گو پس ،گلگت ،بلتستان

گو پس ،گلگت ،بلتستان

12 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+
عنایت اللہ فیضی

عنایت اللہ فیضی

گوپیس کا مقام گلگت بلتستان میں اہم قصبہ ہے ماضی میں یہ قصبہ کشمیر اور چترال کی سیاست میں نمایاں رہاہے انگریزوں نے یہاں تار گھر قائم کیا 1904 ؁ء میں یہاں ٹیلیفوں لگوایا گیا اور اس کو غذر کے پرگنے کا ہیڈکوارٹر بنا کر راجہ مراد خان کو علاقے کا حکمران مقر ر کیا گیا گلگت بلتستان میں نگران حکومت کے قیام کے بعد گوپیس ایک بار پھر سیاسی سر گرمیوں کا محور بن گیا ہے مرکزی شاہراہ پر واقع یہ قصبہ آنے والے دور کے خدوخال پر گفتگوکا مرکز ہے اور گلگت ،سکردو یا استور کیطرح گوپیس میں بھی مسلم لیگ (ن) کی حکومت سے تو قعات وابستہ کی جارہی ہیں گذشتہ ہفتے دو نئی باتیں سامنے آئی ہیں 5 فروری کو یوم یک جہتی کشمیر کے موقع پر مظفر آباد میں آزاد کشمیر اسمبلی اور کونسل کے مشتر کہ اجلاس سے وزیر اعظم کے خطاب کے موقع پر آزاد کشمیر کے وزیر اعظم چوہدری عبد المجید نے آزاد کشمیر کو این ایف سی ایوارڈ دینے کیلئے آئین میں ترمیم کا مطالبہ کیا گلگت بلتستان میں اس مطالبے کو بہت پزیرائی ملی دوسری اہم بات یہ ہوئی کہ وزیراعظم میاں نوا ز شریف نے گلگت بلتستان سے ایک مشیر کا تقرر کیا اور مسلم لیگ (ن) کی تنظیم نو کے لئے عہد یدار مقر ر کئے یہ اس بات کیطرف اشارہ ہے کہ مسلم لیگ (ن) قیادت تبد یلی چاہتی ہے اور بڑی تبدیلی چاہتی ہے.

ماضی میں گلگت بلتستان کے حوالے سے پاکستان پیپلز پارٹی کے ادوار میں اہم فیصلے ہوئے ہیں اب مسلم لیگ (ن) کوبڑ ا فیصلہ کرنے کاموقع ہاتھ آیا ہے اور بعید نہیں کہ بڑا فیصلہ بھی آجائے پہلی بار ایسا ہوا ہے کہ اچھی شہرت کے لوگوں کو نگران حکومت میں لیاگیا ہے شاہ جہاں میر بھی اچھی شہرت رکھتے ہیں گوپیس غذر میں عبد الجہان کی بہت اچھی شہرت ہے چلاس میں عنایت اللہ شمالی کا بڑا نام ہے دوسرے لوگ بھی اسی طرح مقبولیت رکھتے ہیں اگراگلے 3 مہینوں میں مسلم لیگ (ن) نے اسی طرح سنجیدگی دکھائی تو گلگت بلتستان کے حوالے سے بڑا فیصلہ ہوسکتا ہے اور تاریخ میں پہلی بار گلگت بلتستان کوقومی اسمبلی اور سینیٹ میں نمائند گی مل سکتی ہے یہ علاقے سیاست کے قومی دھارے کا حصہ بن سکتے ہیں ماضی کے تمام حکومتوں نے گلگت بلتستان اورفاٹا کے بارے میں گو مگو کا شکار ہوکر رہ گئے کئی اچھے مواقع آنے کے باوجود دونوں خطوں کو قومی دھارے کا حصہ بنانے میں کو تاہی کا مظاہرہ کیاگیا اور یہ کوتاہی قومی مفاد کے منافی ہے گلگت بلتستان کا ذکر جب بھی آتا ہے 1846 ؁ء کے معاہد ہ امر تسر کا حوالہ دیاجاتا جب انگریزوں نے کشمیر کے ساتھ مل کر گلگت بلتستان کا علاقہ بھی ڈوگروں کو فروخت کیاتھا اور یہاں خالصہ سرکار بنی تھی گوہرامان نے ڈوگرہ سرکار کے خلاف جہاد کا علان کیا 1860 ؁ء میں ان کی وفات تک یہ جہاد جاری رہا بعد میں خطے کے عوام نے جہاد کو نیا رُخ دیا کرنل حس خان ،میجر بابر اور اُن کے رفقاء نے آزادی کی جنگ لڑی کرنل مطاع الملک اوران کے ساتھ مل گئے اور 1948 ؁ء میں آزادی کشمیر کے ساتھ گلگت بلتستان کوبھی آزادی ملی یہ تاریخ کا اہم سنگ میل ہے اُس وقت گلگت بلتستان کو قومی دھارے کا حصہ بناکر خیبر پختونخوا کا ڈویژن قرار دینا چاہتے تھا حکمرانوں سے کوتاہی ہوئی اس کے بعد بھی کئی اہم مواقع آئے مگر گلگت بلتستان کوانتظامی طور پر الگ ہی رکھا گیا حکومت پاکستان کاموقف یہ ہے کہ لداخ،جموں اور سر نیگر کوآزادی ملی تو گلگت بلتستان کو قومی دھارے میں لایاجائے گا گلگت بلتستان کے عوام کا موقف یہ ہے کہ ہم نے 1948 ؁ء میں آزادی حاصل کی جب آزادی لینے کے لئے ہم نے 65 سال انتظار نہیں کیا تو پاکستان کے قومی دھارے کا حصہ بننے کیلئے ہم مزید انتظار کیوں کریں اس دلیل میں وزن ہے اس کے برخلا ف جودلیل دیجاتی ہے وہ یہ ہے کہ گلگت بلتستان کو قومی دھارے میں شامل کرنے سے مقبوضہ کشمیر کی تحریک آزادی متاثر ہوگی اس دلیل کا سہارالینے والے یہ بات بھول جاتے ہیں کہ فارسی بان نے صدیوں پہلے ایک مقولہ دیاہے ’’ یکے را بگیر دیگر دعویٰ کن ‘‘جو ہاتھ آگیا اس کو قابو کرو جو ابھی ہاتھ نہیں آیا اس کیلئے اپنا دعویٰ جاری رکھو ایسا کبھی نہیں ہوتا کہ ہاتھ آنے والی دولت اور عزت کواپنے قابو میں نہ لیکر بعد میںآنے والے کا انتظار کیاجائے گذشہ 65 سالوں سے گلگت بلتستان کے عوام کو سپریم کورٹ تک رسائی کا حق حاصل نہیں قومی اسمبلی اور سینیٹ میں ان کی نمائندگی نہیں این ایف سی ایوارڈ میں اُن کا حصہ نہیں آزاد کشمیر کے وزیراعظم کا مطالبہ بروقت اور بر محل ہے اس کے نتیجے میں قومی اسمبلی ،سینیٹ اور سپریم کورٹ تک گلگت بلتستان کے عوام کو رسائی ملے گی ،ترقی اور انصاف کے نئے دور کا آغاز ہوگا گلگت بلتستان کو قانون ساز اسمبلی پاکستان پیپلز پارٹی نے دی ناردن ایریا کی جگہ گلگت بلتستان کانام بھی پی پی پی کے دور میں انکو ملا اب مسلم لیگ (ن) کے پاس کرنے کا یہی ایک کام رہ گیا ہے کہ این ایف سی ایوارڈ ،قومی اسمبلی ،سینیٹ اور سپریم کورٹ تک گلگت بلتستان کے عوام کو رسائی دی جائے ’’ گوپیس گزٹ ‘‘ یہی ہے اور یہ گلگت بلتستان کے عوام کی دل کی آواز ہے۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments