راجہ حسین خان مقپون۔۔۔۔ صحافتی دنیا کا ایک روشن ستارہ

راجہ حسین خان مقپون۔۔۔۔ صحافتی دنیا کا ایک روشن ستارہ

11 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

تحریر :جونئیر شگری
بیورو چیف روزنامہ اوصاف گلگت بلتستان

مت سہل ہمیں جانو پھرتا ہے فلک برسوں
تب خاک کے پردے سے انسان نکلتے ہیں

10984070_532484936891850_3907665532047450355_nوہ نئی صبح کا امکان ہمیں دیکر گئے ایک نابعہ روزگار صحافی ، ایک عہدساز شخصیت میدان صحافت کے سب سے منفرد شاہسوار قراقرم پبلیشنگ گروپ آف نیوز پیپر ز کے بانی اخباری دنیا کے مردمیدان راجہ حسین خان مقپون کے بغیر صحافت کا تذکرہ ادھورہ رہے گا۔ ان کی محنت، ذہانت ، پیش بیتی کے مجسم دنیا کے سامنے ہے۔ راجہ حسین خان مقپون ایک محب الوطن بااصول اور بے حد منظم انسان تھی جنہوں نے ہمیشہ اصولوں کو فوقیت دی ۔ انہوں نے اپنی نت نئی خیالات اور تجربات سے مسلسل خدمت کی ، وہ کل بھی اہم تھا آج بھی اہم ہے اور کل بھی اہم رہیں گے۔ راجہ مقپون نے ذروں کو یکجا کرکے اینٹ بنائی اور اینٹ پر اینٹ رکھ کر دیوار اُٹھائی لیکن اس سے اُٹھانے سے پہلے اپنی منصوبوں کو انتی مستحکم بنیادوں پر استوار کیا کہ آج روزنامہ کے ٹو اور ایف ایم 99کی عمارت بلندیوں کو چھو رہی ہیں۔ 90میں جنم لینے والے روزنامہ کے ٹوآج جوانی کی دہلیز عبور کرکے عالمی صحافت پر دہمگ رہا ہے روزنامہ کے ٹو جو انکی شانہ بشانہ روزِ محنت و سعت سے پھلتا پھولتا چلاگیا اور آج ایک مستند اور باوقار ادارے کی شکل میں ہمارے سامنے ہے۔

راجہ مقپون نے پر آشوب دور میں تن وتنہا اور آزمائش کے مختلف مرحلوں سے گزر کر روزنامہ کے ٹو کو جس طرح آگے بڑھایا یہ ایک قابل رشک داستان ہے ۔ انہوں نے کبھی ہوش پر جوش کو غالب آنے نہ دیا ۔ کوئی بڑا قدم اُٹھانے سے پہلے مکمل منصوبہ بندی کی یوں مطلوبہ مقاصد حاصل کرنے میں کامیاب رہے۔ انہوں نے کبھی پیشہ ورانہ معاملات میں اپنی ذاتی انا کو کبھی داخل ہونے نہیں دیا ۔ انہوں نے صرف عوام کو اور اپنے قاریئین کو اہمیت دی وہ لکھا جو قاریئین چاہتے تھے۔ وہ کہا جو عوام کہتے تھے اسی وجہ سے راجہ مقپون نے اپنی اخبار کو عوامی مقبولیت کی انتہا تک پہنچاتے تھے۔ عوام کے زوق مطالعہ کو پرکھتے اور پھر جدید وقدیم صحافت پرانی اقدار اور نئی نسل کی تقاضوں کو سمو کر اپنی اخبار کو تازہ بتازہ رکھے۔ انکی اخبار کی نرسری اب ہر ابھرا باغ ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ قراقرم پبلیشرز کے بانی اب صحافت کی تاریخ کا حرف آخر بن چکا ہے۔ اخبار کو خوب سے خوب تر بنانا انکی زندگی کا مرکزی نقتہ تھا۔ صحافت جو کہ کسی بھی ریاست کا چوتھا ستون کا درجہ رکھتے ہیں گلگت بلتستان میں جدید اور سائنٹیفک صحافت کا تصورراجہ مقپون ہی نے دیا ہے۔ اخبارات کی طباعت کو بے حد جازب نظر بنادیا ۔ انہوں نے جدید ترین ٹکنالوجی سے ایسا انقلاب برپا کیا کہ روزنامہ کے ٹو گلگت بلتستان کا ترجمان بنایا گیا ۔ یہ واحد اخبار ہے جو مقامی سرخی دیکھ کر نہیں خریدا جاتا ۔ کراچی سے سیاچن تک صبح کا پتہ کے ٹو کے اوراق سے کیا جاتا ہے ہر آزاد معاشرے کا اہم جز معیاری اخبار ہوتا ہے ایسا اخبار جو حالات سے با خبر رکھے ، رہنمائی اور تفریح وعلم بھی فراہم کرے.

آج کے ٹو ایک چوڑے پاٹ کا دریا ہے جو زہنوں کو سیراب کر رہے ہیں۔ ہزاروں گھروں میں روشنی راجہ مقپون کی جلائی ہوئی شمع سے ہورہی ہے۔ کہتے ہیں کی انسان کو فتح کی صورت میں انکساری کا مظاہر ہ کرنا چاہئے اور عالم شکس میں باوقار نظر آنا چاہئے اس کی مکمل تصور دیکھنے ہو تو راجہ مقپون کو دیکھیں ان کی زندگی میں کیسے کیسے شب وفراز آئے لیکن انہوں نے عزم واستقلال کے ساتھ انکا مقابلہ کیا بدترین صورت میں بہترین فیصلے کیئے ان میں تحمل اور قوت برداشت بھی تھی وہ کبھی جذبات کے تابع نہیں رہا۔ میری نزدیک وہ ملک وقوم کے ذعماء میں شامل تھی جنکے میں دل سے عزت کرتا ہوں ۔ میں سمجھتا ہوں ایسے لوگ قوموں کو دوبارہ نہیں ملا کرتے۔ انکی سب سے بڑی خدمات گلگت بلتستان کو روزنامہ کے ٹو جیسا معتبر اخبار دینا ہے۔ راجہ مقپون 28فروری کو ایک حادثاتی حادثہ میں اپنی حقیقی مالک سے جا ملی اور ہم سے جدا ہوئے تین برس ہونے کو آئے مگر انکی شخصیت کی شادابی انکی ذہن رسائی تا بندگی وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اور بھی تابعدار ہوتی جارہی ہے۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔