ہنزہ نگر میں سیاسی سرگرمیاں عروج پرہیں

ہنزہ نگر میں سیاسی سرگرمیاں عروج پرہیں

4 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

ہنزہ نگر ( میڈیا سروے رپورٹ) ہنزہ نگر کے تین حلقوں میں انتخابات کے اعلان کرنے سے قبل ہی مختلف سیاسی جماعتوں کی سرگرمیاں گرمہ گرم شروع ہوگیءں۔ ہنزہ نگر میں انتخابی سرگرمیوں کاسلسلہ انتخابات سے بہت پہلے ہی شروع ہوگیا ہے. جس کی وجہ ہوٹل ہو یا کیٹین بس ہو یا سوزکی چوک ہو یا دکان عوامی حلقوں میں الیکشن متوقع 2015 گرمہ گرم موضوع  بحث بن گیا ہے ۔

ہنزہ نگر کے حلقہ 4نگر میں علاقہ میں سیاسی و سماجی حلقوں کی نمائدگی کرنے والے نہ صرف پیپلز پارٹی میں رہے اور نہ آل پاکستان مسلم لیگ میں رہے حلقے میں پاکستان مسلم لیگ ن میں شمولیت کے بعد حلقہ میں عوام کو انتخاب کرنا مشکل ہو گیا ہے۔ میڈیا سروے کے مطابق آئندہ ہونیت والے انتخابات میں ہنزہ نگر کے حلقہ 4میں شیعہ علما کونسل ، پاکستان مسلم لیگ ن اور متحدہ وحدت المسلمین کے درمیان کانٹا دار ہونے کا متوقع ہے ۔جبکہ دوسری جانب ہنزہ نگر کے حلقہ 5نگر میں گزشتہ انتخابات پر مد نظر رکھتے سروے کے مطابق پاکستان مسلم لیگ ق کے امیدوار نے پاکستان پیپلز پارٹی کو درجنوں ووٹ سے پاکستان پیپلز پارٹی کو شکست ملی تھی جہاں پر پاکستان پیپلز پارٹی کے حمایتی امیدوار دو حصوں میں تقسیم ہو گیا تھا ،جس کی وجہ سے پاکستان مسلم لیگ ق کے امیدوار نے حلقے سے جیت کا سہرا اپنے سر لیا تھا تاہم آئندہ ہونے والے انتخابات میں بھی سابقہ انتخابات میں جیتنے والے امیدوار اس دفعہ پاکستان تحریک انصاف میں شمولیت کے بعد سیاسی حالات مکمل طور پر تبدیل ہو چکے ہیں. نگر کے حلقہ 5میں پاکستان تحریک انصاف کے امیدوار، پاکستان پیپلز پارٹی اور تیسرے نمبر پر پاکستان مسلم لیگ ن کے درمیان کانٹا دار مقابلہ ہونے کا امکان ہے۔

ہنزہ نگر کے حلقہ 6ہنزہ میں بھی روایتی حریفوں کے درمیان آئندہ ہونے والے انتخابات میں مختلف سیاسی پارٹیوں سے وابسطہ امیدوار مد مقابل ہو نگے۔الیکشن 2009کے مطابق ہنزہ میں اچانک عوامی مطالبات اور احساس محرمیوں کو مد نظر رکھ عوام ہنزہ نے گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی میں اضافی سیٹ کے لئے متفقہ طور پر عوام نے الیکشن کا بائیکاٹ کرنے کا اعلان کیا مگر سیاسی و انتظامی امور نے عوام ہنزہ کی اُس مہم کو کامیاب نہیں ہونے دیا جس کے بعد تین سیاسی پارٹیاں الیکشن میں مد مقابل ہوگئے اور پاکستان پیپلزپارٹی فاتح قرار پائی. تاہم پیپلز پارٹی عوام ہنزہ کے ساتھ کیے جانے والے وعدے بھی پو ر ا نہ کر سکی اور عطاء آباد سانحہ کے بعد، خصوصا دو افراد کے قتل کے، اس کے ساکھ میں زبردست کمی آئی ہے.  گزشتہ انتخابات میں پاکستان پیپلز پارٹی نے ایم کیو ایم اور ہنزہ ایکشن کمیٹی کو بھاری اکثیریت سے ہرا دیا تھا. مبصرین کے مطابق اس بار بھی متوقع الیکشن 2015میں پاکستان مسلم لیگ ن اور پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدواروں کے درمیان سخت مقابلہ ہونے کا امکان ہے۔ تحریک انصاف کے امیدوار بھی متحرک نظر آتے ہیں.

ہنزہ نگر کے تینوں حلقوں میں مد مقابل سیاسی پارٹیوں کے علاوہ دیگر اور بھی جماعتیں میدان میں اتر آئے ہیں اوراپنے اپنے حلقوں میں خاندانی اثرورسوخ،  پیسوں کی طاقت اور مذہبی دباومیں بھی پھسے ہوئے ہیں۔ عمل اس بات کا ہے ہنزہ نگر کے عوام کو چاہیے کہ سابقہ ادوار میں عوام کی مشکلات میں مدد دینے والا سیاسی نمائندہ ، علاقے میں تعمیر و ترقی پر توجہ دینے والے فرد کو ووٹ دیکر عوامی نمائندوں کا انتخاب کرے۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔