پاکستان  بھر میں ہر سال ستائیس ہزار بچے نمونیا کی وجہ سے موت کا شکار ہو جاتے ہیں، ہنزہ نگر میں سیمینار سے ماہرین کا خطاب

پاکستان بھر میں ہر سال ستائیس ہزار بچے نمونیا کی وجہ سے موت کا شکار ہو جاتے ہیں، ہنزہ نگر میں سیمینار سے ماہرین کا خطاب

14 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+
ہنزہ نگر ( بیورو رپورٹ) محکمہ صحت ہنزہ نگر کے زیر اہتمام ہنزہ نگر کے سرکاری اداروں کے سربراہان پرائیویٹ کلنک چلانے والے افراد ڈاکٹرز پیرامیڈکل سٹاف کے لئے صحت کے مطلق سیمنار کا انعقاد کیا گیا۔ اس موقع پر ڈی ایچ او ہنزہ نگر ڈاکٹر شیر حافظ نے کہانیمو کوکل کا ویکسین ایک سال سے کم عمر کے بچوں کو لگانا انتہائی اہم ہے جس کہ تقریباً 9سے زائد بیماریوں کا علاج کرتی ہے۔انھوں کہا کہ ہمیں موت سے نہیں ڈرنا چاہیے بلکہ بچہ کسی بیماری میں مبتلا ہوتا ہے تو اس سے خوف ہونا چاہیے کیونکہ ایک صحت مند بچہ کل کا مستقبل ہے بچہ کو تعلیم دینے کا خرچہ جب ان کی علاج پر خرچ ہوتا ہے تو والدین کو انتہائی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔اس لئے چاہیے کہ جب بچہ پیدا ہوتا ہے تو ایک سال تک ان کی اہم ٹیکہ جات کے علاوہ پانچ سال تک مختلف بیماریوں کے ٹیکے لگائے جاتے ہے ان کو مکمل کرے تاکہ قوم کے لئے ایک صحت مند بچہ نکلے تاکہ اس کی مستقبل ایک روشن ہو۔ہم ان پرئیویٹ کلنک چلانے والے افردا کا شکر گزار ہے جب ڈاکٹرمریض کی چیک اپ کے بعد دوائیوں کا نسخہ لکھا کر دیتا ہے تو اس کو ردوبدل کئے بغیر وہی دوائی فراہم کرتے ہے اومریض کو ڈاکٹر کے پاس جانے کا مشورہ دیتے ہے۔۔ اس موقع پر سمینار میں شریک ضلعی سربراہان اور دیگر افراد کو بریفنگ دیتے ہوئے ڈاکٹر خواجہ خان نے کہا کہ پاکستان مٰ ہر سال پانچ سال تک کے ساڑے سات سال لاکھ بچے مختلف بیماریوں میں بلوث ہو کر موت کا شکار ہوجاتے ہے بہت سے دوسرے بچے ان بیماریوں سے معذور ہو جاتے ہے۔ ان میں سے کافی تعداد بچوں کو اسان علاج ، مناسب دیکھ بال اور وقت پر ٹیکوں لگواکر بچایا جاسکتا ہے۔ بچوں کی عمر کے دوسرے سال کے دوران ان خسرہ کا دسرا ٹیکے بھی لگوائیں۔ سمینار میں کہا کہ ان سارے بیماریوں کو دور کرنے کے لئے عالمی ادارہ صحت کے اندازے کے مطابق پاکستان میں ہر سال تقریباً سات ؛لاکھ بچے نموینیہ کا شکار ہو جاتے ہیں ۔ جن میں سے 27ہزار موت کے منہ میں چلے جاتتے ہیں۔ پانچ سال سے کم عمر بچوں کی شرح اموات 5.7فیصد کی وجہ نمونیہ ہے۔خصوصاً 9خطر ناک بیمایاں ، تب دق ، خسرہ ، کالی کھانسی ، خناق، تشخج ، گردن توڑ بخار ، ہیمو فلسالفلوئیز ا بی، ہپاٹیاٹس بی ، اور نمونیہ سے بچانے کے لئے ایک سال سے پہلے حفاظتی ٹیکو ں کو لگوانا انتہائی ضروری ہے۔انھوں نے کہا کہ بچوں کو حفاظتی ٹیکے لگوانا اور ان کی کور س کو پورا کرنابچوں کو بیماریوں سے محفوظ کرنے ہے۔سمینار میں ڈاکٹر خواجہ سے بریفنگ دیتے ہوئے مزید کہا کہ ملک بھر میں مراکز صحت ، ہسپتالو ں اور موبائل ٹیمیں کے ذریعے حفاظتی ٹیکے لگوائیں جاتے ہیں مگر ضلع کے سرکاری سربراہان ، پرئیویٹ کلنکس چلانے والے افراد، ڈاکٹر اور پیر میڈیکل سٹاف کو آگاہی دینے کا مقصد یہ ہے کہ مختلف کاموں کے سلسلے میں عوام سے محکموں کی رابطے ہوتے ہے اس دوارن ان بیماریوں سے بچاوں کے ٹیکے لگوانے میں عوام کو آگاہی دینے میں اپنا اہم کردار ادا کرسکتے ہیں جس کے لئے مختلف سر کاری اداروں کو بھی صحت کے مطلق اپنا عوام کو آگا ہی دینا ہے۔
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔