کرکٹ ، سیاست اور گلگت

کرکٹ ، سیاست اور گلگت

11 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

زوالفیقار غازی 

جن کو برجیس طاہر کے گورنر بننے پر اعتراض ہے، جو غم زدہ ہیں، جن کو نظر اندز ہونے کا غم کھاے جا رہا ہے، ان کے دکھ میں سواے چند کے جن کو آنے والے الیکشنز میں گورنر کے سہارے جیتنے کا اندیشہ ہے سبھی برابر کے شریک ہیں۔ اگر چہ یہ زیادتی ہے لیکن یہ صرف گلگت بلتستان کے ساتھ تو نہیں ہو رہا ہے، لہذا صبر کرنے میں ہی آفیت ہے ورنہ بلند فشار خون جانلیوہ بھی ہو سکتا ہے۔ حا لات ایسے ہیں کہ ڈاکٹر کہے یا نہ کہے آپ بس نمک کا استعمال کم کر دیجیے۔ ذندہ رہے تو بدلہ بھی لے پائینگے آپ کے پاس تو ووٹ کا ہتھیار ہے ہی بس زرا صبر، صحح وقت آنے والا ہے۔ کچھ ایسے بھی ہیں جن کو برجیش طاہر کے گورنر بننے پر کوئی اعتراض نہیں ہے لیکن ان کا دکھ یہ ہے کہ موصوف وزیر بھی ہے۔یا وزیر یا گورنر ان کا موقف بہت سادہ ہے ۔

ہمیشہ منفی سوچنا ٹھیک نہیں، مثبت سوچنا صحت کے لئے بہت اچھا ہوتا ہے، ایسا کہا جاتا ہے لیکن ایسا بھی نہیں کہ جن کی صحت میں تھوڑی بہت لوچ ہے وہ ان کی سوچ کی وجہ سے ہے۔ ملک یا صوبے کے لئے نا صحح اپنی صحت کے خاطر مئی 2015تک یا کم از کم کرکٹ ورلڈ کپ کے اختتام تک ہی مثبت سوچ اپنانے کی کوشش کریں ورنہ ہماری ٹیم پاکستان اور ٹور منیجمنٹ نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ ملک میں دل کے ڈاکٹروں کے نجی کاروبار کو آٹھ چاند لگائینگے چار چاند تو پہلے سے لگے ہوے ہیں۔

سنا ہے وہ عوامی کاغذ جو سرکاری طریقے سے ایک دفتر سے دوسرے دفتر کی طرف سفر پر نکالا جاتا ہے کیوں کہ خود کاغذز سفر پر نکلتا نہیں ہمیشہ نکالا جاتا ہے، اس ملک میں سب سے زیادہ سفر کرتے ہیں ایک ہی شہر میں ہزاروں میل کا سفر کچھوے کی رفتار سے یوں طے کرتے ہیں کہ کاغذ جن کا ہوتا ہے ان کی ہڈیاں بھی گھل جاتی ہیں اور ان کے بچوں کی عمریں اس کاغذ کو دفتروں میں سے ڈھونڈتے ڈھونڈتے نکل جاتی ہے۔ ایک ہی دفتر میں ایک ٹیبل سے دوسرے ٹیبل تک کا سفر طے کرتے کرتے کاغذ کی حالت دور مغلیہ کے مقبروں سے برآمد شدہ کسی مغلیہ حکم نامے کی سی ہوجاتی ہے۔ یہ تو ان کاغذوں کی حالت ہے جو تحصیل لیول پر سفر میں ہوتے ہیں۔ ان عوامی کاغذوں کی حالت کیا ہوتی ہوگی جن کا سفر وزیر امور کشمیر و گلگت بلتستان تک براستہ اسمبلی و وزیراعلیٰ و گورنر ہوتا تھا؟ اب ان کاغذوں کا سفر کم ہوجاے گا، کیوں کہ ایک ہی دفتر میں دو ٹیبل لگائے گئے ہونگے ، آدمی ایک ہی ہوگا، ایک ٹیبل پر بطور گورنر دستخط ثبت کریں گے اور جب دفتری عملہ وہی کاغذ دوسرے ٹیبل پر شفٹ کریں گے تو وہی آدی جو اب اچانک وزیر امور کشمیر و گلگت بلتستان کے رول میں ہوگا کاغذ کو اپنی دستخط سے امر کر دینگے۔ اگر وزیر اعلیٰ بھی آپ ہوتے تو ؟ عوام کے کام کتنی آسانی سے نکل جاتے، ایک ہی دفتر میں تین ٹیبل ، ہر ٹیبل پر الگ الگ رنگ اور ڈیزاین کے پین تا کہ دنیا والوں کو لگے کہ تین عہدوں سے کاغذ کو عزت بخشی گئی ہے۔

چونکہ ایک آدمی کے پاس دو عہدے ہونے سے عوامی کام بہت آسان ہو رہے ہیں لہذا عوام کے کام کو اور آسان کرنے کے خاطر اگر تھانیدار وں کو ایس پی بھی بنا لیا جاے تو؟ کتنا اچھا ہوگا کہ تھانیدار صبح آٹھ سے دوپہر ۲ بجے تک تھانے میں ہو اور ۲ بجے سے رات گئے تک ایس پی کے آفس میں بطو ایس پی، یعنی صبح ڈی اس پی کو سلیوٹ اور شام کوڈی ایس پی کا سلیوٹ۔

یہ دو دو عہدے رکھنے کا رواج صرف یہاں نہیں ہے اس طریقے کا صحح استعمال کر کے پی سی بی نے بھی تو لاکھوں بچاے ہیں یعنی یہ طریقہ ایک طرح سے بچت سکیم بھی ہے۔ ایک ہی بندہ سلیکٹر بھی اور کوچ بھی؟ لیکن ہوا یوں کہ جن کھلاڑیوں کو بطور سلیکٹر انہوں نے ورلڈکپ کے کئے سلیکٹ کیا ان کی کوچنگ نہیں کی، اور نتیجہ آپ کے سامنے ہے۔ کرکٹ اور گلگت میں بھی ممثلت ہو گئی ہے۔ ۱۱ کھلاڑی کرکٹ میں، ۱۱ وزیر گلگت میں، کرکٹ میں اگر کھلاڑی پرفارم نہ کریں تو سلیکٹر غم مٹانے ، خفت چھپانے کسینو جاتے ہیں اگر گلگت میں وزیر پرفارم نہ کریں تو؟ کسی کو تو کسینو جانا ہوگا، تو کیوں نہ ایک کسینو بنایا جاے؟ غم مٹانے، خفت چھپانے کوئی کہاں جاے۔ آسٹریلیا میں کسینو جانا منع ہے ان کے لئے نہیں جو پرفارم کرتے ہیں ۔ کسینو آپ کا جانا سمجھ میں آتا ہے ، پر یا کہنا کہ کھلاڑیوں کی مانیٹرینگ کرنے گیا تھا، ظالم کیا آپ نے ٹیم میں پھر سے بٹ بھائی اور آصف بھائی جیسے یا ان سے متاثر کھلاڑی سلیکٹ کئے ہیں۔

فیلڈنگ کوچ ٹھیک آدمی نہیں اور اوپر سے وہ نہ پاکستانی ہے اور نہ مسلمان، وہ کون ہوتا ہے کہ وہ کیچ پکڑنے ، قلابازی کھانے اور تیز دوڑنے کی ٹرینگ کرواے، بھائی طے شدہ فیس لو اور آرم سے رہو اور ہمارے کھلاڑیوں کوبھی آرام سے رہنے دو۔ یہ کوئی سیکھنے اور سیکھانے والی چیز نہیں ہے۔ جو بڑے کھلاڑی ہیں ان کا یہ آخری دورہ ہے، ان کو ٹیم میں سے ایسے نکالا جاے گا جیسے پیر صاحب کو گورنر ہاوس سے نکالا گیا ہے۔ اب رہے عمر میں بڑے پر کارکردگی میں چھوٹے کھلاڑی ان کو خود یہ نہیں معلوم کب نکال دئیے جاینگے۔ لہذا موقع سے فایدہ اٹھانا ان کا حق بنتا ہے، پیسہ کمانے کا طریقے کھلاڑیوں کو کسینو میں ہی سکھایا جاتا ہے اور یہی وہ مقام ہے جہاں سے باقی زندگی کے لئے ذاد را ہ تیار کیا جا سکتا ہے۔ سنا ہے کتے کو گھی ہضم نہیں ہوتا ہے اور ۔۔۔۔۔۔۔ کو عزت۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔