میرٹ پر مبنی نظام قائم کر کے فرقہ وارانہ گروہوں کے دباؤ کا سدباب کیا جا سکتا ہے، وائس چانسلر قراقرم یونیورسٹی

میرٹ پر مبنی نظام قائم کر کے فرقہ وارانہ گروہوں کے دباؤ کا سدباب کیا جا سکتا ہے، وائس چانسلر قراقرم یونیورسٹی

7 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

گلگت( ریاض علی سے) وائس چانسلر قراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر محمد آصف خان نے کہا ہے کہ میرٹ کو قائم کر کے قراقرم یونیورسٹی کو ایک منفرد ادارہ بنایا جائے گا۔ یونیورسٹی کے معمولات میں کسی کو بھی مداخلت کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔میرٹ کو فالو کر کے تمام پریشر گروپوں کو خاموش کیا جا ئے گا۔ مجھے سے ایوان صدر میں سب سے پہلے سوال یہی کیا کہ گلگت بلتستان میں ہر معمولے کو مذہبی بنیاد سے دیکھا جاتا ہے آپ کس طرح اس کو ہینڈل کریں گے اس پر میں نے کہا کہ میرٹ  قائم کر کے تمام معمولات کو قابو کیا جائے گا۔

قراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی میں میٹ دی پریس سے خطاب کرتے ہوئے وائس چانسلر نے کہا کہ گلگت بلتستان میں جتناٹیلنٹ موجود ہے ویورپ اور امریکہ میں موجود نہیں ہے یہاں کے بچوں کو اگر یورپ اور امریکہ جیسے وسائل ملے تو دنیا میں ان کا کوئی بھی مقابلہ نہیں کرسکتا ہے۔گلگت بلتستان سے میرا زاتی لگاو ہے اسی لئے میں نے یہاں آکر کام کرنے کو ترجیح دی ۔یونیورسٹی میں بہت سے کام کرنے کو ہے سب سے پہلے یونیورسٹی کے نظام کو ٹھیک کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔میرا عزم ہے کہ یونیورسٹی کو ایک منفرد ادارہ بنائے اور اس حوالے سے کام جاری ہے۔قراقرم یونیورسٹی دنیا کا ایک یونیک ادارہ ہے جو دنیا کے تین عظیم پہاڈی سلسلے میں قائم ہے اور اس کی الگ پہچان ہے ۔یونیورسٹی میں طلبہ و طالبات کے لئے ٹرانسپورٹ اور ہاسٹل کی کمی ہے اور حوالے سے ایچ ای سی اور صوبائی حکومت کو آگاہ کر دی ہے لیکن تاحال ان کی طرف سے کوئی پیش رفت نہیں ہوئی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہاسٹل اور ٹرانسپورٹ کی فراہمی کے لئے گورنر اور ایچ ای سی کو تحریری طور پر مشکلات کے حوالے سے آگا ہ کر دی ہے یونیورسٹی کے سابقہ معمولات کے حوالے سے جائزہ لے رہاہوں اور ہر صورت میں میرٹ کو فالو کیا جائے گا۔اس وقت یونیورسٹی کے اندر 60سے زائد پی ایچ ڈی اساتذہ کام کر رہے ہیں ہم چاہتے ہیں کہ تمام اساتذہ پی ایچ ڈی ہوں۔ قراقرم یونیورسٹی کی طرف سے اور دیگر اداروں کی طرف دی جانے والی سکالرشپ میں 99فی صد کوٹے پر یہاں کے افراد کو ترجیحی دی گئی ہے اور آئندہ بھی دی جائے گی۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اس دفعہ داخلہ پالیسی کو تبدیل کر کے میرٹ اور ان کے مضامین کو دیکھ کے داخلہ دی گئی ہے اور ابھی تک کسی کی طرف سے بھی اس ایڈمیشن پالیسی کے حوالے سے شکایت نہیں آئی ہے۔ کچھ کو تاہیاں بھی ہوئی ہو گی آئندہ سال اس کو دور کیا جائے گا۔گلگت کیمپس میں انجئیئرنگ ڈیپارٹمنٹ کے لئے 46کروڈ کا پی سی ون منظور ہوا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم لیپ ٹاپ سکیم کی تمام تر معمولات وزیر اعظم ہاوس میں موجود سیل اور ایچ ای سی کر رہی ہے اور طلبہ و طالبات نے خود آن لائن فارم جمع کر دی تھی اس میں کچھ غلطیوں کی وجہ سے ایچ ای سی نے یونیورسٹیوں سے رابط کیا اور ہم نے باقاعدہ طور پر تمام تر ریکارڈ کو چیک کر کے ایچ ای سی کو بھجوائی تھی ۔ اور لیپ ٹاپ کی تقسیم بھی ایچ ای سی نے خود ڈیپارٹمنٹ وائز کی ہے۔ لیپ ٹاپ کی تقسیم وزیر اعظم خود آکر کریں گے۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔