے عوام دشمن رولز بنواکر گلگت بلتستان کے قدرتی وسائل کی بندر بانٹ کا پروگرام بنایا گیا ہے۔ یہ یاد رکھیں کہ غیر مقامی افراد یا کمپنیوں کو اس علاقے کے قدرتی وسائل کے استفادے کیلئے لائسنسز کا اجراء کیا گیا تو اس کے سنگین نتائج برآمد ہونگے اور بلوچستان جیسے حالات پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔ لہٰذا متعلقہ اداروں کو متنبہ کیا جاتا ہے کہ ایسے کسی اقدام سے گریز کیا جائے جو یہاں کے عوام کے مفاد کے خلاف ہو۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔