پاکستان اور چین گلگت بلتستان کے عوام کو اعتماد میں لئے بغیر اکنامک کوریڈور نہیں بنا سکتے،چیمبر آف کامرس

پاکستان اور چین گلگت بلتستان کے عوام کو اعتماد میں لئے بغیر اکنامک کوریڈور نہیں بنا سکتے،چیمبر آف کامرس

14 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

2

گلگت( فرمان کریم) پاکستان اور چائینہ گلگت بلتستان کے عوام کو اعتماد میں لئے بغیر اکنامک کوریڈور نہیں بنا سکتے ہیں۔ گلگت بلتستان کے تاجر برداری کو نظرانداز کرتے ہوئے اکنامک کوریڈور بنایا گیا تو گلگت بلتستان کے تاجر پاک چائینہ خنجراب ٹاپ پر تادم مرگ احتجاجی ہڑتال کرینگے۔ اور یہ دھرنا تب تک جاری رہے گا جب تک گلگت بلتستان کے عوام اور تاجر برداری کے تحفظات کو دور نہیں کرتے۔ اکنامک کوریڈور کو دو حصوں میں تقسیم کیا جائے ایک زون سوست اور دوسرا گلگت کے کسی بھی علاقے میں قائم کیا جائے۔ اکنامک کوریڈور سے گلگت بلتستان کے حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جائے۔ اور گلگت بلتستان کے عوام کو زیادہ سے زیادہ مالی فوائد ملنا چاہیے۔ بصورت دیگر اکنامک کوریڈور کی شد ید مخالفت کرینگے۔ ان خیالات کا اظہار چمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری گلگت بلتستان کے صدر جاوید حسین نے پریس کانفرنس سے گفتگو کرتے ہوئے کہا۔ اُنہوں نے چمبر آف کامرس اینڈانڈسٹری کی طرف سے گلگت بلتستان کے عوام کے تحفظات اور مطالبات پر مبنی 13 رکنی نکات کے حوالے صحافیوں کو بتایا کہ ان مطالبات اور تحفظات پر حکومت پاکستان اور حکومت چائینہ کو مل کر حل کرنا ہو گا۔ اُنہوں نے کہا کہ عوام کو شعور و آگاہی دینے کے لئے چمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری گلگت بلتستان آل پارٹیز کانفرنس بلائے گی جس میں اکنامک کوریڈور کے حوالے سے عوام کو شعور و آگاہی دی جائے گی۔ اکنامک کوریڈور سے ملک پاکستان سے زیادہ فائدہ چائینہ کو ہو گی۔ پورپ کے لئے مال کی سپلائی کرنے کے لئے چائینہ پاکستان کے راستے گوادر پورٹ تک کاروباری رسائی چاہتی ہے جو کہ اکنامک کوریڈور کے ذریعے کاشغر سے گوادر ٹرین کے ذریعے تجارت کرے گی۔ جس سے براہ راست ہمسائیہ ملک چائینہ کو مالی فوائد حاصل ہے۔ پاکستان کو چاہئے کہ وہ ہمسائیہ ملک چائینہ کے ساتھ ملک کر اکنامک کوریڈور کے دو زون گلگت بلتستان میں قائم کرے۔ ان کا کہنا تھا کہ اکنامک کوریڈور کے قیام سے غیرملکی سرمایہ کاری کے مواقع ملیں گے اور تجارت کا ایک وسیع مواقع پید ا ہو نگے۔ تجارت کو زیادہ سے زیادی فروغ سینے کے لئے گلگت ارو سکردو میں انٹر نیشنل ایئر پورٹ قائم کیا جائے تاکہ آل ریڈر فلاٹیس سے تجارتی سرگرمیاں بڑھیں گے۔ اور گلگت میں چائینہ ویزہ سکشین کھولا جائے تاکہ تاجروں کو آسانی سے ویزہ کا حصول ممکن ہو سکے۔ اسلام آباد اور گلگت ، اسلام آباد اور سکرود کے لئے پی آئی اے کے پروازوں میں اضافہ کیا جائے۔ اُنہوں نے گلگت بلتستان کے سیاسی ، سماجی اور صحافتی حلقوں پر زور دیتے ہوئے کہا کہ وہ گلگت بلتستان کے مسائل کے حل کے لئے چمبر آف کامرس کا ہاتھ مضبوط کریں۔ اُنہوں نے حکومت پاکستان سے مطالبی کیا کہ گلگت سکردو روڈ پر جلد از جلد کام کا آغاز کیا جائے۔ گلگت کو دئبی اور ہانگ کانگ کی طرح ٹیکس فری زون قرار دیا جائے۔ اور گلگت بلتستان کے تاجروں سے سیلز ٹیکس اور انکم ٹیکس کا خاتمہ کیا جائے۔ اور گلگت بلتستان میں بجلی کے بحران کے حل کے لئے پاور منصوبوں پر سرمایہ کاری کی جائے ۔ چمبر آف کامرس گلگت بلتستان میں بجلی کی پیداوار بڑھانے کے لئے بیرونی سرمایہ کاروں کو دعوت دیتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ 40 ہزار میگا واٹ بجلی کے پیداوار کے لئے فزبیلٹی تیار ہے۔ مگر حکومت کی طرف سے فنڈز کی عدم فراہمی کی باعث عوام 23 گھنٹے کی لوڈشیڈنگ کے عذاب سے گزر رہے ہیں۔ بجلی کی قلت کے باعث چھوٹے تاجروں کے کاروبار بُری طرح متاثر ہے۔اُنہوں نے مذید کہا کہ اگر چائینہ میں گلگت بلتستان کے ساتھ تذلیل اور ناروک سلوک بند نہ کیا تو شید احتجاج کرینگے۔ جب ہم چائینہ کے تاجروں کو گلگت بلتستان آمد پر ان کے ساتھ ہمسائیہ اور پاک چائینہ دوستی کی وجہ سے احترام دیتے ہیں۔ مگر چائنیہ میں گلگت بلتستان اور پاکستانی تاجروں کے ساتھ نارواء سلوک کیا جاتا ہے۔ جس کی وجہ سے تاجر برداری میں شدید مایوسی پیدا ہو گئی ہے۔ پاکستان کو چاہیے کہ وہ ہمسائیہ ملک چائینہ سے بات کرے اور پاکستانی تاجروں کو عزت وتکریم دلائے تاجر برداری اپنی بے عزتی اور تذلیل برداشت نہیں کر ینگے۔ اُنہوں نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مذید کہا کہ گلگت بلتستان کے راستے تاجکستان روڈ کو کھولا جائے اور گلگت بلتستان سے بھی پاک افغان ٹرانزٹ کی اجازت دی جائے اور گلگت بلتستان کے تاجروں کو مالیاتی پیکج کا اعلان کیا جائے ۔ ایکسپورٹر کے مسائل کے حل کے لئے اقدامات کیا جائے ۔ بصورت دیگر خنجراب ٹاپ پر احتجاج پر مجبور ہو جائیں گے۔ اور چھوٹے تاجروں کے بارڈر پاس جلد از جلد جاری کیے جائیں تاکہ تاجر بروقت اپنی کاروباری سرگرمیوں کا آغاز کیا جاسکے۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔