شندور، ہمارے مشترکہ اقدارکا امین

شندور، ہمارے مشترکہ اقدارکا امین

12 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

ہر سال جولائی کے پہلے ہفتے ساڑھے بارہ ہزار فٹ بلندی پر واقع میدان میں گلگت بلتستان اور چترال کی پولو ٹیموں کے درمیان پولو میچ اور دوسرے ثقافتی شو منعقد ہوتے ہیں جشنِ شندو ر کے نام سے منعقد ہونے والے اس تین روزہ تہوار میں گلگت بلتستان اور چترال کی ثقافت کا بھر پور مظاہر ہ کیا جاتا ہے جولائی کے مہینے میں آمدِ رمضان کی وجہ سے اس سال جشن شندور کا انعقاد20سے 22جون کو رکھا گیا ہے ۔اب تک یہ فیصلہ تو نہیں ہوا کہ گلگت بلتستان اور چترال کا سب سے مشہور فری اسٹائل پولو کی شہرت دنیا کے بلند ترین پولو گراؤ نڈ شندور کی وجہ سے ہیں یا فری اسٹائل پولو کی وجہ سے شندور ممتاز مقام حاصل کر چکا ہے اسکا فیصلہ قارئین پر چھوڑتے ہوئے آگے بڑھنا چاہوں گا البتہ اس فیسٹول کی پاپولرٹی کی وجہ دراصل گلگت بلتستان اور چترال کی رنگا رنگ ثقافت و ادب اور میوزیکل شو کی وجہ سے ہیں اگر ان میں سے ایک کو ہٹا دیا جائے تو باقی کچھ نہیں بچے گا۔

logoجب خیبر پختونخواہ کی حکومت نے جشن شندور کے لئے تاریخ مقرر کرکے گلگت بلتستان کو بحیثیت مہمان اس فیسٹول میں شرکت کی دعوت دی تو اس کے جواب میں گلگت بلتستان حکومت کے وزیر اطلاعات نے جی بی حکومت کا موقف بیان کرتے ہوئے اعلان کیا چونکہ شندور متنازعہ علاقہ ہے اور ٹورنامنٹ میں گلگت بلتستان کو ان کا جائز حق نہیں دیا جا رہا ہے لہذا گلگت بلتستان اس ٹورنامنٹ کا بائیکاٹ کرتی ہے جونہی یہ خبر نشر ہوئی دونوں خطون کے عمائدین ،پولو ایسوسی ایشن کے عہدے داراں اور قلم کاروں نے اپنی حیثیت کے مطابق اس مسئلے پر روشنی ڈالنے کی کوشش کی ابھی تک کے جتنے بیانا ت اور تحریریں خاکسار کی آنکھوں کے سامنے سے گزری ہے ان میں سے کسی میں بھی توازن نظر نہیں آتا مثلہََ چترال پولو ایسوسی ایشن کے صدر اور تین دھائیوں سے چترال پولو ٹیم پر قابض شہزادہ سکندر الملک نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ گلگت بلتستان کا جشن شندور کا بائیکاٹ دونوں خطوں کے عوام کے ساتھ ظلم وزیا دتی ہے اگر چترال پولوایسوسی ایشن اور پولو ٹیم میں جمہوری رویوں کی پاسداری ہوتی تو خالی بیانات نہیں بلکہ اس مسئلے کو آبرومندانہ طریقے سے حل کرنے کی کوشش ہوتی لیکن جہاں آمریت ہو وہاں فیصلے کی صلاحیت بھی ناپید ہوتی ہے آمرانہ نظام میں صاحبِ اقتدار کو اپنی ذات سے غرض ہوتی ہے قومی مفادات ان کے لئے بے معنی ہوتی ہے ۔اسی طرح جی بی کے سیاسی راہنماؤں نے بھی اپنے بیانات میں شندور کو اپنا اٹوٹ انگ قرار دے رہے ہیں انہی دنوں دوکالمز پڑھنے کا اتفاق ہوا شندور کے جغرافیائی خدوخال اور تاریخ پر تبصرہ کرتے ہوئے ایک مخترم کالم نگا ر نے لکھا ہے کہ شندور تاریخی لحاظ سے چترال کا حصہ ہے اور صدیوں سے شندور میں کامیاب ٹورنامنٹ ہوتا آ رہا ہے مزید لکھتے ہیں گلگت بلتستان کی ٹیمیں شامل ہو یا نہ ہو جشن شندور کی رونق پر کچھ اثر نہیں پڑتا شندور میں خیبر پختونخواہ کے عوام کی قدیم آبادی موجود ہے اسکے علاوہ سازشی تھیوریز پیش کرتے ہوئے الزام لگایا گلگت بلتستان میں بھارتی لابی ملوث ہے جو کبھی مردوں کے ذریعے اور کبھی عورتوں کے ذریعے شندور اور کوہستان کے علاقوں کو متنازعہ بنانے کی کوششوں میں مصروف ہے یہ لابی ہر چار سال بعد Activeہوتے ہیں حالیہ شندور کی زمین اور جشنِ شندور کا بائیکاٹ اس لابی کی پیداوار ہے ۔دوسرا کالم گلگت کے ایک اخبار میں پڑھنے کو ملا جس میں موصوف نے چند دلیلوں کے ذریعے شندور کو مکمل طورپر گلگت کا حصہ قرارکر دیا ہے ۔

ان تمام بحث ومباحثوں سے ہٹ کر یہ کہنے میں زرہ برابر بھی ہچکچاہٹ نہیں کہ شندورکی اہمیت اب ایک گرمائی چراگاہ سے بڑھ کر ہے کیونکہ جشنِ شندور کی اب یہ ایک بین الاقوامی حیثیت اختیار کر گئی ہے شندور یا جشنِ شندور پر بات کرتے ہوئے اس کی بین الاقوامیت کو ملحوظ رکھ کر دلائل دینے کی ضرورت ہے کیونکہ اس فیسٹول کی بابت دنیا میں دونوں خطوں کی اہمیت اجاگر ہوگئی ہے کہ کس طرح ملک میں آگ لگی ہوئی ہے جبکہ ہندوکش اور قراقرم کے پہاڑی سلسلوں کے درمیان بسنے والی قبائل پرامن انداز سے اپنی ثقافت کو زندہ رکھتے ہوئے مہذب دنیا سے خود کو ہم آہنگ کیا ہے اسکے ساتھ ہی جشنِ شندور دونوں خطوں میں سیاحت کے فروع میں کلیدی کرداراداکرتے ہیں ۔پچھلے چند سالوں سے پاکستان ٹیلی ویژن جشنِ شندور کی لائیو کوریج دے کر اسکی اہمیت کو اور بھی بڑھا دیا یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے آیا گلگت بلتستان کے شرکت کی بنا جشنِ شندور کی رونق برقرار رہے گی ؟کیا ٹی وی میں اسے نشر کیا جائے گا ؟ اور کیاملک کے اعلیٰ عہدے دار (صدر ،وزیر اعظم اور وزیر اعلیٰ وغیرہ )اس ٹورنامنٹ کو دیکھنے تشریف لائینگے ؟؟ا ن سارے سوالوں کا جواب معرضی حالات کے تناظر میں جذبات کے بجائے عقل کو استعمال کرکے ڈھونڈنا ہوگا کیونکہ چند برس قبل ٹھیک اسی طرح جی بی نے شندور فیسٹول کا بائیکاٹ کیا تھا اسکے بعد چترال کے ٹیمیں وہاں جا کر پولو میچز کھیلے لیکن اس جشن کی ساری رونق ماند پڑ گئی صدر ،وزیر اعظم یا وزیر اعلیٰ تود ور کی بات کسی وفاقی یا صوبائی وزیر بھی شرکت نہیں کی ان حالات میں یہ کہنا گلگت بلتستان کی شرکت کے بغیر بھی یہ جشن کامیاب ہوسکتی ہے حقائق سے نظرین چرانے کے مترادف ہے دوسری جانب گلگت بلتستان میں بھارتی لابی کی موجودگی اورانکا عوام کو ورغلانے کے الزام میں بھی کوئی صداقت نہیں کیونکہ جی بی کے عوام چترال کے مقابلے میں زیادہ تعلیم یافتہ اور باشعور ہے ان کو اپنے حقوق کا احساس ہے اسکے لئے جدجہد بھی کررہے ہیں خطہ گلگت میں پاکستان مخالف تحریکوں کی وجہ ہمارے حکمرانوں کی آمرانہ پالیسیز ہے موجودہ گلگت بلتستان کو ڈوگرہ راج سے آزادی دلانے میں پاکستانی حکومت یا دفاعی اداروں کا کوئی کردار نہیں بلکہ اسمیں گلگت سکاؤٹ،عوام اور چترالی عوام وچترال سکاؤٹ کا کردار مسلمہ ہے پھر حکومت پاکستان نے عوام کی رائے حاصل کئے بغیر چند خود عرض علاقائی آمروں سے معاہدہ کے بعداس علاقے کو بھی متنازعہ ڈیکلیئر کرکے علاقے کی آزادی کو پاؤں تلے روندا گیا جسکا مقصد بین الاقوامی برادری اوراقوام متحدہ میں ووٹنگ میں کشمیر کاز کو مضبوط بنانا تھا اگر جی بی کی عوام جشنِ شندور میں 50فیصد شئیرنگ کا مطالبہ کررہے ہیں تو اسکو بھارتی یا امریکی سازش قرار دینا عوامی رائے کا مذاق اڑانے کے مترادف ہے جہاں تک شندور میں خیبر پختونخواہ کے آبادی کی موجودگی کا سوال ہے تو اسمیں بھی حقیقت نہیں اس گرمائی چراگاہ میں اہالیان لاسپور کی تھوڑی بہت آبادی زمانہ قدیم سے موجود ہے جبکہ تاریخی لحاظ سے 1969سے پہلے چترال کا خیبر پختونخواہ سے کوئی تعلق نہیں تھا پاکستان اور اس دور کے صوبہ سرحد حکومت کی آمرانہ پالیسی کے تحت چترال کی عوام سے پوچھے بغیر بزورِ طاقت اسے صوبہ سرحد میں ضم کر دیا گیا۔گلگت بلتستان کی جانب جشنِ شندور میں پچاس فیصد پارٹنر شپ کا مطالبہ اس وقت زور پکڑا جب اس ٹورنامنٹ کے انتظامات خیبر پختونخواہ کی حکومت میں صوبائی وزارت کھیل وثقافت کے سپر د کر دیا گیا جب سے یہ ضلعی انتظامیہ کے پاس تھی تو گلگت سائڈ میں اتنی سخت موقف نہیں تھا گلگت بلتستان کے جشنِ شندور میں شرکت کے بغیر اسکی کامیابی ناممکن ہے ۔

ان دنوں جی بی کے اندر اس بات پر بھی غور ہو رہا ہے کہ اگر اس وقت چترال شندور میں ٹورنامنٹ منعقد کر رہی ہے تو رمضان کے بعد اگست کے مہینے میں گلگت بلتستان کو بھی وہاں جا رک ٹورنامنٹ منعقد کرنا ہوگا۔اگرواقعی یہی صورتحال سامنے آئی تو کیا چترال کی جانب سے اسکی مخالفت کی جائے گی اگر مخالفت کرکے جی بی کو ٹورنامنٹ سے روکنے کی کوشش کی گئی تو اسکا کیا نتیجہ برآمد ہوگا؟؟

وقت کا تقاضہ یہ ہے شندور کی زمین کے تنازعے کو مل بیٹھ کر حل کرنا چاہئے لیکن اسکے لئے طویل مدتی مشاورت اور افہام تفہیم کی ضرورت ہے لیکن فی الوقتی طورپرچترال کے اعلیٰ حکام ،سیاسی قیادت،سول سوسائیٹی ،اہلِ قلم او رپولوایسوسی ایشن کے عملداروں کوگلگت بلتستان سے مزاکرات کرکے ان کی تحفظات کا آزالہ کیا جائے ۔وقتی طورپر اس فیسٹول کو بچانے کے لئے انتظامات اور مالی وسائل میں پچاس فیصد حصہ دینا کوئی گھاٹے کا سودا ہر گز نہیں اس مسئلے کا آبرو مندانہ اور اصولی حل یہ ہے جشنِ شندور جیسے فیسٹول کو چند افراد کی انا اور ان کے معاشی فوائد کی خاطر تباہ کرنا دانائی ہر گز نہیں۔

یہاں تک تحریر ہوئی تھی اچانک خبر آئی کہ غذر پولو ٹیم نے جشنِ شندور میں شرکت کا فیصلہ کیا ہے جو کہ اچھی خبر ہے لیکن مسئلے کا حل تب ہی ممکن ہوگا جب چترال پولو ٹیم اور پولو ایسوسی ایشن کو چند افراد کے قبضے سے چھڑاکر اس میں جمہوری روایات کو فروع دیا جائے کیونکہ ان افراد کے مالی و ذاتی مفادات اس پورے فیسٹول کوتباہ کر نے میں کردار ادا کررہی ہے ۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author