کھیل میں زمہ داری

کھیل میں زمہ داری

46 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

hayatجب ہم چھوٹے موٹے کھیل کھیلا کرتے تو میدان میں اُترنے سے پہلے ہمارے بڑھے ہمیں نصیحت کرتے کہ شرافت،مقصد اور نتیجہ لے کے میدان میں اترو۔کوئی معمولی کھیل بھی ہارنے کے لئے نہیں کھیلا جاتا۔کھلاڑی اگر کھیل کو مذاق سمجھیں تو مقصد میں ہار لکھا ہوا ملتا ہے بلکہ اس کے ساتھ ساتھ ان کے ساتھ یہ بہت بُرا لگتا ہے دنیا کی تاریخ میں مختلف کھیل مشہور ہوتے رہے ہیں اور پھر ان کی اہمیت کم ہوتی رہی ہے اور ان سے لوگوں کے دل اچاٹ ہوتے رہے ہیں وہ کھیل جس میں وقت کم صرف ہومقابلہ سخت ہو جسمانی ورزش ہو وہ ہر لحاظ سے فائدہ مند ہوتے رہے ہیں۔ گھوڑ سواری،گھوڑ دوڑ ،نیزہ بازی،تیراکی،شمشیر زنی ،نشانہ بازی ،کُشتی وغیرہ اسلام میں جائز اور سنت رہے ہیں۔ہمارے لوگ ان کئی میدانوں کے مرد میدان رہے ہیں۔سکوائش،ہاکی،پہلوانی اور ریس وغیرہ میں قوم کانام روشن کرتے رہے ہیں۔کرکٹ کے اس طلسماتی دور میں قوم نے ان کھیلوں کو بھلا دیا۔آج قوم دیوانی ہے۔نوجوان دیوانہ ہے دنیا کی سنجیدہ نہیں غیر سنجیدہ قومیں دیوانی ہیں ہم سب کرکٹ کا گن گاتے ہیں۔دنیا کی بعض قومیں جس نے اس کو اہمیت دی اس میں ناقابل شکست رہی ہیں۔ان کی دیوانگی جائز ہے مگر ہم لوگ کیوں دیوانہ ہیں؟غرور کے چند بُت اٹھیلا اٹھیلا کے میدان میں اترتے ہیں بالر بولنگ میں ناکام ہے۔بیٹسمین بیٹنگ میں ناکام ہے۔اپنے روایتی حریف کے مقابلے میں میدان میں اترتے ہوئے کپتان کہتا ہے ہے ہم پورے اعتماد سے میدان میں اترررہے ہیں۔کیا ان کو نہیں کہنا چاہیئے تھا کہ ہم اللہ کا نام لے کر میدان میں اترتے ہیں۔کیا یہ مسلمان کی شان نہیں ہے ۔ادھر قوم مسلسل دعاؤں میں مصروف ہے۔مگر کھلاڑی ہار کے بھی ہم پر احسان جتاتے ہیں اور جیت کے بھی۔ہم گھر میں بیٹھ کے ٹی وی دیکھ رہے تھے۔تایاجی ساتھ تھا۔ہمارے کھیلاڑی کیچ چھوڑ رہے تھے۔چھکے کھارہے تھے اور ایک رنز پر4,4آوٹ ہورہے تھے۔تایا جی نے کہا کہ اس ناکامی کا علاج میرے پاس ہے ہم نے پوچھا تو اس نے کہا۔جو صفر پر اوٹ ہوجائے اس کو اسی گراونڈ سے ہی ملک بھیجدیا جائے۔ڈریسنگ روم بھی نہ جانے دیا جائے بات میں وزن تھی مگر کرکٹ کوBy Chanceکہنے والوں کی ہمدردیاں ٹیم کے ساتھ ہیں۔لیکن بعض کہتے ہیں کہ اگر یہ By Chanceہے تو دنیا کی دوسری ٹیمیں بھی اس کا شکار ہوں۔بات زمہ داری کی ہے۔کھیلاڑی ،سوز،زمہ داری اور جان فشانی کی آگ میں سے نہیں گزرتا۔اس کے وہ خالی ہاتھ ہے۔مقصد کوئی نہیں۔ہم بحیثیت قوم کرکٹ کو جو اہمیت دے رہے ہیں اگر ہمارے کھلاڑی بھی اتنی اہمیت دیں تو ناقابل شکست ہونے میں دیر کیا ہے۔میڈیا میں تبصیرہ نگار سیاست،اقربا پروری وغیرہ کے الزامات بھی لگاتے ہیں۔اگر اس میں سچائی ہے تو یہ قوم کے ساتھ مذاق ہے۔ہم پہچان والی قوم ہیں ہم سراٹھا کے چلنے والی قوم ہیں ہم تڑپ تڑپ کر جینے والی قوم ہیں ہماری ٹیم کو ہماری لاج رکھنی چاہئے۔ہمارے ساکھ کا خیال رکھنا چاہیئے۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔