پوسٹ گریجویٹس ایسوسی ایشن غذر کے زیر اہتمام کنٹریکٹ ملازمین کی مستقلی ایکٹ 2014 کے خلاف گاہکوچ میں احتجاجی ریلی

پوسٹ گریجویٹس ایسوسی ایشن غذر کے زیر اہتمام کنٹریکٹ ملازمین کی مستقلی ایکٹ 2014 کے خلاف گاہکوچ میں احتجاجی ریلی

9 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

Ghizer post graduate

غذر(بیورو رپورٹ) پوسٹ گریجویٹس ایسوسی ایشن غذر کے زیر اہتمام کنٹریکٹ ملازمین کی مستقلی ایکٹ 2014 کے خلاف گاہکوچ میں پرامن احتجاجی ریلی اور غذر چترال روڈ پر احتجاجی دھرنا دیا گیا۔ سینکڑوں کی تعداد میں گریجویٹ و پوسٹ گریجویٹ نوجوانوں، وکلا، سول سوسائٹی اور مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کی شرکت۔شرکا نے کنٹریکٹ ملازمین کے ایکٹ کو ماورائے آئین اور میریٹ کو طاقت اور سیاسی دباؤ کے ذریعے دبانے کی کوشش قرار دیا۔انھوں نے اس ایکٹ کو ایف پی ایس سی کے مروجہ قوانین کے بالکل منافی قرار دیتے ہوئے گریڈ 16 اور اس سے اوپر کی تمام پوسٹوں کو ایف پی ایس سی کے ذریعے ہی میریٹ پر پر کرنے کا مطالبہ کیا۔گریجویٹ نے نہ صرف اس ایکٹ کو کالا قانون اور بنیادی انسانی حقوق کے منافی قرار دیا، بلکہ اس کالے قانون کی منسوخی تک احتجاج جاری رکھنے اور اعلی عدالتوں سے رجوع کرنے کا بھی اعلان کیا۔اس کالے قانون سے علاقے میں اقرباپروری، رشوت، سفارش اور کرپشن جیسی لعنتوں کو مزید فروغ ملے گا اور مذکورہ اقدام سلف گورننس آرڈر کے بالکل منافی ہے،اور ان امیدوارروں سے جو ٹیسٹ انٹرویو لیا گیا ہے وو ایف پی ایس سی کے قوانین کے منافی ہے،اس لیے اس ایکٹ کی بھی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے

مظاہرین نے ہاتھوں میں   پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن میں اس دوہرے قانون کے خلاف نعرے درج تھے۔ اس موقعے پر مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے طاہرعلی طاہ نے کہا کہ اسمبلی ممبران کی جانب سے اعلی عہدوں کی اپنوں میں بندربانٹ کی ہم ہر سطح پر مخالفت کرینگے، رسمی ٹیسٹ انٹرویوز کے ذریعے اپنوں کو نوازنا کہاں کا انصاف ہیں، حکومت کے ان دوہرے رویوں سے تنگ آکر اپنے ڈگریاں جلا چکے ہیں، جان بوجھ کر پڑھے لکھے نوجوانوں میں مایوسی پھیلانا بند کرنا ہوگا،ایک گریجویٹ کی طاقت دس ہزار عام لوگوں سے بڑھ کر ہے۔اشفاق ایڈووکیٹ نے کہا غذر ہمیشہ سے شعور اور بیداری میں پہلے نمبر پر رہا ہے،ہم سب اب بھی پڑھے لکھے نوجوانوں کو دیوار سے لگانے اور اپنوں کو نوازنے کے اس اقدام کی مکمل مزاہمت کرینگے، ہمارا ایک ہی
ایجنڈا ہے اور وہ ہے میریٹ کی مکمل بحالی اور رول آف لا۔ مقامیوں کے بجاے غیر مقامیوں کو نوازنے کی پالیسی بھی کسی طرح علاقے کے مفاد میں نہیں ہے۔ہم نے قانونی مشاورت مکمل کی ہے، جلد اس بل کے خلاف رٹ دائر کرینگے۔علاقے کے دس ہزار گریجویٹس کو انصاف نہیں ملنے تک خاموش نہیں بیٹھیں گے۔کامریڈ مقصد شاہ نے اس موقعے پر کہا تعلیم اور معیار تعلیم کے ساتھ کھلا مذاق کے بعد اب اعلی عہدوں کی غیر قانونی بندربانٹ کو قانونی بنا نے کی کوششیں ہو رہی ہیں، جس کی نہ صرف ہم مخالفت کرتے ہیں،بلکہ مظلوم کو انصاف ملنے تک اسکا مکمل ساتھ دینگے، تمام گریجویٹس اور پوسٹ گریجویٹس کو اپنے حقوق کے لئے بلا خوف و خطر آگے آنا ہوگا. ہم آپکی آواز کو ہر جگہ لے کر جاینگے۔مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے شفقت انقلابی نے کہا ہمیں دکھ اس بات کا ہے کہ ہمارے معاشرے میں نہ صرف نوکریاں بکتی ہیں بلکہ انصاف بھی بکتا رہا ہے،گلگت بلتستان میں ان اہم پوسٹوں پر مخصوص ضلعوں کو نوازا گیا ہے، اور اس میں سب سے زیادہ زیادتی غذر کے ڈسٹرکٹ کے ساتھ ہوئی ہے۔ حکومت بیروزگاروں پر ظلم کے پہاڑ مت توڑے، اور فلفور اس کالے قانون کو ختم کرے۔ دھرنے کے آخر میں ایڈووکیٹ گوہر شاہ نے قراردا پڑھ کر سنا ئی، جسے سب نے لبیک کہا،اور اپنے جدوجہد کو آخری دم تک جاری رکھنے کا اعلان کیا۔۔۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔