ٹاون واٹر کمیٹی

ٹاون واٹر کمیٹی

9 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی

چترال ٹاون میں پاؤر کمیٹی ناکامی سے دوچار ہوگئی ہے۔اب ٹاون واٹر کمیٹی بننے کا وقت آگیا ہے۔مشہور شاعر افضل اللہ افضل نے15مئیْ 2013کو انتخابات کے4دن بعد اس موضوع کو غزل کے ایک خوبصورت شعر میں یوں سمیٹ لیا تھا۔

ای ووٹو کندوجالہ ایغیو کلکٹکہ پرانی ٹاونو روئے ہانیسے ہے لوہ داراکہ پرانی

ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی

ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی

یہ غزل کلاسیکی شاعرشیر مُلک کی دھن پر کمپوز ہوئی ہے اور مقبول عام گیت ہے۔غزل کے مطلع کا مفہوم یہ ہے کہ ایک ووٹ کندوجال میں جاگرا،دوسرا کلکٹک میں جاگرا۔تو ٹاون والوں کو احساس ہوا کہ ہماری محرومیوں کے دن آگئے۔چترال ٹاون کی آبادی ایک لاکھ اور یہاں ووٹروں کی تعداد بارہ ہزار ہے۔جس سے صوبائی اسمبلی کی نشست کا فیصلہ آسانی سے ہوجاتا ہے مگر گذشتہ 34سالوں میں1977سے 2014تک چترال ٹاون سے کوئی نمائندہ منتخب نہیں ہوا۔بجلی اور پانی موجود ہ زامانے کی دواہم ضروریات ہیں۔چترال ٹاون دونوں بنیادی ضروریات سے محروم ہے۔جن لوگوں نے چترال کے دوردراز علاقوں کا سفر کیا۔ان کو معلوم ہے کہ لاسپور ،یارخون،تورکہو،تریچ اور اویرجیسے پسماندہ پہاڑی علاقوں میں بجلی اور پانی کی کمی نہیں ہے۔نلکوں میں صاف ستھراپانی آتا ہے۔کسی رکاوٹ کے بغیر رات دن بجلی آتی ہے۔چترال ٹاون دونوں نعمتوں سے محروم ہے۔بجلی کے مسئلے پر پاؤر کمیٹی بنی۔مگر ناکامی سے دوچار ہوئی۔چترا؛ل گول نیشنل پارک کو4میگاواٹ کا بجلی گھر دیا گیا تھا۔ٹاون کے عوام نے اس کی مخالفت کی۔گان کورینی بجلی گھر کی اپ گریڈیشن کے تین منصوبے آئے۔ٹاون کے عوام نے منصوبے واپس کردئیے اب اندھیرے ٹاون کا مقدر بن چکے ہیں۔اگر سرحد رورل سپورٹ پروگرام اور گولین گول پراجیکٹ سے بجلی نہیں آئی تو ٹاون کے اندھیرے کم نہیں ہونگے۔2009ء میں سابق وزیر اعلیٰ امیرحیدر خان ہوتی نے ٹاون کے لئے گولین سے پانی لانے کے لئے 32کروڑ روپے جاری کئے۔تو اُمید پیدا ہوگئی تھی کہ ٹاون کے لئے پینے کے پانی کا مسئلہ حل ہوجائے گاجولائی 2014ء میں منصوبے کے افتتاح کے بعد معلوم ہوا کہ پائپ کاغذ کے تھے اور ویلڈنگ کا معیار ناقص تھا۔32کروڑ روپے کا منصوبہ 6سال بعد ناکامی سے دوچار ہوچکا ہے۔اب ناقص پائپوں کو تبدیل کرنے اور ویلڈنگ کی خرابیوں کو دور کرنے پر مزید 32کروڑ روپے اور مزید 6سال لگینگے۔اس لئے چترال ٹاون کے لئے ایک واٹر کمیٹی کی ضرورت پڑرہی ہے۔واٹر کمیٹی پہلے گولین واٹرپراجیکٹ کی ناکامی کولیکر انٹی کرپشن اور نیب تک جائیگی اس میں10سال لگینگے پھر نیا منصوبہ آنے میں مزید 10سال لگینگے۔’’تاتریاق از عراق آوردہ شودمارگزیدہ مردہ شود‘‘

جب تک چترال ٹاون کے12ہزار ووٹر اپنے لئے ٹاون سے نمائندہ منتخب نہیں کرینگے۔ٹاون کا کوئی مسئلہ حل نہیں ہوگا۔گرم چشمہ اور دروش سے منتخب ہونے والا نمائندہ چترال ٹاون کا مسئلہ کیوں حل کرے گا؟پاؤر اور واٹر کمیٹیاں بنتی رہینگی۔ان کمیٹیوں کی بات کوئی نہیں سنے گا۔ان کمیٹیوں کو منتخب نمائندے کی تائید حاصل نہ ہو۔تو بھلا ان کی بات کیو نکر سنی جائیگی؟گولین واٹر سپلائی کی ناکامی اور32کروڑ روپے ضائع ہونے کے بعد ٹاون کے لوگوں کو احساس ہوا ہے کہ بقول افضل اللہ افضل ہمارا کوئی والی وارث نہیں۔ 

 

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔