سیلز اور انکم ٹیکس نامنظور، چیمبر آف کامرس سے منسلک کاروباری افراد کا عطاآباد جھیل میں کشتیوں پر احتجاج

چیمبر آف کامرس اور امپورٹرز ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے اراکین احتجاج کر رہے ہیں: تصویر: حسین نگری
چیمبر آف کامرس اور امپورٹرز ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے اراکین احتجاج کر رہے ہیں: تصویر: حسین نگری
ہنزہ نگر ( اجلال حسین) گلگت بلتستان ایوان صنعت و تجارت اور امپورٹرا یکسپورٹرکا احتجاج، تقریباً تین ہفتوں سے زائد پاکستان اور چین کے مابین خنجراب کے راستے  کاروبار بند ہونے کی وجہ سے نہ صرف تاجروں بلکہ حکومت پاکستان کو کروڈوں روپے کا نقصان ہو رہا ہے، جبکہ دوسری جانب مطالبات کی منظوری نہیں ہو رہی. جمعے کو چیمبر آف کامرس گلگت بلتستان کی کال پر گلگت سے عطاآباد جھیل تک سینکڑوں کی تعداد میں کاروباریافراد نے احتجاجی ریلی نکالی۔ تاجروں نے عطاآباد جھیل پر بھی بذریعہ کشتیوں سینکڑوں افراد نے سیل اور انکم ٹیکس کے نامنظور کا نعرے لگاتے ہوئے انوکھاا حتجاج ریکارڈ کروایا۔
اس سے قبل گلگت شہر میں مختلف شاہراہوں سے ہوتے ہوئے شاہراہ قراقرم پر نکلیں اور شاہراہ قراقرم سے ہوتے ہوئے مظاہرین عطاآباد جھیل پہنچ گئے۔پاک چین سرحد کے ذریعے تجارت کرنے سینکڑوں افراد نے ہنزہ نگر کے غیر اعلانیہ ہیڈ کوراٹر علی آباد میں سٹی تھانہ علی آباد کے سامنے شاہراہ قراقرم پر دو گھنٹے سے زائد دھرنا دیا۔
اس موقع پرچیمبر آف کامرس کے صدر جوہر علی راکی، سابق صدر جاوید حسین، ذوالفقار علی مرزہ ، بشارت بٹ اور دیگر مقررین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ گلگت بلتستان ایک غیر آئینی خطہ ہے آئینی حقوق دئیے بغیر وفاقی حکومت کی جانب سے انکم اور سیل ٹیکس وصول کرنا غیر آئینی اقدام ہے اور سپرئم کو رٹ کی واضع رولنگ کی گلگت بلتستان ایک متنازعہ خطہ ہے اور اس کو آئینی صوبہ بنانا ناممکن ہے جب تک کہ کشمیر کا درینہ مسلہ حل نہ ہوسکے۔ مقررین نے اپنے خطاب میں مزید کہا کہ ہم ہر طرح کے ٹیکس حکومت کو اد کرتے ہے اس کے باوجود شاہراہ قراقرم پر مختلف علاقائی کلٹریٹ کے نام پر سامان کی چکنگ کی جاتی ہے جس کے باعث تاجروں کا سامان ٹوٹ پھوٹ جاتا ہے جسے تاجروں کا شدید نقصان ہوتا ہے۔ لہذا سوست ڈارئی پورٹ پر ہی کسی بھی ادارے سے سامان کی کلیرنس کی جائے تاکہ تاجروں کا وقت پیسہ اور راستے کی الجنوں سے چھٹکارہ مل سکے۔ انھوں نے مزید کہاکہ اس کے علاوہ تاجروں کا حکومت سے سات رکنی چارٹر آف ڈیمانڈ کی منظوری تک احتجاجی سلسلے جاری رکھیں گے۔
گزشتہ پندرہ دنوں سے تاجروں کا حتجاج کے باعث قومی خزانے کو کروڈوں روپے کا نقصان ہو رہا ہے۔ مظاہرین نے کہا کہ وہ حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ جب تک تاجروں کی جائز مطالبات حل نہیں ہوتے ہیں تاجر ہر قسم کے پرامن احتجاج جاری رکھیں گے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ پندرہ دنوں سے کی جانے والی ہٹرتال اور گلگت سے عطاآباد تک احتجاجی ریلی نکالی لیکن حکومت ٹس سے مس نہیں ہوئی ۔ ہم صوبائی اور وفاقی حکومت کو متنبہ کرتے ہے کہ تاجروں کی جائز مطالبات کو حل کیا جائے بصورت دیگر آئند انے والے وقتوں کے زمہ داری صوبائی اور وفاقی حکومت پر عائد ہوگی۔
Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments