چلاس، پی اے آر سی کے زیر انتظام زرعی اجناس، میوہ جات اور جانوروں پر تحقیقات جاری

چلاس، پی اے آر سی کے زیر انتظام زرعی اجناس، میوہ جات اور جانوروں پر تحقیقات جاری

11 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

chilas

چلاس(مجیب الرحمٰن) محکمہ پی اے آر سی نے مختلف زرعی اجناس اور میوہ جات پر تحقیق اور تجربات مکمل کر لئے ہیں۔کاشت کار اور زمیندار محکمے سے رابطہ کر کے زرعی شعبے میں مزید انقلاب بر پا کر سکتے ہیں۔اور معاشی طور پر خوشحال ہو سکتے ہیں۔اب تک ہزاروں کاشتکار اور زمیندار محکمے کے تعاون اور مشوروں سے مستفید ہو چکے ہیں۔محکمہ پی اے آر سی نے بین الاقوامی اداروں کی معاونت سے گندم کی پیداوار میں اضافے کے لیے سات سو اقسام پر تجربات مکمل کر لئے ہیں۔ مزید چار سو اقسام کی فصل پر تجربات جاری ہیں۔تجربات کے بعد ڈھائی ٹن امپروڈ کوالٹی بیج کاشتکاروں کو فراہم بھی کی گئی ہے۔جس سے گندم کی فصل میں اضافہ اور بھوسے کی مقدار بھی بڑھ گئی ہے۔مکئی کی فصل پر بھی تجربات مکمل کر چکے ہیں۔اب بھی ادارے میں ڈیڑھ ٹن بیج موجود ہے۔جو سیزن میں کاشتکاروں کو فراہم کی جائے گی۔

دیامر میں بہتر افزائش نسل کے لئے جرسی نسل (آسٹریلیا)کا بیل بھی پہنچایا گیا ہے۔اس بیل پر جگلوٹ میں کافی ریسرچ کی گئی اور ماہرین نے اس کی افزائش نسل کو بہترین قرار دیا۔اس سے پیدا ہونے والی نسل کم خوراک پر زیادہ دودھ فراہم کرتی ہے۔

10834762_779525982114864_15626286_o

ا ن خیالات کا اظہار ڈائریکٹر پی اے آر سی،پرنسپل سائینٹفک آفیسر منیر حسین،اور سائینٹفک آفیسر پاکستان ایگریکلچر ریسرچ کونسل رحمت کبیر نے میڈیا کو ادارے کی کارکردگی سے متعلق خصوصی بریفنگ میں کہی۔انہوں نے کہا کہ گائے میں آرٹیفیشل افزائش نسل پر اعتراض کو مد نظر رکھتے ہوئے ادارے نے خصوصی طور پر جرسی بیل حاصل کر لیا ہے۔عوام بہتر افزائش نسل کے لیے محکمے سے استفادہ حاصل کر سکتے ہیں۔محکمہ چوبیس گھنٹے سہولت فراہم کر رہا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ایک ایکڑ پر زیتون کی پلانٹیشن کی گئی ہے۔جس میں آٹھ اقسام پر تجربہ کیا گیا۔اب زیتون کا پھل بھی شروع ہوا ہے۔بہترین اور سود مند تجربہ ثابت ہوا۔دیامر میں زیتون کے درخت بالکل ہی نہیں تھے۔جلد ہی زیتون کی قلمیں اور بیج کاشتکاروں اور زمینداروں کو فراہم کرینگے۔سولہ اقسام کی خوبانی آٹھ اقسام کے سیب،مالٹا citrus کے مختلف اقسام سبزیات اور دیگر اجناس پر بھی تجربات کا سلسلہ جاری ہے۔کاشتکار اور کسان کسی بھی وقت ماہرین کی رائے اور بہتر مشورے حاصل کر سکتے ہیں۔اور آزمائش شدہ بیج اور درخت حاصل کر کے اپنی آمدنی بڑھا سکتے ہیں۔اور اپنی زندگی خوشحال طریقے سے گزار سکتے ہیں۔محکمہ ہمہ وقت عوام کو سہولیات فراہم کرتا رہے گا۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔