گلگت بلتستان اور چترال کے ریڈیو اسٹیشنز

گلگت بلتستان اور چترال کے ریڈیو اسٹیشنز

12 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+
تحریر:ڈاکٹر شیر دل خان

تحریر:ڈاکٹر شیر دل خان

گلگت بلتستان کا علاقہ اپنے محل وقوع ،تہذیب و تمدن اور حسن خطرت کی وجہ سے نہ صرف اشیاء میں بلکہ پوری دنیا میں منفرد مقام رکھتا ہے ۔گلگت بلتستان کی 86% آبادی دور دراز وادیوں میں قیام پذیر ہے ۔جہاں تفریح اور معلومات کا واحد ذرائع ریڈیو ہے ۔حکومت پاکستان نے اس خطے کی جغرافیائی محل وقوع کی اہمیت کو مد نظر رکھتے ہوئے 2اپریل 1979 ء کو گلگت میں 250 واٹ طاقت کا ایک ٹرانسیمٹر نصب کر کے نشریات کا باقاعدہ آغاز کر دیا ۔اس کی مقبولیت اور عوامی مطالبے کی پیش نظر 1980 ء میں اسکی استعاد بڑھا دی گئی اور 10کلواٹ کر دی گئی جو ابھی تک قائم ہے ۔ریڈیو پاکستان گلگت کا دائرہ کار گلگت بلتستان کے ساتوں اضلاع گلگت ،غذر ،دیامر ،استور ،ہنزہ نگر ،سکردو ،گانچھے کے علاوہ واخان ،افغانستان عوامی جمہوریہ وسطی اشیاء کے نو آزاد مسلم ممالک مقبوضہ کشمیر کے علاوہ آزاد کشمیر تک ہے ۔ریڈیو پاکست ان گلگت سے روزانہ 8گھنٹے کی نشریات پیش کی جاتی ہیں ۔ریڈتو پاکستان گلگت سے اردو ،شینا ،بروشکی ،وخی اور کھوار زبانوں میں پروگرام اور خبریں نشر کی جاتی ہیں ۔یہی نہیں بلکہ علاقے میں بھائی چارگی کے فروغ قیام امن اور نا گہانی آفات کے دوران نا قابل فراموش خدمات سر انجام دے کر گلگت بلتستان کے عوام میں مقبولیت کا باعث بن گیا ہے ۔خصوصاً سانحہ عطاء آباد جھیل کے دوران دن رات جھیل کی تازہ ترین صورت حال سے آگاہ کرنے کیلئے 2010 کو کریم آباد ہنزہ میں FM93 چینل نصب کر کے تاریخ میں پاکستان کا بلند ترین FMچینل کا اعزاز حاصل کیا ۔سامعین کو جھیل کے حوالے سے لمحہ بہ لمحہ تازہ ترین صورتحال کے بارے میں رپورٹنگ اور خبروں کے ذرائع نہ صرف عوام کے دلو ں میں اعتماد بحال کیا بلکہ حقیقت پر مبنی رپورٹنگ اور خبریں نشر کرنے کا حق دار بھی ٹھرا۔جھیل کی ممکنہ خطرہ ٹل جانے کے بعد FM93 چینل ریڈیو پاکستان گلگت منتقل ہوا ۔ریڈیو پاکستان گلگت سے MWویوز اور FM93 چینل پر ایک ساتھ سامعین کیلئے تعلیم ،صحت ،زراعت ،ثقافت ،ادب خواتین اور موسیقی کے علاوہ افواج پاکستان کیلئے خصوصی پروگرام نشر کئے جاتے ہیں اس کے علاوہ قومی خبروں کے ساتھ ساتھ 5منٹ دورانیہ 5 مقامی زبانوں میں خبریں نشر کی جاتی ہیں ۔گلگت بلتستان کا سکردو ریجن میں 16اپریل 1979 ء کو 250 واٹ کا ٹرانسمیٹر نصب کر کے ریڈیو پاکستان سکردو نے باقاعدہ اپنی نشریات کا آغاز کیا ۔1982 میں 250 واٹ ٹرانسمیٹر کی طاقت کو بڑھا کر 10کلو واٹ AM ٹرانسمیٹر نصب ہوا اسی طرح 28 اگست 2012 کو سکردو میں FM93 چینل کا آغاز ہوا ۔اس وقت ریڈیو پاکستان سکردو سے FM93 چینل پر 13گھنٹے اور AM پر پانچ گھنٹے کی اردو اور بلتی کے علاوہ حال ہی میں اس خطے کی سیاحتی اہمیت کو مد نظر رکھتے ہوئے ایک گھنٹے کی انگریزی میں معلوماتی پروگرام کا آغاز ہوا ہے اور نشریات کا ٹوٹل دورانیہ 18 گھنٹے پر محیط ہے ۔ریڈیو پاکستان سکردو کی نشریات میں علاقائی خبروں سمیت مقامی طور پر 5 منٹ کی بلتی اور اردو خبریں نشر ہوتی ہیں ریڈیو پاکستان سکردو کی نشریات میں زراعت ،تعلیم ،بزرگوں ،بچوں ،خواتین ،کھیل اور روزانہ کے بنیاد پر فوجی بھائیوں کیلئے پروگرام پیش کئے جاتے ہیں یہ نشریات سکردو کے علاوہ لداخ ،کارگل اور مقبوضہ کشمیر کے وادیوں میں سنی جاتی ہیں ۔گلگت بلتستان کا معلقہ علاقہ چترال جو کہ اپنی ثقافتی اور فنون و ادب کے حوالے سے معروف ہے یہاں ریڈیو پاکستان چترال میں بھی 250 واٹ طاقت کا AM ٹرانسمیٹر کے ذریعے نشریات کا آغاز ہوا جو کہ آبادی کا 20-15 کلو میٹر حصے کو کور کرتا تھا ۔2006 میں دو کلو واٹ کا FM93 چینل کا آغاز ہوا اس سے 40-30 کلو میٹر کے احاطے پر آباد سامعین نے استفادہ کیا ۔ ریڈیو پاکستان چترال سے یہاں سے تقریباً چھ گھنٹے کی نشریات نشر ہوتی ہیں جس میں اردو،پشتو اور کھوار پروگراموں میں صحت ،تعلیم ،بزرگ ،شہری ،نوجوان اور دینی تعلیم کے علاوہ موسیقی کا پروگرام نشر ہو تا ہے ریڈیو پاکستان نے گلگت بلتستان سمیت چترال کے فن ادب ،ثقافت اور خاص طور پر زبان کی ترویج اور ترقی کیلئے اہم کردار اد ا کر رہا ہے ۔آج کے دور میں بھی ریڈیو پاکستان کی آواز گلگت بلتستان اور چترال کی دشوار گزار علاقوں میں 90فیصد سے زیادہ لوگ سنتے ہیں اور ریڈیو پروگراموں سے استفادہ کر رہے ہیں ۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔