افسوس کہ اندھے بھی ہیں اور سو بھی رہے ہیں

افسوس کہ اندھے بھی ہیں اور سو بھی رہے ہیں

11 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+
علی احمد جان

علی احمد جان

گلگت بلتستان اسمبلی کے ارکان جن کی نظر میں مخلوط نظام تعلیم علاقائی تہذیب و تمدن اور روایات کا متصادم ہے سے چند سوالات پوچھنا چاہتا ہوں۔ یہ سوالات مُلّا برادری ، اور ان کے ہم خیال لکھاری اور مذہب اور کے ٹھیکیداداروں کے لئے بھی ہیں جو مخلوط نظام تعلیم کو معاشرتی مسائل کا اہم پہلو قرار دیتے ہیں۔

کیا کرپشن علاقائی رسم و رواج کا متصادم نہیں؟
کیا ہمارا رسم و رواج اقربا پروری کا درس دیتا ہے؟
کیا ہمارا تہذیب غریبوں کا حق چھیننے کا حکم دیتا ہے؟
کیا میرٹ کا قتل عام تہذیب کا کوئی پہلو ہے؟
کیا علاقے میں مسلکی منافرت مخلوط نظام تعلیم پھیلاتا ہے؟
کیا ایک دوسرے کے خلاف کفر کے فتوے مخلوط نظام تعلیم دیتا ہے؟
کیا تاریخ کا جنازہ مخلوط نظام تعلیم نکالتا ہے؟
کیا جنّت کے سر ٹیفیکٹ مخلوط نظام تعلیم بانٹتا ہے؟
کیا 1988ء کا قتلِ عام اور انسانیت کی بے حرمتی مخلوط نظام تعلیم کے سبب ہوئی تھی؟
کیا علاقے میں ہتھیار اور چرس مخلوط نظام تعلیم لے کر آیا؟

ان تمام سوالات کا جواب ’’نہیں‘‘ہے۔ حکمران ہر دور میں نظام تعلیم اور نصاب کے زریعے اپنے نطریات عوام پر مسلط کرتا ہے اس میں ملّا برادری اہم کردار ادا کرتا ہے۔ مجوزہ فیصلہ بھی ایک ایسی کڑی ہے اور ملّا حسبِ معمول حکمرانوں کا ہاتھ بٹا رہا ہے۔ مذہب کو ٹشو پیپر کی طرح اپنے مقاصد کے لئے استعمال کرنا کوئی نئی بات نہیں یہ شیخ و ملا کا پرانا وطیرہ ہے۔ وہ شاید یہ بھول جاتے ہیں کہ (روایات کے مطابق) مسلمان حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ کے پاس احادیث پوچھنے آیا کرتے تھے۔ غزوات اور جنگوں میں مسلمان خواتین پانی پلایا کرتی تھیں۔رسول اللہ نے غزوہ بدر کے پڑھے لکھے قیدیوں کو مسلمانوں کو تعلیم دینے کا حکم دیا تھا مگر اس میں مردوں اور خواتین کو الگ الگ تعلیم دینے کا ذکر کہیں نظر نہیں آتا۔

پیغمبرِ اسلام نے فرمایا تھا
’’علم حاصل کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے‘‘

اس حدیث میں صرف مسلمان مرد نہیں کہا ہے بلکہ’’ مسلمان ‘‘ جس میں مرد اور عورت دونوں شامل ہوتے ہیں ۔ ہمارے ایک محترم کالم نویس نے مخلوط نظام تعلیم کو منشیات کا استعمال، خودکشی، شادی سے قبل حمل، جنسی بے راہ روی، طالبات کی حق تلفی، خاندانی نظام کی تباہی، والدین کا اولاد پر عدم کنٹرول، طلاق کی بڑھتی شرع، معاشرتی و سماجی انتشار، اکیلی ماؤں کا کلچر، عدم برداشت، شوہر کو غلام سمجھنے کی روش، نفسیاتی مسائل اور زنا بالجبر جیسے مسائل کا زمہ دارقرار دیا ہے اوراسے فطری قوانین کا خلاف کہتے ہیں۔ ایسے افراد کا عورت کو برابری کے حقوق دینا کجا وہ عورت کو انسان ہی نہیں سمجھتے ہیں ان کے لئے عورت بچے پیدا کرنے والی مشین کے سوا کچھ نہیں ۔ ان تمام مسائل کی ذمہ داری مخلوط نظام تعلیم پر عاید کرنا سمجھ سے بالاتر اور بد دیانتی ہے۔ انہی کے مطابق صدیوں پہلے یورپ بھی مخلوط نظام تعلیم کا مخالف تھا ۔ مگر آج یورپ ایسی بے وقوفی نہیں کرتا۔ اگر وہ مسلمانوں کی طرح غیر اہم مسائل میں الجھا رہتا توسیارے تسخیر نہیں کر پاتا۔ ہمارے انحطاط کی بنیادی وجہ یہی ہے کہ آگے سفر کرنے کے بجائے اپنے’’ شاندار‘‘ ماضی کا گرفتار ہیں.

بے علم بھی ہم لوگ ہیں، غفلت بھی ہے طاری
افسوس کہ اندھے بھی ہیں اور سو بھی رہے ہیں

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔