چترال کے علاقے دروش میں زمین کی خاطر اجرتی قاتلوں نے تین افراد قتل کردئیے

چترال کے علاقے دروش میں زمین کی خاطر اجرتی قاتلوں نے تین افراد قتل کردئیے

13 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

چترال(گل حماد فاروقی) چترا ل کے پہلے قصبے دروش میں بنجر زمین پر قبضہ کرنے کی کو شش میں تین افراد لقمہ اجل بن گئے ۔ پولیس کا تفتیشی ٹیم مجرموں کو فائدہ پہنچانے کی کو شش میں لگے ہیں۔ دروش اوسیک کے مقام پر نورا لملک اور معزز املک کے اراضی پر قبضہ جمانے کی حاطر دھمیل کے علاقے سے پٹھان لوگوں کو لایا تھا جو اکثر اجرتی قاتل ہیں اور اس قسم کے مجرمانہ سرگرمیوں کیلئے استعمال کئے جاتے ہیں۔

زمین کے مالک غلام دستگیر کا کہنا ہے کہ اس زمین کو میں نے مقتولین کے والد مسیح الملک کو فرخت کیا تھا مگر اقبال الملک اور مقصود اس جائداد پر غیر قانونی طور پر زبردستی قبضہ جمانا چاہتے تھے۔ انہوں نے پاک افغان سرحدی علاقے دھمیل اور ارندو سے پٹھان حاندان سے تعلق رکھنے والے اجرتی قاتلوں کو بلایا اور نورالملک کو للکارا کہ ہم تمھارا گندم کا فصل اور حیمہ اکھاڑ رہے ہیں۔

جب نورالملک اپنے کھیتوں کی طرف روانہ ہوا تو وہاں تاک میں بیٹھے ہوئے لوگوں نے اور اقبال الملک نے کلاشنکوف اور آتشین اسلحے سے اندھا دھن فائرنگ شروع کی۔جس کی وجہ سے وہ شدید زحمی ہوا اس کے گیارہ چودہ سالہ اکلوتا بیٹا سمیع الملک بھی پہنچا تو جہانزیب نے اس پر پستول سے فائرنگ کرکے اس کا بھی حاتمہ کردیا۔

مقتولین کے ورثاء اپنے پیاروں کی تصویریں لیے رو رہی ہیں

مقتولین کے ورثاء اپنے پیاروں کی تصویریں لیے رو رہی ہیں

اس کے بعد اس کے دوسرے بھائی معزز الملک جب فائرنگ کی آواز سن کر وہاں پہنچا تو ان اجرتی قاتلوں نے مقصود اور اقبال سے ملک کر اس پر بھی فائرنگ کھولی جس سے وہ شدید زحمی ہوئے اور اسے فوری طور پر ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹرز ہسپتال لے جایا گیا۔

ایک مقامی صحافی شہریار بیگ نے کہا کہ نور الملک اور اس کا بیٹا سمیع الملک تو موقع پر جاں بحق ہوئے تھے مگر معزز الملک زحمی تھا۔ اس دوران ان کی بیٹی نے پولیس اسٹیشن دروش کو فون پر اطلاع بھی دی مگر پولیس پانچ گھنٹے کی تاحیر سے پہنچا حالانکہ تھانہ دروش یہاں سے صرف ڈیڑھ کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔

نور الملک کے بیوہ کا کہنا ہے کہ ان ظالموں نے اپنی جائداد پر نہ صرف میرے شوہر کو بے گناہ قتل کیا بلکہ میرے اکلوتے بیٹے کو بھی مار ڈالا جس سے نورا لملک کا نسل ہی حتم کیا گیا اور اب اس گھر میں میری تین بیٹیاں رہ گئی۔ آہوں اور سسکیوں میں روتے ہوئے نہایت دردمندانہ آواز میں نورالملک مرحوم کی بیوہ اور بیٹیوں نے چیف جسٹس آف پاکستان، وزیر اعظم اور صوبائی وزیر اعلےٰ سے اپیل کی کہ وہ انصاف چاہتے ہیں اور ظلم کے اس انتہائی قسم کے مقدمے میں از خود نوٹس لیکر ظالموں کو سخت ترین سزا دلوائی جائے تاکہ آئندہ کوئی کسی کی زمین پر ناجائز قبضہ اور قتل نہ کرے۔

معززالملک کا چھ بیٹیاں اور دو سال کا اکلوتا بیٹا یتیم رہ گئے۔ اس کی بیوہ نے بتایا کہ ہمارے دشمنوں نے میرے دو سالہ معصوم بیٹے کو قتل کرنے کا منصوبہ بنایا اور ہمارے گھر میں آئے ہوئے مہمانوں کا دو سالہ بیٹے کو تالاب میں ڈالا مگر بچے کی چیح و پکار سن کر قریبی لوگوں نے اسے تالاب سے نکالا اور معجزاتی طور پر بچ گیا۔

معزز الملک کو چترال ہسپتال داحل کیا گیا اور سرجن ڈاکٹر انوارالدین اور ڈاکٹر شیدا کے مطابق اس کی حالت باالکل بہتر تھی وہ ایکسرے کیلئے بھی خود چل کر پہنچ گیا تین دن ہسپتال میں داحل رہا مگر تفتیشی آفیسر اور مقامی پولیس نے اس کا بیان (گواہی) نہیں لیا تاکہ مقدمہ کمزور پڑے اور اس سے مجرموں کو فائدہ پہنچ سکے۔

اس کی شکایت جب ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر غلام حسین کو کی گئی جو اپنی ایمانداری کی وجہ سے عوام میں کافی مقبول ہیں تو انہوں نے تفتیشی آفیسر رحیم گل کو فوری طور پر نوکری سے معطل کیا اور اس مقدمے کی صحیح تفتیش کیلئے اسے کرائم برانچ کے حوالہ کیا۔

ڈی پی او چترا ل نے تسلیم کیا کہ معزز الملک جب زحمی حالت میں تین دن تک ہسپتا ل میں پڑا رہا تو مرنے سے پہلے اس کا بیان ریکارڈ کرنا چاہئے تھا جو پولیس نے نہیں کیا اور اس غفلت کو ہم نے چارج شیٹ میں شامل کیا۔ معززالملک تین دن کے بعد انتقال کرگئے۔

ایک مقامی شحص ضیا ء الدین نے کہا کہ دروش پولیس اور تفتیشی آفیسر ہمارا کیس کمزور کرنا چاہتا تھا کہ مجرمان بلا کسی سزا کے رہا ہوجائے۔

دروش پولیس نے اقبال الملک، مقصود الملک، جہانزیب، گل احمد، رام داد خان ، قیوم، امتیاز جان کے حلاف مقدمہ درج کرکے بعض ملزمان کو گرفتار کرکے ان سے آلہ قتل کلاشنکوف اور پستول بھی برآمد کیا ہے۔

مرحومین کے بھائی شمس الملک نے کہا کہ ایک روز قبل اقبال الملک نے تھانہ دروش کے پولیس کو بتایا بھی تھا کہ میں کچھ کرنے والا ہوں مگر اس کے باوجود بھی پولیس نے اپنے سابقہ روایات کے مطابق کچھ نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ دھمیل اور ارندو سے تعلق رکھنے والے وردگ اور دیگر پٹھان لوگوں کو یہاں ک لوگ اجرتی قاتلوں ک طو رپر استعما کرتے ہیں اور مقامی پولیس ا نکو لگام نہیں دیتی۔

مرحومین کے بیٹیوں اور بیواؤں نے روتے ہوئے چیف جسٹس آف پاکستان سے اپیل کی کہ ان کو انصاف دلایا جائے اور اس کیس میں جوڈیشل انکوائری کرکے ظالموں کے حلاف سخت ترین کاروائی کی جائے۔

واضح رہے کہ اس جھگڑے میں پاک افغان سرحدی علاقے سے تعلق رکھنے والے دو پٹھان زحمی بھی ہوئے ہیں جو دروش ہسپتال میں زیر علاج ہیں جو اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ اس معاملے میں کرائے کے قاتلوں کو استعمال کیا گیا۔

ان ظالموں نے معزز الملک کے دو سالہ اکلوتے بٹیے کو قتل کرنے کے ارادے سے ان کے گھر آئے ہوئے اس بچے کی ہم شکل ایک اور بچے کو تالاب میں ڈالا مگر اتفاق سے تالاب میں پانی نہیں تھا اور بچے کی چیح و پکار سن کر پڑوسیوں نے وہاں سے نکلا۔

مرحومین کے ورثاء نے اپنے پیاروں کے تصاویر ہاتھوں میں پکڑے ہوئے انصاف کا تقاضا کرتے ہیں۔

مرحومین کے ورثاء نے کہا کہ آیون کے لوگ جنگلات کی کٹائی کے حلاف آواز اٹھاتے تھے ا ن پر دہشت گردی کا دفعہ لگ گیا ۔ اسی طرح سینگور کے لوگ لاؤڈ شیڈنگ کے حلاف پر امن احتجاج کر رہے تھے جن کے حلاف 7ATA دہشت گردی کے تحت مقدمہ درج ہوا مگر اس کیس میں دہشت گردی کا دفعہ ہی نہیں لگا جس میں اجرتی قاتلوں کو استعما ل کیا گیا اور کلاشنکوف بھی برآمد ہوا۔

واضح رہے کہ دونوں مرحومین فوج سے ریٹائر اور فٹ بال کے بہترین کھلاڑی تھے

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔