مولانا عطاء الرحمان کا دورہ گلگت، تلخ حقائق

مولانا عطاء الرحمان کا دورہ گلگت، تلخ حقائق

35 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

جمیعت علماء اسلام گلگت بلتستان کے 2014ء کے انتخابات انتہائی خوش اسلوبی سے پایہ تکمیل کو پہنچے۔ انتخابات کے انعقاد کے لیے سابق وفاقی وزیراور جے یو آئی صوبہ خیبر پختون خواہ کے امیر مولانا عطاء الرحمان ممبر قومی اسمبلی( برادرصغیر مولانا فضل الرحمان) اپنے رفقاء کے ہمراہ تین روزہ دورہ کے لیے گلگت تشریف لائے تھے۔جے یوآ ئی کے تحصیل اور ضلع سطح کے انتخابات تو کافی دن پہلے ہوئے تھے تاہم یہ انتخابات پورے گلگت بلتستان سطح کے تھے۔ ان میں جے یو آئی گلگت بلتستان کے صدر اور جنرل سیکرٹری نے منتخب ہونے تھے۔ صدارت (امارت) کے لیے مولانا سرور شاہ(ممبر گلگت اسمبلی)بلامقابلہ منتخب ہوئے جبکہ جنرل سیکرٹری(ناظم عمومی) کے لیے مولانا عطاء اللہ شہاب(ممبر جی بی کونسل) اور میر بہادر کے درمیان ووٹنگ ہوئی جس میں مولانا شہاب کے مقابلے میں میر بہادر کو جنرل سیکرٹری منتخب کیا گیا۔ مولانا لقمان حکیم سرپرست اعلیٰ جبکہ مولانا قاضی عنایت اللہ(چیئرمین دیامر گرینڈ جرگہ) مولانا حق نواز(بلتستان)اور حاجی محمدعظیم ( دیامر) کو سرپرستی کا فریضہ سونپ دیا گیا۔سال 2014ء کو جے یوآئی کے لیے گلگت بلتستان میں ریکارڈ رکنیت سازی ہوئی۔ 59عمومی ممبران منتخب ہوئے جن 28دیامر، 4استور، 4بلتستان، 19 گلگت اور ایک غذر کا ممبرمنتخب ہوا۔ تین سو افراد کی رکنیت سے ایک عمومی کا ممبر بن جاتا ہے۔اٹھارہ ہزار کے قریب پرھے لکھے نوجوان اور باشعور عوام نے جے یو آئی میں رکنیت اختیار کی۔ابھی مرکزی کابینہ اور مجلس عاملہ نے تشکیل پانا باقی ہے۔

Haqqani with m Atta 2یہ ایک خوش کن خبر ہے مگر اس کے ساتھ تکلیف دہ بات یہ ہے کہ جے یو آ ئی گلگت بلتستان میں بھی دو دھڑے قائم ہوچکے ہیں۔ جلد یا بدیر یہ ذاتی اختلافات طول پکڑ سکتے ہیں۔کچھ باخبر ذرائع سے ایسی مصدقہ اطلاعات ملی کہ جماعت میں اختلافات الیکشن سے تین مہینے پہلے شروع ہوئے تھے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ یہ اختلافات شخصی عہدوں کی وجہ سے ہوئے حالانکہ جمیعت علمائے اسلام کا منشور اس بات کی قطعی نفی کرتا ہے کہ کوئی آدمی کسی بھی عہدہ کے لیے اپنے آپ کو پیش کرے۔ اور نہ ہی منشور اس بات کی اجازت دیتا ہے کہ عہدہ ہمیشہ کے لیے ایک ہی سرکل میں گھومے۔یہ حقیقت بھی اٹل ہے کہ جہاں زیادتیاں ہونگی،نانصافیاں ا ور شخصی مفادات کی آبیاری ہوگی وہاں تبدیلیاں اور بغاوتیں جنم لیں گی، بقول شخصے جہاں عہدے ملیں گے وہاں ایسا ہونا فطری ہے۔جے یو آئی ایک فکر، نظریہ اور تحریک کا نام ہے۔ اس کے پیچھے ایک انقلابی سوچ ہے۔ میر ی تمام ذمہ داروں سے گزارش ہے کہ ذاتی اور شخصی مفادات کے لیے اس خوبصورت پس منظر کو زک نہ پہنچائے اور کمال وسعت ظرفی اور حکمت عملی سے تمام احباب کو یکجا کیا جائے۔میرے لیے ذا تی مسرت کا امریہ ہے کہ بلتستان سے اس دفعہ زبردست رکنیت سازی ہوئی۔وہاں کے علماء نے الیکشن اور سیاسی حرکیات میں بھرپور حصہ لیا۔ انہیں کابینہ اور مجلس عاملہ و شوری میں مناسب بلکہ کچھ زیادہ ہی نمائندگی دی جانی چاہیے تاکہ انہیں اپنی موجودگی کا احسا س بھی ہو اور پولیٹکل ایکٹیویٹیز میں کوآرڈینیشن بھی ہو۔

haqqani finalمولانا عطاء الرحمان چار دفعہ گلگت بلتستان کا تفصیلی دورے کرچکے ہیں۔ 2000ء میں جماعتی امور کے حوالے سے گلگت آئے تھے تو ان کے رفقاء میں قاضی حمیداللہ جانؒ (ممبر قومی اسمبلی) جیسے اہل علم بھی تھے۔ کے کے ایچ میں طویل سفرسے تھکن میں چور ہوکر ،گلگت پارک ہوٹل میں فروکش تھے تو اسی رات لوکل انتظامیہ نے انہیں گرفتار کرکے راتوں رات علاقہ بدر کیا۔ یہ تھی مشرفی آمریت کی مہربانیاں۔ 2009ء کے لوکل انتخابات کی کمپئین کے لیے بھی انہوں نے گلگت بھر کے دورے کیے۔ جس کی بدولت جے یو آئی ، گلگت بلتستان کی دوسری بڑی پارلیمانی پارٹی بن گئی۔ مولاناعطاء الرحمان کا کہنا ہے کہ’’ ان کا حالیہ دورہ بہت اچھا رہا۔ ذمہ دار لوگوں سے ملاقاتیں ہوئی۔ گلگت بلتستان کے تمام جماعتی ممبران سے تفصیلی نشستیں ہوئی۔ اپنے مسائل مل بیٹھ کر بانٹنے کا ایک خوبصورت موقع ملا‘‘۔ بقول ان کے کہ’’ صدر اور جنرل سیکرٹری لائق اور مخلص کارکن ہیں۔ان سے گلگت بلتستان میں جماعتی نظم و ضبط اور تعمیر و ترقی کے لیے نیک امیدیں وابسطہ ہیں۔ جے یو آئی کی حالیہ رکنیت سازی اس بات کی دلیل ہے کہ جماعت ملک بھر کی طرح گلگت بلتستان میں پھیل رہی ہے اور اپنا وجود قوت کے ساتھ برقرار رکھتی ہے‘‘۔مولانا کی گفتگو سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں تھا کہ وہ الیکشن کے بجائے سیلکشن کے قائل بلکہ خواہش مند تھے مگر مقامی ساتھیوں کے اصرار پر انہیں مجبوراً صدر اور جنرل سیکرٹری کے لیے الیکشن کروانے پڑے،انہیں خوف تھا یا خوف دلایا گیا تھا کہ الیکشن کی صورت میں انتشار اور لڑائی جھگڑے کا قوی امکان ہے مگر گلگت بلتستان کے مجلس عمومی کے ممبران نے کمال حکمت سے الیکشن کا مرحلہ احسن طریقے سے پایہ تکمیل کو پہنچایا جس پر انہوں نے کہا’’ جس نظم و ضبط سے انتخابات پایہ تکمیل کو پہنچے اس پر تمام کارکن اور عہدہ داران خراج تحسین کے مستحق ہیں‘‘۔

haqqani with atta 5قارئین ! وزیر اعلیٰ سید مہدی شاہ مہدی شاہ نے مولانا عطاء الرحمان اور انکی جماعت کے ایک بڑے وفد کو وزیراعلیٰ ہاؤس میں عشائیہ کا اہتمام کیا جس میں پی پی کے ممبران اسمبلی بھی شامل تھے،۔عشائیہ سے فراغت کے بعد رات گیارہ بجے وہ اپنی رہائش گاہ پر پہنچے تو میری ان سے ڈیڑھ گھنٹہ طویل ملاقات ہوئی ، جس میں گلگت بلتستان کی آئینی، قانونی، جغرافیائی، سیاسی، مذہبی اور ثقافتی حوالے سے بہت سنجیدہ گفتگو ہوئی۔ آج کی محفل کا اصل عنوان یہی گفتگو ہے۔ آئیے ! ایک وفاقی سیاسی پارٹی کے مرکزی رہنماء گلگت بلتستان کے حوالے سے کیا کہتے ہیں۔

ان کا کہنا تھاکہ’’ سیلف امپاور منٹ اینڈ گورننس آرڈ 2009ء ایک انتظامی پیکج ہے، جس کے ذریعے یہاں کے لوگوں کو باختیار بنانا ہے۔ حکومت پاکستان اور حساس ادارے یہ دیکھنا چاہتے ہیں کہ یہاں کے لوگوں کا صوبے کی طرف رجحان کیا ہے۔’’صوبائی سیٹ آپ ‘‘کے لیے ابھارنے کی ایک کوشش ہے۔مکمل آئینی صوبہ اس لیے بھی ناممکن ہے کہ بین الاقوامی قراردادیں حائل ہیں۔پھر یہاں کا قضیہ کشمیر کے ساتھ ایک قریبی تعلق ہے۔ اگر کچھ لوگ اس تعلق کی نفی کرتے ہیں تو پھر ان کے گروہی یا سیاسی مفادات ہوسکتے ہیں۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کی آئینی صوبے کی طرف پیش رفت کا معاملہ ہو یا پھر فاٹا طرز کا کوئی فارمولا پر غور کیا جانے پر ، جمیعت علماء اسلام کی مرکزی قیادت گلگت بلتستان کی قیادت سے تفصیلی مشاورت کرے گی اوراگر پورے جی بی کی جے یو آئی اتفاق رائے سے کسی بھی فارمولے کو قبول کرتی ہے تو مرکزی قیادت ان کے ایجنڈے کا احترام کرتے ہوئے اس کو قوت سے آگے بڑھائے گی۔یہاں یہ دیکھنے میں آیا ہے کہ ایک بڑا طبقہ گلگت بلتستان کو کشمیر سے الگ کر کے پاکستان کا آئینی صوبہ بنانے پر مصر ہے اور اس سے بھی ایک بڑا طبقہ تمام تر قوت کے ساتھ گلگت بلتستان کو کشمیر کے ساتھ نتھی کرکے آئینی و سیاسی سرگرمیوں کا حامی ہے۔ اب جمیعت علماء اسلام اپنے جماعت کے ساتھ مشاورت اور پھر تحقیق کرے گی کہ آیا یہاں کے عوام واقعی طور پرکشمیر کو بائی پاس کرکے پاکستان کا آئینی حصہ بننا چاہتے ہیں یا پھر کشمیر کو بھی ملاکر ایک زبردست اور مضبوط آئینی سیٹ آپ چاہتے ہیں۔ اگر گلگت بلتستان کی عوام پاکستان کاحصہ بننے کی خواہش مند ہے تو پھر جے یو آئی ان کی اس خواہش کا احترام کرے گی مگر یہ یاد رکھنے کی بات ہے کہ یہ آئینی صوبہ کسی مخصوص طبقے کی اجارہ داری قائم کرنے، بیرورنی ایجنڈے ، یا پھر کسی اور قوت کے کہنے پر نہیں بنانے دیا جائے گا۔ہم آنکھیں بند کرکے کسی کے پیچھے نہیں چل سکتے۔ جمیعت علماء اسلام کی مرکزی قیادت ایسے عوام اور علاقہ دشمن ایجنڈوں کا ڈٹ کرمقابلہ کرے گی۔

جے یوآئی ایک اسلامی جمہوری سیاسی پارٹی ہے۔ یہ ہمیشہ عوامی امنگوں کے مطابق پالیساں بناتی ہے ۔ عوام اور علاقہ دشمنی اور فرقہ واریت کے دلدل میں پھنسانے والی کسی بھی سوچ فکر اور طرزعمل سے ہمیشہ گریز کیا جائے گا اور وحدت کی بات کی جائے گی۔ یہ بات کسی سے پوشید ہ نہیں کہ جے یو آئی نے ہمیشہ تمام مسالک کو ایک پلیٹ فارم میں جمع کیا ہے۔ ملک بھر میں جتنے بھی اسلامی پارٹیوں کا کسی بھی ایجنڈے پر اتفاق رائے قائم ہوئی ہے تو جے یو آئی اس میں سرفہرست رہی ہے اور قیادت بھی جے یو آئی کے ہاتھ میں ہی رہی ہے۔پورے ملک میں بالعموم اور گلگت بلتستان میں بالخصوص ، اگر ہم اتفاق رائے اور عوامی رجحانات سے ہٹ کر کوئی پالیسی بناتے ہیں، کوئی سٹریٹجی اپناتے ہیں تو پھر قومی وحدت اور اتفاق رائے ایک مذاق بن جائے گا اور تنازعات پر مبنی ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہوجائے گا۔۔ہمیں خوب سمجھنا چاہیے کہ یہ وقت تنازعہ کا نہیں ۔ ہمیں ایک صفحے میں جمع ہوکر کوئی مشترکہ حکمت عملی اور نظام کو چلانے کے لیے متفق پلان تیار کرنا ہوگا۔وزیر اعلیٰ سید مہدی شاہ کو بھی ان کی مرکزی پارٹی کی ہدایت ہے اور انکی بھی یہی خواہش ہے کہ گلگت بلتستان میں باہمی یکجتہی اور قیام امن کے لیے تمام سیاسی و مذہبی و علاقائی پارٹیوں کے ساتھ کوارڈینشن کی جائے اور مشترکہ حکمت عملی تیار کی جائے۔ اس حوالے سے وہ ابتداء جمیعت علماء اسلام سے کرنا چاہتے ہیں اور یہ ہماری جماعت کے لیے نیک شگون ہے اور علاقے میں ایک خوبصورت پرامن ماحول کے لیے خیر سگالی کا پیغام بھی ہے۔ ہم نے ان کی دعوت پر لیبک کہا ہے اور میری جماعت کارکنوں سے بھی گزارش ہے کہ وہ اپنا بھر پور کردار ادا کریں ہر اس بات کو تسلیم کیا جائے گا جس میں ملک و ملت اور علاقے کا مفاد شامل ہوگا۔ اور بدقسمتی سے یہ بھی یہاں دیکھنے کو ملا کہ کچھ لوگ شعوری اور لاشعوری طور پر علیحدگی کا مطالبہ کررہے ہیں۔یقیناًیہ غلط فہمیوں اور ناانصافیوں کا نتیجہ ہے۔ ایسے احباب کو محبت سے سمجھانے کی ضرورت ہے‘‘۔جمیعت کے اراکین اسمبلی و کونسل کی پانچ سالہ ’’کارکردگی‘‘ کے سوال پر مولانا نے سکوت اختیار اختیار کیا اور اس سوال پر بھی مکمل خاموشی کے علاوہ کوئی جواب نہ تھاکہ سیلف امپاور منٹ اینڈ گورننس آرڈ 2009ء بھی اہلسنت کش رہا ہے۔اور اہلسنت نے اس کے خلاف ملک بھر میں ریکارڈ احتجاج کیاہے اور کئی روز شاہراہ قراقرم کو بند کیا ہے۔جب جامعہ نصرۃ الاسلام کا ترجمان مجلہ ’’سہ ماہی نصرۃ الاسلام ‘‘ ان کی خدمت میں پیش کیا تو مولانا بے حد خوش ہوئے اور دعائیں دی۔ مولانا کیساتھ کچھ خوشگوار باتیں بھی ہوئی اور کچھ ذاتی بھی ۔ اور کچھ مزید تلخ حقائق بھی سامنے آئے، ان کو کسی اور مجلس کے لیے اٹھا رکھتے ہیں۔اللہ ہم سب کا حامی وناصر ہو۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments