عوامی دھرنا … خواب یا حقیقت

عوامی دھرنا … خواب یا حقیقت

15 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آج گلگت میں گھڑی بازار کی سڑکوں پر جمع انسانی ہجوم کو دیکھ کر اپنی آنکھوں پر یقین نہیں آتا. کیوں کہ کسی کے وھم و گمان میں ہی نہیں تھا کہ تین ماہ قبل گلگت سٹی کے ایک چاے خانے سے شروع ھونے والی مشاورت جلد ھی گلگت بلتستان کے عوام کو اس طرح متحد کر دیگی کہ نئی تاریخ رقم ھو جاے گی.

Bukhariگندم پر سبسڈی کے خا تمے کے خلاف اور 9 نکاتی مطالبات کو لیکر 23 چھوٹی بڑی تنظیموں نے طویل مشاورت کے بعد احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان کیا جو مرحلہ وار جاری رہا اور اب صورتحال ایسی بن گئی ھے کہ عوامی ایکشن کمیٹی نے ہزاروں افراد کو گھروں سے نکال کر سڑکوں پر لا کھڑا کیا ھے. عوام کی غیر منتخب قیادت نے عوامی ایشوز کو ایسے اٹھایا ہے کہ عوام کے ووٹوں سے اقتدار کی کرسی پر بیٹھ کر پروٹوکول کے مزے لینے والوں کی بولتی بند ہوگی ہے.غیر متوقع طور پر عوام نے ایکشن کمیٹی کی کال پر لبیک کہتے ہوے طویل احتجاجی دھرنے کا آغاز کیا ھے. تاجروں نے شٹرڈاؤن کر کے وکلا نے عدالتوں کا با یکاٹ کر کے اپنا احتجاج ریکارڈ کرایا.

منگل کے روز گلگت سٹی میں دیگر اضلاع سے ہزاروں افراد قافلوں کی صورت میں گھڑی بازار پہنچ گئے ہیں جو مطالبات کی منظوری تک دھرنا دینے کا عزم  رکھتے ہیں. اس احتجاجی تحریک نے گلگت بلتستان میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی ،اخوت ،بھائی چارے ،اتحاد و اتفاق کی نئی مثال قائم کردی ہے. کل تک ایک دوسرے کے خلاف سرگرم مذہبی اور سیاسی تنظیموں کو ایسا متحد کردیا کہ ماضی میں اس کی مثال نہیں ملتی.

عوامی ایکشن کمیٹی نے نا ممکن کو ممکن بنا دیا ھے گھڑی بازار اور اتحاد چوک میں جو مناظر ان آنکھوں نے آج دیکھے ہیں پہلے کبھی نہ دیکھے تھے. گلگت بلتستان کا ہر باسی اس بات پر خوش ضرور ھے کہ ،،گندم ،،،نے بکھری ہوئی “امت” کو متحد کردیا ہے۔ اگر اسی طرح مل جل کر کوشش کی جاے تو وہ سب کچھ حاصل کیا جاسکتاہے جس سے ہم آج تک محروم ہیں۔

اب ضرورت اس امر کی ہے کٓہ عوامی طاقت کو عوامی مفاد کے لیے کار آمد بنایا جاے اور اس تحریک کی آڈ میں کوئی اپنے مفادات حاصل کر قومی مفاد پر سودا بازی اور اپنی سیاسی دکان نہ چمکائے۔ کامیاب احتجاج پر عوامی ایکشن کمیٹی مبارک باد کی مستحق ہے۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments