کیلاش مذہب

کیلاش مذہب

22 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

تحریر: امیرجان حقانیؔ 

وادیِ کیلاش میں چلتے چلتے جو کچھ جاننے کو ملا، آج کی محفل میں،اس میں سے کیلاشی مذہب کے حوالے سے چند باتیں ، جو ان سے ہی معلوم ہوئی آپ کے سامنے رکھتا ہوں۔ اور ان باتوں کی تصدیق مختلف ذرائع، کتابوں اور ویب سایٹس سے بھی کرنے کی کوشش کی۔ میں وادیِ بمبوریت کا مشہور گاؤں کراکال کی مختلف گلیوں سے گزررہا تھا۔ان گلیوں میں چھوٹی چھوٹی دوکانیں ہیں اور کالاش قبیلے کی دوکانوں پر رنگ برنگ کپڑے، موتیوں کی مالائیں، کنگن ، ٹوپیاں اور کمربند تھے جو کیلاشی بوڑھی خواتین فروخت کررہی تھیں۔ چلتے چلتے میرے سامنے ایک بڑی عمارت آئی۔ اس عمارت کے صدر دروازے کے پاس جاکر جاننے کی کوشش کی تو وہ کیلاشیوں کی مرکزی عبادت گاہ تھی۔ دروازہ مقفل تھا۔ بالکل سیاہ رنگ کا یہ دروازہ بہت ہی قدیمی دروازہ معلوم ہوا۔ دروازے کے متصل ایک لکڑی کے بورڈ پر انگریزی میں’’ Jestak\’s Tample‘‘لکھا ہوا تھا۔میں مبہوت نظروں سے اس عمارت کو دیکھ رہا تھا۔ ایک کیلاشی خاتون نے بتایا کہ یہ ان کی عبادت گاہ ہے اور وہاں بکرے کاٹنے کے بعد لکڑی کی مورتیوں یا بتوں پر خون چھڑکتے ہیں۔ اس معبد خانے میں کیلاشیوں کے سوا جانے کی اجازت نہیں۔ بعد میں کیلاشیوں کے رہنماء ثروت نے مزید معلومات بہم پہنچائی کہ وہ تمام مذہبی رسومات اس جیسٹکس ٹیمپل میں ادا کرتے ہیں۔ فوتگیوں کے رسوم بھی یہی ادا ہوتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ یہی پر خدا کی عبادت کرتے ہیں ۔

DSC01200میں نے پوچھا کہ کیا آپ خدا کو مانتے ہیں تو انہوں نے بلاتکلف جواب دیا، جی ہاں۔ تب مجھے خیال آیا کہ یہ تو مذہبی لوگ ہیں۔یہ روایت غلط ثابت ہوئی کہ کیلاشیوں کے ہاں خدا کا نظریہ نہیں ہے۔ میری پوچھ گچھ کا نتیجہ یہ نکلا کہ کیلاشیوں کا مذہب مختلف رسومات کامربہ و مرکب ہے۔مجھے یہ بھی کسی نے بتایا کہ کیلاشیوں کے مذہبی رسومات قدیم اسرائیلوں سے بھی ملتے ہیں لیکن اس کی تصدیق کیسے کی جائے یہ ممکن نہیں۔راستے میں ایک پڑھا لکھا نوجوان ملا۔ اس سے جاننے کی کوشش کی تو وہ کہنے لگا کہ یہ کیلاشی لوگ بیک وقت بت پرست بھی ہیں ،توہم پرست بھی ہیں۔ دیوی پرست بھی ہیں اور اجداد پرست بھی۔ یہ لکشمیوں اور دیویوں پر یقین رکھتے ہیں ان کے نام کی قربانیاں کرتے ہیں اور ان کو وسیلہ بھی مانتے اور حاجت روا بھی۔جنات ، بھوت اور پریوں پر بھی ان کا ایمان ہے۔میں نے کہا اس کا مطلب یہ ہوا کہ یہ لوگ جنت اور دوزخ کے بھی قایل ہیں تو ان کا کہنا تو یقیناًاور یہ صدقہ خیرات بھی کرتے ہیں۔ ان کے مختلف حاجات پوری کرنے کے مختلف دیوتا ہیں ، مثلا کت شوئی اولاد، جاکیچ بکریوں کی نسل بڑھانے، اور شیگان صحت عطاء کرنے والے دیوتا ہیں۔ اور بھی بہت سارے…۔ میں نے اس نوجوان سے تعارف جاننے کی کوشش کی تو ہنس کر ٹال دیا اور رخصت ہوا۔

ایک طرح دارکیلاشی لڑکی سے ٹاکرا ہوا۔ مجھے لگا کہ یہ پڑھی لکھی خاتون ہے۔ میں نے دور سے سلام کیا تو ہنس کر جواب دیا۔ معلوم ہوا کہ اسلام آباد کی کسی یونیورسٹی میں پڑھتی ہے۔ شستہ اردو میں بات کررہی تھی اور میرا کیلاش آنے کا سبب پوچھ رہی تھی۔ میں نے کہا کہ بس یہاں کی تہذیب و تمدن اور مذہبی روایات دیکھنے اور جاننے کے لیے آیا ہوں۔ مجھ سے کہنی لگی ، 

تم مولوی ہو؟ ۔

میں نے اثبات میں جواب دیا ۔

تو کہا کہ کوئی مذہبی پیشوا تو نہیں؟

میں نے کہا نہیں مگر فوراً سوال داغا کہ آپ کا مذہبی پیشوا کون ہے؟

کیا میری اس سے ملاقات ہوسکتی ہے۔ 

اس نے کہا کہ ملاقات کا انتظام تو نہیں کرسکتی البتہ ہمارا مذہبی پیشوا ہوتا ہے۔

میں نے کہا کہ کیا وہ مورثی طور پر پیشوا چنا جاتا ہے؟

تو اس نے نفی میں جواب دیا۔ اور کہا کہ ہم اس کو بٹان یا دیہار کہتے ہیں۔ سمجھو تمہارا مولوی ۔

ایک زور دار قہقہہ سے بات جاری کی۔میں نے کہا کہ آپ کا دیہار تعلیم کہاں سے حاصل کرتا ہے؟

تو اس نے کہا کہ کوئی خاص تعلیم تربیت کی ضرورت نہیں ہوتی ۔ بس سینہ در سینہ علمی باتیں چلی آرہی ہیں۔ قربانی کے کسی خاص پروگرام میں جب کسی کو جوش میں وجد طاری ہوتاہے تو اس کو دیہار متعین کیا جاتا ہے۔ہمارا دیہار ہمیں آئندہ کی پیش گوئیاں کرتا ہے، برف باری، موسموں کی کیفیات، قحط سالی، جنگ و جدل، شادی بیاہ اور آمن ودوستی کے بارے مین ان کی پیش گوئیاں درست ثابت ہوتی ہیں۔میں نے ایک چھبتا ہوا سوال پوچھا کہ کیا آپ کا مذہبی پیشوا مسلمانوں کے ساتھ لڑنے جھگڑنے کا درس نہیں دیتا؟ تو ان کا جواب حیران کن تھا، یہ کام آپ لوگ کرتے ہیں یہی کافی ہے۔ میں کھسیانا ہوا اور انہیں سلام کرکے اپنی راہ چل دیا۔

ظاہری طور پر کیلاشیوں کا کوئی مستند مذہب یا مذہبی کتاب نہیں۔ لیکن ان کے پاس ان کی روایات جاندار طریقے سے موجود ہیں اور سختی سے وہ ان پر عمل پیرا بھی نظرآئے۔مزے کی بات یہ ہے کہ کیلاشی لوگ اپنے لوگوں کو اپنے مذہب سے خارج بھی کردیتے ہیں۔ کئی وجوہات معلوم ہوئیں، مثلاً اگر کوئی کیلاشی عورت ’’بشالینی‘‘ جانے سے انکار کرے تو اس کو مذہب کیلاش سے خارج کردیا جاتا ہے۔اسی طرح اگر کوئی خاتون غیر کیلاشی مرد سے شادی کرے تو بھی وہ مذہبِ کیلاش سے فارغ کردی جاتی ہے۔ میرے ساتھ جو مقامی لڑکا اشفاق تھا اس نے بھی ایک کیلاشی کو مسلمان بناکرشادی کی ہے ، بقول ان کے ان کی وائف بہت خوش ہے تین سال سے اپنے والدین کے پاس نہیں گئی ہے۔ یعنی اس کو اوٹ کیا گیا تھا مذہب کیلاش سے۔

بہر صورت کیلاش مذہب پر لکھنے کے لیے بہت کچھ ہے مگر اس پر اکتفاء کیا جائے۔آئندہ کی سطور میں بھی ان کے رسوم، شادی بیاں بالخصوص کفنانے دفنانے اور اظہار و محبت و شادی کے حوالے سے لکھوں گا۔ کیلاش کہاں سے وار ہوئے اس کا کوئی ٹھوس ثبوت نہیں ملتا۔کیلاش پر لکھی گئی کتابوں میں یہ ضرور ملتا ہے کہ وہ سکندر اعظم کی اولاد یا فوجی باقیات میں سے ہیں اور ان کی تہذیب و رسوم اور زبان آج کے یونان والوں سے ملتی جلتی ہے مگر میں تو اس کو ماننے کے لیے تیار نہیں۔وجدان اس کی اجازات نہیں دیتا۔

افغانستان کو صوبہ نورستان پہلے کافرستان ہوا کرتا تھا۔ افغانستان کے امیر عبدالرحمان کے دورحکمرانی میں یہ علاقہ ان کے زیر نگیں آیا اور اس کا نام نورستان رکھ دیا گیا۔امیر عبدالرحمان کے حوالے سے علامہ ابوالحسن علی ندوی اپنی کتاب دریائے کابل سے یرموک تک کی حاشیہ میں لکھتے ہیں کہ’’۔امیر شکیب ارسلان اپنی کتاب حاضر العالم الاسلامی میں لکھتے ہیں کہ’’مشرقی جانب حدود سلطنت کو وسیع کیا، واددی کفرستان کو اپنے زیر نگیں کرلیا، وہاں کے باشندوں کو انہی کے ذریعے اللہ نے اسلام کی ہدایت دی اور اس کا نام نورستان رکھا‘‘۔

کیلاشیوں کویہ پورا پورا حق حاصل ہے کہ وہ اپنی مذہب کو برقرار رکھیں، یہ حق انہیں اسلام اور ریاست پاکستان کا آئین فراہم کرتا ہے۔نہ ان پر جبر کیا جاسکتا ہے اورنہ ان کی مذہب وثقافت کو بزور طاقت ختم کیا جاسکتا ہے۔کیلاشیوں کی ایک بڑی تعداد نے اسلام قبول کیا ہے اورجن کیلاشیوں نے اسلام قبول کیا اس پر وہ خوش ہیں تاہم یہ بات زبان زد عام ہے کہ آج کل وہاں بہت کم تعداد میں کیلاشی مسلمان ہوتے ہیں ۔ اس کی وجہ یہ بتلائی جاتی ہے اور میر اپنا مشاہدہ بھی ہے کہ حکومت پاکستان اور بیرونی ممالک اور کفریہ این جی اوز کیلاشی روایات کو برقرار رکھنا چاہتی ہیں۔ اس کے لیے وہ بھاری تعداد میں روپیہ کا استعمال کرتے ہیں۔ ہر قسم کا لالچ دے کر انہیں اپنے کلچر، روایات اور مذہبی رسومات کو باقی رکھنے کی تلقین کی جاتی ہے۔ یہ افسوسناک امر ہے۔ کم سے کم مسلم ریاست کو ایسی کفریہ حرکتوں سے گریز کرنا چاہیے۔ آخر اس عجیب و غریب ثقافت کو بچا کر ریاست پاکستان کیا لینا چاہتی ہے۔ ایسی صورت حال میں امیر عبدالرحمان جیسے مخلص مسلم حکمران یاد آتے ہیں جنہوں نے انگریز وں سے جنگ اور اسلام کی روشنی سے دور دراز ایسے علاقوں میں اشاعت اسلام کے حوالے سے نمایاں کردار ادا کیا۔ اللہ ہم سب کا حامی وناصرہو۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔