قراقرم ایگزامینیشن بورڈ کے خلاف گلگت میں احتجاج، یونورسٹی سے الگ کرنے کا مطالبہ

pamir
گلگت (فرمان کریم بیگ)  فرسٹ ائیر کے امتحان میں ناکام ہونے طلبہ نے قراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی بورڈ کے خلاف آج گلگت اتحاد چوک میں احتجاجی مظاہرے کا اہتمام کیا. مظاہرے کے دوران طلبہ نے ہاتھوں میں پلے کارڈ اُٹھا رکھے تھے جن پر کے آئی یو بورڈ کے خلاف نعرے درج تھے۔
احتجاجی مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے عوامی ایکشن کمیٹی کے کنویئنر احسان علی ایڈووکیٹ، ہیومن رائٹس آبرزور کے کوڈاینٹر محمد فاروق سمت دیگر مقررین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کےآئی یو بورڈ میں سفارش اور رشوت کی بنیاد پر بھرتی کئے گئے ہیں جن کو تعلیم کے بارے میں کوئی علم ہی نہیں ہے۔  انہوں نے کہا کہ ایک ٹیکنکل شخص کو بورڈ کا کنٹرولر مقرر کیا گیا ہے اور یہ کہ ان کی نااہلی کے باعث طلبہ کا مستقبل تاریک ہونے کا خدشہ ہے۔
اُنہوں نے کہا کہ کے آئی یو بورڈ کو یونورسٹی سےالگ کرکے گلگت بلتستان ایجوکیشن بورڈ کے نام سے نیا تعلیمی بورڈ قائم کیا جائے۔
اس موقع پر طلبہ کا کہنا تھا کہ امتحانات میں ہمارے توقع سے بڑھ کر پپرز اچھے ہوئے تھے مگر بورڈ انتظامیہ اپنے ذاتی مفاد کی خاطر ہمارے مستقبل سے کیھل رہے ہیں۔ اُنہوں نے وائس چانسلر کے آئی یو سے مطالبہ کیا ہے کہ بورڈ کے قبلہ کو درست کرے بصورت دیگر مذید احتجاج پر مجبور ہو جایئں گے۔ جبکہ قراقرم بورڈ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ یونیورسٹی کے چند ملازم اور طلبہ اس میں ملوث ہے جو طلبہ کو بورڈ کے خلاف اُکسارہے ہیں۔
Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments