سیرت طیبہ اورعہد حاضر

سیرت طیبہ اورعہد حاضر

14 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

Jan Muhammad

سرورکونین حضرت محمدمصطفٰی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دنیا میں آمدرحمت وبرکت(القرآن،۳۳:۹۱) سے بھرپور ہے۔ آپ ؐکی آمد سے دنیا سے جہل وظلالت کا خاتمہ ہوا۔آپؐ نے بنی نوح انسان کی ہدایت وراہنمائی کی ایسی مثال قائم کی جو رہتی دنیا تک مشعل راہ ہوگی۔آپ ؐ کی سیرت سراپا نور اور سرچشمہ ہدایت ہے۔

صحرائے عرب سے پوری دنیا میں پھیلنے والی دین اسلام کے پیغام نے دنیا کو نئی جلا بخشی۔ انسان کے لئے ہدایت کا سلسلہ اگرچہ صدیوں سے جاری ہے اورایک لاکھ چوبیس ہزارپیغامبراسی کام پر مامورہوئے۔ آپ ؐ نے اس سلسلے میں ایسی جان ڈال دی کہ دنیا چمک اُٹھی۔ سیرت البنی ؐ کے بارے میں لاکھوں کتب لکھے جاچکے ہیں۔اربوں لوگ سیرت النبی ؐ سے فیضیاب ہورہے ہیں۔ اس کے باوجود عیدمیلادالنبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمیں غوروفکر کی دعوت دیتاہے کہ اس دن ہم اپنی زندگی اوراعمال پر غورکریں۔ ہم سوچیں کہ دورحاضر میں ہم نبی پاکؐ کی کس کس سنت اورروایت کی عکاسی کررہے ہیں۔

عید میلاد ہمیں درس دیتا ہے کہ ہم سیرت النبی ؐکا نمونہ بنے اور اپنی زندگی کے ایک ایک لمحے اس پرعمل کریں۔ جیساکہ حکیم پیرناصرخسرو ؒ فرماتے ہیں؛
’’ہُنر و فضل وخرددرسیر اوست ہمہ ‘ ہمچواو کیست کہ فضل وہُنر اودراسیراست‘‘
ترجمہ: آنحضرت کی سیرت طیبہ میں ہنر، فضل اور عقل بدرجہ اتم موجودہے۔ اور آپ جیسا کون ہے جو آپ کے ان اوصاف اور اس سیرت کا حامل ہو۔ (پیرناصرخسروؒ۔جواہرحکمت‘۶۸۹۱ئ) ۔

قرآن کریم فرقان حمیدنے بھی اس بات پربہت زور دیا ہے کہ ہر مسلمان رسولؐ کی زندگی کو اپنے لئے مشعل راہ بنائے تاکہ وہ اس دنیا اوراگلی دنیا میں نجات پاسکیں۔ جیساکہ ارشادپاک ہے ؛ لقد کان لکم فی رسول اللہ اسوۃُ حسنہ لمن کان یرجوااللہ الیوم الاخرَ وَذِکراللہ کثیرا ہ سورۃُ الاحزاب:۱۲) ترجمہ: یعنی’’ یقینا تمہارے لئے رسول خدا ؐ میں ایک بہترین نمونہ ہے اس شخص کے لئے جس سے خدا اور روز قیامت کی آنے کی امید ہو اور خدا کا ذکرکثرت سے کرتا ہو‘‘۔ اس آیت مبارک سے واضح ہوتا ہے کہ نبی ؐ کی سیرت ہمارے لئے نمونہ ہے لیکن یہ اُس وقت ممکن ہے جب ہم آیت کے دوسرے حصے پر بھی توجہ دیں۔ آیت کے دوسرے حصے میں صاف صاف بتا دیاگیا ہے کہ اللہ‘ روزقیامت اور ذکر خدا کرنے والے ہی کے لئے رسولؐ کی زندگی نمونہ ہے ورنہ ہر کسی کے لئے اتناممکن نہیں جتنا اِن کے لئے ہوسکتاہے۔

اسلام دین فطرت ہے اور فطرت کا تقاضا یہ ہے کہ ہم اس کے عین مطابق چلیں۔ اگر کوئی انسان زندگی میں کامیاب رہنا چاہتا ہے تو اس کے لئے ضروری ہے کہ وہ نصاب زندگی کے سلیبس کو پورا پورا پڑھیں اوراس پر توجہ دیکرعمل بھی کریں۔ بصورت دیگر زندگی چند گوشوں کی کامیابی کا نام نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دین کے ہر پہلو کا خیال رکھنا ہرمسلمان کا فرض ہے۔ چند پہلو پر زور دینے سے دین کامل نہیں ہوتی۔

عید میلاد ہمیں ایک اور پہلو کی طرف بھی دعوت دیتا ہے وہ یہ کہ ہم نبی ؐاور اس کی عترت وسنت کے مطابق زندگی گزاریں۔ نبی کریم ؐ رحم دل‘ درگزر کرنے والی‘ مشفق‘ امین‘ صادق‘ وعدے کے پابند اور باکردار تھے۔ آج ہمیں رسول ؐ کی بوڑھی عورت کے ساتھ حسن سلوک‘ فتح مکہ کے موقع پر معافی کی شاندارروایت‘طائف کے لوگوں پر رحم ‘ دشمنوں سے حسن سلوک‘ صلح حدبیہ میں رسول ؐ کا رویہ اور میثاق مدینہ جیسے اعلیٰ کرداوں کا نمونہ بن کراسلام کی خدمت کرنا چاہئیں۔ آج ہم میں سے کتنے رسول کریم ؐکے ان اوصاف کے حامل ہیں؟ اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں واضح فرمایا ہے کہ رسول ؐ کی اطاعت اللہ کی اطاعت ہے اور رسول کی خوشنودی اللہ کی خوشنودی۔ اللہ تعالیٰ نے رسولؐ کی محبت کو اپنی محبت قرار دیا۔ جیساکہ فرماتے ہے؛ ۔۔۔قُل لا اسئلکمُ عَلَیہ اَجر الا المودۃَ فی القربیٰ۔۔۔ (سورۃُ الشوری: آیت۳۲) ترجمہ: ’’یہی وہ انعام ہے جس کی خدا ان بندوں کو جو ایمان لاتے اور نیک عمل کرتے ہیں بشارت دیتا ہے کہ کہہ دیجئے (اے رسولؐ) میں تم سے اپنی رسالت کا اور کوئی معاوضہ نہیں لیتا ہوں مگر میری عترت کی دوستی کی!جو کوئی نیکی کرے گا ہم اس کے لئے اس میں ثواب بڑھائیں گے بیشک خدا بخشنے والے بڑا قدردان ہے‘‘۔ اس آیت میں صاف صاف ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اُن بندوں کی بشارت دی ہے جو ایمان کے ساتھ ساتھ نیک اعمال بھی سرانجام دیتے ہیں۔ وہی رسول کریم ؐسے محبت اورپیار کرتے ہیں۔ رسول ؐ سے محبت کا تقاضا ہے کہ رسول اللہ کی بتائے ہوئے راستے پر چلیں اور اُن کی عترت وسنت کی فرمانبرداری کریں۔ اُن کی سیرت کا نمونہ بنے۔ ہماری ہر ادا سے نبی ؐ کی سیرت جھلکنی چاہئیں۔ مثال کے طورپر دنیا میں ہم بچوں سے یہ تقاضا کرتے ہیں کہ وہ اپنے والدین کی نمائندگی کریں۔ اگر کوئی اُن کی عادت سے ہٹ کر چلیں تو ہم اُسے نافرمان کہتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ نبی ہمارا روحانی باپ ہے ہم اُن کی اولاد ہیں اگر ہمارے اعمال سے اُن کی سیرت ‘ اخلاق واخلاص کی عکاسی نہیں ہوتی ہے تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ ہم نافرمان ہیں۔ اگر کوئی مسلمان رسول پاک ؐکی سیرت پر عمل پیرا ہے تو اُسی کے لئے رسول کریم کی زندگی بہترین نمونہ ہے۔ جیساکہ پیرناصرخسروؒ ایک اور شعر میں فرماتے ہیں ؛
’’وگرت رہبرباید بسوی سیرت اُو‘ زی رہ و سیرت اور راپسرش را ہبراست‘‘
ترجمہ: ’ اگر تجھے ان کی سیرت طیبہ کی طرف کسی راہنما کی ضرورت ہے تو ان کی سیرت کی طرف ان کے فرزند ہی راہنما ہوسکتے ہیں‘۔ رسول پاک ؐ کی سیرت اُن کی آل وا ولاد ہمارے لئے ان کی سیرت کا اعلیٰ نمونہ ہے۔ وہ وقتاََ فوقتا ہمیں نبی پاکؐ کی سیرت کی یاد دلاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس دنیا میں اُن کی موجودگی ہے اور رہے گی۔

قرآن میں اس طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ جیساکہ ارشاد ہے؛ کُل شَئی ھالک الا وَجھہ ہ (۸۲:۸۸) ترجمہ: ’’ ہر ایک چیز ہلاک ہونے والی ہے سوائے خدا کے چہرے کی‘‘ ۔ ایک اور آیت میں ارشاد ہواہے کہ ’’سب جو اس (دنیا) پر ہیں فنا ہونے والے ہیں مگر تیری صاحب جلالت وعظمت پروردگار کی ذات باقی رہے گی‘‘۔(۵۵:۷۲۔۶۲)۔ حدیث نبوی میں بھی اس بات کی وضاحت یوں کی گئی ہی؛ ماان تمسکتم بھما لن تضلُّو ا بعدی اَبَداََ۔ ’’ اگرتم ان دونوں قرآن وعترت کو مضبوطی سے تھام لوگے تو تم میرے بعد کبھی گمراہ نہیں ہونگی‘‘۔

بحیثیت مسلمان ہم اسلام کے جس مکتب فکر سے بھی منسلک ہے ہمیں رسول پاک کی زندگی ہی کو اپنے لئے نمونہ بنانا چاہئیں۔ اپنے اپنے حدود میں نبی پاک ؐ ہی کی تعلیمات کی عکاسی ہونی چاہئیں۔ دنیا کو ہم امن ‘ سکون‘ ہدایت‘ علم‘ حکمت‘ دانائی‘ مدد‘ حلیمی‘ خیر‘ رحمت‘ برداشت اور برکت کی سنت کی مثال بنے نہ کہ شر و فساد کی۔

قرآن پاک نے پہلے ہی اس خدشے کا اشارہ کیا ہے جیساکہ فرماتے ہیں؛ ’’ تم شیطان کے نقش قدم پر مت چلو یقینا وہ تمہارا کھلم کھلا دشمن ہے‘‘۔(۲:۸۶۱)۔ آج وقت کا تقاضا ہے کہ ہم نبی پاک ؐ کی پیروی کرے نہ کہ شیطان کی۔ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے رسول کی اطاعت اورفرمانبرداری کو اللہ کی اطاعت قرار دیتے ہوئے سورۃ النسائ: ۰۸ میں فرماتے ہیں کہ’’ جس نے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اطاعت کی اس نے اللہ کی اطاعت کی۔ جو نافرمانی کرے گاتوتمہیں ہرگز ہم نے ان کا نگہبان بناکر نہیں بھیجا ہے‘‘۔

اللہ تعالیٰ ہمیں رسول خداکی اطاعت کرنے کی توفیق عطافرمائیں۔آج ہمیں ان سوالات کا جواب تلاش کرناچاہئیں۔ کیا سنت صرف چنداعمال بجا لانے کا نام ہے؟ کیا سنت رسول ؐصرف چند عبادات و رسومات کا نام ہے؟ کیا سنت کے نام سے ہمیں دنیا کو اسلام کے عالمگیرپیغام نہیں پہنچانا چاہئیں؟ کیا رسول ؐ کی زندگی ہمار ے لئے بہترین نمونہ نہیں؟ہم آج کل دنیا کے سامنے اسلام کا کون سا چہرہ پیش کر رہے ہیں؟

’’کی محمدؐ سے وفا تو نے توہم تیرے ہیں‘ یہ دنیا چیز ہے کیا لوح وقلم تیرے ہیں‘‘

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔