مسلم معاشرےکا عقلی اور علمی انحطاط

مسلم معاشرےکا عقلی اور علمی انحطاط

24 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

تحریر: مولا مدد قزیل

مسلم معاشرہ آج جس عقلی اور علمی انحطاط کا شکار ہے شاید کسی اور زمانے میں نہ ہوا ہوگا۔ چوری چکاری، قتل و غارت، ناانصافی، طلم و جبر کی ایسے انگنت واقعات روزانہ رونما ہو رہے ہیں جسے دیکھ کرانسان حواس باختہ ہو جاتا ہے ۔ ظلم ایسا کہ انسانی روح کانپ اٹھتا ہے۔ اور یہ سب بنام اسلام ہو رہا ہے۔حالانکہ اسلام اپنے اندر سلامتی کامفہوم پنہاں رکھتا ہے۔ مغرب آسمانوں کی بلندیوں کو چھو رہا ہے،اور مشرق خصوصا اسلامی معاشرہ تنزلی کا شکار ہےمشرق تسخیر کائنات میں مصروف عمل ہیں اور تسخیر نفس کے ذریعے ہزار ہا بیماریوں کے آسان علاج بھی دریافت کرنے میں ہمہ تن مصروف عمل ہیں.

مسلم معاشرے کو پیغمبر اسلام رسول اللہ صلم نے جن منطقی، علمی اور عقلی اصولوں پر گامزن کیا تھا ان اصولوں سے آج پورا معاشرہ انحراف کرتا نظر آرہا ہے. آج پورا عالم اسلام ہمہ گیر زوال کا شکار ہے،جو حالت مسلمانوں کی آج ہے اس کے وہ خود ذمہ دار ہیں اور اسکا دوش کسی اور کو دینا مناسب نہیں۔اسکا اندازہ تب ہوگا جب ہم اپنی کوہتائیوں اورغلطیوں پر نظر ڈالیں گے ۔

Qizilاہل مغرب جب سائینسی تجربات سےمعاشرے کو منطق اور مشاہدے پر یقین رکھنے کی تعلیم دے رہا تھا تب مسلم معاشرہ پیرو فقیر کے دئیے ہوے وظائف اور دعاوں پر عمل پیرا ہونے کی تلقین کر رہے تھے اور آج بھی ایسا ہو رہا ہے۔ اہل مغرب جب تجربہ گاہیں اورلائبریریاں بنا رہے تھے۔ اسوقت مسلمان مغل بادشاہ شاہ جہاں تاج محل کی تعمیر پر ریاست کی مال و دولت صرف کر رہا تھا جبکہ دوسرے مسلم سلطنتیں عبادت گا ہیں اور مقبروں کے  بناّو سنگار میں مصروف عمل تھے۔ جب مغرب جدید علم کی تلاش میں کتابوں کے ترجمے اپنی مادری ذبانوں کر رہے تھے اسوقت ہم کتابوں کو بغیر کسی فہم کے رٹ  رہے تھے ۔اہل مغرب آج بھی بے پناہ مصرویات کے باوجود کتب بینی کرتے ہیں چاہے وہ سفر میں ہوں یا آفس میں ہوں فراغت کے لمحات کتب بینی سے جوڈ دیتے ہیں۔ اور ہم ہیں کہ کتب بینی کا شوق ہی نہیں۔آج بھی ہمارے نوجوان اپنے اردگرد کے ماحول سے بے خبر کانوں میں ہیڈفونز لگائے یا تو کسی بولی وڈ کے گانے پر گنگنا رہے ہوتے ہیں یا گاڈی میں سفر کے دوران روڈ پر آویزاں رنگ برنگ کے اشتہارات سے محظوظ ہوتے ہیں۔

مغربی معاشرہ افلاک کی تسخیر میں ہمہ تن مصروف عمل ہیں اور ہم 14 سو سال پرانے رسومات میں الجھے ہوئَے ہیں۔مغرب انسانی زندگی کو آسان بنانے میں کوشاں ہے اور ہم نے زندگی کو ایک معمہ بنا دیا ہے۔ اہل مغرب نے ماضی کی غلطیوں سے سیکھا اور انکا اصلاح کی، جدید علوم کی راہیں ہموار کی، کلیسا اور گرجاگھر سے جاری ہونے والے فتوے پر یقین کرنے کی بجائے اپنے تجربے اور مشاہدے کو مستند جانا، سوچ و فکر کی آزادی دی، جس نے انسانی عقل کو پروان چڑھایا۔ انقلاب برپا کی ۔ تہذیب و تمدن ، معشیت ومعاشرت کے اصول تبدیل ہوگئے۔سائنسی انقلاب نے مذہبی انتہا پسندی سے نکل کر پادری اور دوسرے مذہبی رہنماؤں کے چنگل سے آزاد کرایا۔جمہوریت وجود میں آئی صنعتی اور ٹکنالوجی کے انقلاب نے دنیا جہاں میں مثبت تبدیلیاں رونما کی۔ ایک سے بڑھ کر ایک درسگاہیں، یونیورسٹیاں قائم کی جس میں طب سے لےکر عرش وفرش کی بلندیوں اور گہرایوں کی تعلیم دی اس علمی اور عقلی سفر میں مسلمان کہیں نظر نہیں آتے۔؟ انقلاب کے اس دور میں مسلمان شریک ہی نہیں ؟ مسلمان صارفین بن چکے ہیں۔

اس واضح انقلاب کے باوجود مسلم معاشرہ آج بھی اسی تسلسل کے ساتھ انحطاط اور زوال کی طرف رواں دواں ہے مجال کہ منطق و خرد کی کوئی آصول پر کام کریں۔ عرب ممالک آج بھی عقلی جہالت میں لپٹے نظر آتے ہیں۔ رنگ برنگ کھانوں کیلئے دنیا بھر سے مسالہ جات تو مانگوا سکتے ہیں مگر علم نہیں۔۔ دسترخوان ہزار ہا کھانوں سے سجائنگے مگر مجال کہ غریب معاشرے کی مدد کریں۔دقیانویس قسم کے فکری تصورات میں آج بھی یہ معاشرہ مقید ہو چکا ہے۔اہل عرب جن کے پاس آج بھی کوئی ایک یونیورسٹی نہیں انہیں برج خلیفہ بنانےکی کیا ضرورت ؟؟؟ کوئی تجربہ گاہ بنا لیتے۔ علمی درسگاہ بنا لیتے۔ وغیرہ ۔مگر نہیں یوں لگتا ہے کہ انہیں علم جدید سے کوئی خوف ہے کہ کہیں انکا کمزور عقیدہ خطرے سے دوچار نہ ہوں ۔

دور حاضر کا مسلم معاشرے سے تقاضا ہے کہ ہم انسانی عقل کو پرواں چڑھانے میں اپنی کردار ادا کریں۔تحقیق و تجربات کو فوقیت دے ۔کائنات کی تسخیر کیلئے نئی نسل کو تیار کریں ۔ہمیں بھی چاہیے کہ آسمان کی بلندیوں کی طرف پرواز کریں۔زمین کی گہرایوں میں جھانکے۔ سمندر کی گہرایوں میں جائے۔۔علم طب میں کوئی کردار ادا کریں۔فطری تبدیلیوں کے ساتھ ہم آہنگ ہو کر جیئے۔ اور یہی دین اسلام کا مغز ہے ۔جو ہمیں فکر،جستجو، عمل صالح، تجربات، مشاہدات، اورسعی کرنے کی تعلیم دیتا ہے ۔سطحی چیزوں میں الج کر زندگی کو مشکل بنانے کی بجائے۔ اسے خوشگوار بنانے کی ضررت ہے۔ اور معاشرے کو عقلی اور علمی بنیادوں پر استوار کرنے کی ضررت ہے۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments