چترال میں بلدیاتی انتخابات کی تیاریاں، ٢٤ وارڈز میں ١٥٧ امیدوار آمنے سامنے

چترال ( بشیر حسین آزاد) بلدیاتی انتخابات میں دسٹرکٹ کونسل کے 24وارڈز کیلئے کل 157امیدواروں میں مقابلہ ہو گا ۔ ڈپٹی کمشنر آفس چترال کے مطابق تحصیل چترال کے 14وارڈز کیلئے 85امیدواراور تحصیل مستوج کے 10وارڈوں کیلئے70 امیدوار آمنے سامنے ہونگے ۔ اسی طرح ضلع بھر کے 95ویلج کونسل اور پانچ نائبر ہوڈ کونسلوں کیلئے 1044امیدواروں میں ، خواتین ویلج و نائبر ہوڈ کیلئے 357،کسان مزدور کیلئے 462، یوتھ کیلئے384اوراقلیتی نشست کیلئے13امیدواروں میں مقابلہ ہو گا ۔ تحصیل مستوج کی مخصوص خواتین نشستوں کیلئے 24،کسان مزدور کیلئے9اور یوتھ کیلئے 9امیدوارمقابلے میں ہوں گے ۔ جبکہ تحصیل چترال کے مخصوص خواتین نشستوں کیلئے 14، کسان مزدور کیلئے 11، یوتھ کیلئے 12اور اقلیتی نشستوں کیلئے 5امیدوار مقابلہ کریں گے ۔ اسی طرح مخصوص وارڈ نشستوں کیلئے 14خواتین ، 10کسان مزدور،7یوتھ اور 5اقلیتوں میں مقابلہ ہو گا ۔ درین اثنا موجودہ بلدیاتی انتخابات میں بعض امیدواروں کی ون ٹو ون مقابلے کے باعث ڈسٹرکٹ کونسل کی کئی نشستیں انتہائی اہمیت حاصل کر گئی ہیں ۔ اور ان نشستوں کو امیدواروں کی سیاسی کرئیر کیلئے موت و حیات کا مسئلہ قرار دیا جا رہا ہے ۔ ان میں دروش ٹو میں آل پاکستان مسلم لیگ کے صدر شہزادہ خالد پرویز بمقابلہ آزاد امیدوار سابق ناظم حیدر عباس ،چترال تھری میں امیرجماعت اسلامی چترال حاجی مغفرت شاہ بمقابلہ عبدالولی خان ایڈوکیٹ تحریک انصاف ، یوسی کوہ میں سابق ایم پی اے مولانا عبدالرحمن جے یو آئی بمقابلہ محمد حکیم خان ایڈوکیٹ جنرل سیکرٹری پاکستان پیپلز پارٹی اور یوسی بونی میں رحمت غازی خان رہنما پاکستان تحریک انصاف بمقابلہ امیر اللہ سابق ناظم پاکستان پیپلز پارٹی ،یوسی اویر میں سابق ضلعی صدر پاکستان تحریک انصاف عبد اللطیف بمقابلہ مولانا نذیر جے یو آئی ، یوسی ارندو میں حاجی سلطان رہنما تحریک انصاف بمقابلہ شیر زمین آل پاکستان مسلم لیگ اور چترال ون میں ونگ کمانڈر (ر) فرداد علی شاہ رہنما تحریک انصاف ،مولانا جمشید احمد جماعت اسلامی اور قاضی فیصل پاکستان پیپلز پارٹی کے مابین مقابلے ہوں گے ۔ پاکستان پیپلز پارٹی تحصیل مستوج کے سابق صدر ابو لیث رمداسی نے پارٹی ٹکٹ میں اُسے نظر انداز کرنے پر پارٹی سے بغاوت کرتے ہوئے آزاد امیدوار کے طور پر انتخابات میں حصہ لیا ہے۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments