جی بی پولیس کا High Altitudeیونٹ

جی بی پولیس کا High Altitudeیونٹ

8 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

تحریر: ابوالشرع

گلگت بلتستان پولیس میں پہلی بار High Altitudeعمل میں لایا گیا ہے یونٹ میں شامل پولیس اہلکاروں کو تربیت کے مختلف مراحل سے گزارا گیا ۔ اونچے اور برفانی علاقوں کے شدید موسمی حالات سے نمٹنے کیلئے اس یونٹ کو خصوصی کیٹس بھی مہیا کی گئی ہے اور انہیں ضروری  اور معیاری ساز وسامان بھی مہیا کیا گیا ہے۔

High Altitudeپولیس یونٹ کا قیام کا مقصد اس خطے میں آنے والے غیرملکی کوہ پیماؤں کو تحفظ فراہم کرنا ہے۔ گلگت بلتستان پولیس کے سربراہ کیپٹن (ر) ظفر اقبال اعوان نے چارج سنبھالتے ہی اس یونٹ کے قیام کیلئے راہ ہموار کی تھی ۔ قارئین کو یاد ہوگا کہ مورخہ22جون2013ء کو ننگاپربت بیس کیمپ پر غیر ملکی کوہ پیماؤں کے ساتھ ایک دلخراش سانحہ رونما ہوا تھا جس میں 10کوہ پیما جن کا تعلق یوکرائن، چیکوسلواکیہ، لتھوانیہ وغیرہ سے تھا کو دہشتگردی کا نشانہ بنایا گیا تھا ۔ گلگت بلتستان پولیس نے چیلنج سمجھ نہ صرف اس کیس کو ٹریس کیا بلکہ غیر ملکی کوہ پیماؤں کے قتل میں ملوث 6اہم ملزمان کو گرفتارکرلیا۔ اس کیس کے دیگر 7مطلوب مجرمان اشتہاری قرار دیئے گئے ہیں۔ پولیس ٹیمیں ان اشتہاریوں کی گرفتاری کیلئے تگ دو میں مصروف ہے۔ ان ملزمان پر انسداد دہشتگردی ایکٹ کے تحت مقدمات قائم کئے گئے ہیں اور انسداد دہشتگردی عدالت میں اس کیس کا ٹرائل جاری ہے۔ نیشنل ایکشن پلان کے تحت قائم فوجی عدالت میں ننگاپربت کیس کو بھی بھیجے جانے کی بھی باز گشت سنائی دے رہی ہے۔

اگرچہ ننگاپربت کیس کے ملزمان گرفتار کرلئے گئے ہیں لیکن اس واقع سے پاکستان اور اس خطے کے بارے میں عالمی سطح پر ایک برا تاثر قائم ہوا۔ دہشتگردی کا یہ واقع گنا چنا ہی رونما ہوا تھا لیکن پھر بھی غیرملکی سیاح، کوہ پیما اور ٹریکنگ کرنے والے یہاں سے رخ کرنے سے پہلے سیکورٹی کے حوالے سے سوچنے پر مجبور ہوگئے۔

گلگت بلتستان کے اس خطے کو جہان ہم بستے ہیں سیاحوں کی گم گشتہ جنت کہا جاتا ہے۔ اس خطے میں کوہ قراقرم، کوہ ہمالیہ اور کوہ ہندکش کے سلسلے آپس میں ملتے ہیں۔ گلگت بلتستان میں 82گلیشیئرز ہیں جن میں دنیا کا بلند ترین محاذ جنگ سیاچن گلیشیئر بھی شامل ہے ۔ ان علاقوں میں 46 درے واقع ہیں، جن میں خنجراب کا مشہور درہ بھی شامل ہے۔ ان علاقوں میں 20جھلیں واقع ہیں جن میں بعض ٹراوٹ مچھلی کے شکار کیلئے مشہور ہیں۔ یہاں پر 12دریا بہتے ہیں۔ دنیا کی جو چوٹیاں 26300فٹ بلند ہیں ان میں سے 8نیپال میں، پانچ گلگت بلتستان میں اور ایک عوامی جمہوریہ چین میں واقع ہے ۔ گلگت بلتستان میں کے ٹو، ننگاپربت، گشربروم اور راکاپوشی سمیت کل 110چوٹیاں ہیں، ان کے علاوہ کئی گمنام چوٹیاں بھی ہیں جن کا دریافت ہونا باقی ہے۔ ہر سال وزارت سیاحت غیرملکی سیاحوں، کوہ پیماؤں اور ٹریکنگ کی غرض سے گلگت بلتستان کا رخ کرنے والوں سے مقول زرمبادلہ حاصل کرتی ہے۔ مذکورہ بالا خصوصیات کے پیش نظر یہ خطہ دنیا بھر میں ٹوریزم کے حوالے سے مشہور ہے۔

ایسے میں جی بی پولیس کے سربراہ ظفر اقبال اعوان نے High Altitudeپولیس یونٹ کا قیام عمل میں لاکر ان تمام ملکی و غیر ملکی سیاحوں ، کوہ پیماؤں اور ٹریکنگ کرنے والوں کی توجہ ایک بار پھر اس خطے کی جانب مبذول کرنے کی کوشش کی ہے۔ ان کے اس اقدام سے غیرملکی سیاح اور کوہ پیما بلاخوف و خطر یہاں کا رخ اعتماد کے ساتھ کریں گے۔ انشاء اللہ وہ وقت پھر آئے گا جب گلگت بلتستان کی وادیاں سیاحوں سے بھری ہوں گیں۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔