کلکا ٹاک گاؤں میں آرا مشین اور فرنیچر فیکٹری پر پٹرل چھڑکاکر آگ لگادی گئی۔ چالیس لاکھ روپے کا نقصان

کلکا ٹاک گاؤں میں آرا مشین اور فرنیچر فیکٹری پر پٹرل چھڑکاکر آگ لگادی گئی۔ چالیس لاکھ روپے کا نقصان

11 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

چترال(گل حماد فاروقی) چترال سے پچپن کلومیٹر دور علاقہ دروش کے کلکٹکKalkatakگاؤں میں نامعلوم افراد نے رات کے اندھیرے میں صلاح الدین طوفان کے آرا مشین اور متصل فرنیچر کے کارخانے میں آگ لگادی جس کے نتیجے میں آرا مشین میں تمام سامان بشمول بجلی کے موٹرز، مشنری اور قیمتی عمارتی لکڑی جن کی مالیت چالیس لاکھ بتائی جاتی ہے جل کر مکمل طور پر خاکستر ہوگیا۔

ایس ایچ او تھانہ دروش کے مطابق رات کے اندھیرے میں صلاح الدین طوفان کے آرامشین میں اچانک آگ بھڑک اٹھی جس کے نتیجے میں آرا مشین میں پڑے ہوئے قیمتی مشنری، عمارتی لکڑی اور دیگر سامان جل کر خاکستر ہوگئی۔

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ آرا مشین میں دو محتلف جگہہ پر آگ لگی تھی۔ جاوید اختر کا کہنا ہے کہ پٹرول کی بو بھی آرہی تھی اور قدرتی طور پر لگنے والی آگ صرف ایک جگہہ لگتی ہے جہاں سے وہ دوسرے جگہہ پھیلتی ہے مگر حالیہ واقعے میں آگ تین جگہہ پر لگی تھی فائر بریگیڈ، مقامی رضاکاروں نے فوری طور پر دوسری جگہہ میں آگ پر قابو پاکر بجھایا۔

کریم داد سینئر شہری کا کہنا ہے کہ صلاح الدین طوفان کا کسی کے ساتھ کوئی تنازعہ نہیں ہے اور پورے علاقے میں وہ سب کا خدمت کرتا ہے مگر نامعلوم افراد نے تحریب کاری کرتے ہوئے اس پر آگ لگایا۔

قاری جمال عبد الناصر کا کہنا ہے کہ اس واقعے کا جتنا بھی مذمت کی جائے وہ کم ہوگا یہ سراسر دہشت گردی اور تحریب کاری کا واقعہ ہے انہوں نے صوبائی اور وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا کہ متاثرہ شحص کے ساتھ مالی امداد کی جائے۔

صلاح الدین طوفان کا کہنا ہے کہ ان کا کسی کے ساتھ کوئی دشمنی نہیں ہے انہوں نے اپنا جمع پونجی اس مشین اور کارحانے میں لگائی تھی جہاں سے وہ روزی روٹی کما تا رہا مگر اب ان کے پاس کچھ بھی نہ رہا۔پورے مشین میں آگ لگنے سے سارا سامان خاکستر ہوگیا بجلی اس وقت بھی تھی آگ لگنے کے بعد مقامی لوگوں نے بجلی کی لائن اس کے بعد کاٹ ڈالی ۔ دوسرے کونے میں بھی آگ لگی تھی اور وہاں سے پٹرول کا بو آرہی تھی۔تاہم پولیس فی الحال تفتیش کررہی ہے اور ابھی تک FIR درج نہیں کی تاہم میرا ماموں زاد بھائی جو مشین کے ساتھ متصل ایک کمرے میں سورہا تھا وہ معجزانہ طور پر بچ گیا۔حضرت اللہ جو اس مشین میں سو رہا تھا اور اس واقعے کا عینی شاہد بھی ہے کا کہنا ہے کہ جب میری آنکھ کھلی تو کمرے میں دھواں تھا باہر نکلا تھا آگ کے شعلے آسمان کی طرف بھڑک رہے تھے ۔

انہوں نے مزید بتایا کہ اس نے رات کو پولیس اور فائر بریگیڈ کو اطلاع دی جو تھوڑی دیر بعد پہنچ گئی اور آگ بھجایا مگر ان کے آنے تک آگ نے سب کچھ جلاکر خاکستر کیا تھا۔

قاری فضل حق جو ایک سیاسی شحصیت ہے کا کہنا ہے کہ اس پر امن علاقے میں اس قسم کی تحریب کاری کسی بڑے سازش کا پیش حیمہ لگتا ہے۔حاجی گل نواز خان بھی ایک سیاسی کارکن ہے وہ بھی موقع پر پہنچ گئے انہوں نے بھی کہا کہ یہ دہشت گردی کا واقعہ لگتا ہے اور انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ اس کی صحیح معنوں میں تحقیقات کرے اور مجرموں کو گرفتار کرکے کیفر کردار تک پہنچائے۔

شیر حبیب جان ایڈوکیٹ کا کہنا ہے کہ صلاح الدین کے ساتھ کسی کا دشمنی نہیں ہے یہ ذاتی عناد بھی ہوسکتی ہے اور کسی سیاسی محالف نے ان کے ساتھ یہ زیادتی کی ہوگی تاہم پولیس کو چاہئے کہ اس پر ایکشن لے اور صحیح معنوں میں تحقیقات کرے ورنہ آئندہ بھی اس قسم کے واقعات پیش آسکتے ہیں انہوں نے مزید بتایا کہ پولیس کو چاہئے تھا کہ وہ نامعلوم افراد کے حلاف ایف آئی آر درج کرکے تفتیش کرتے مگر پولیس نے ابھی تک FIRدرج نہیں کیا۔

متاثرہ حاندان حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ ان کے ساتھ مالی امداد کی جائے تاکہ یہ دوبارہ اپنا مشین بناکر اپنا کاروبار شروع کرسکے تاکہ وہ اپنے اہل حانہ کیلئے رزق حلال کماسکے اور ملزمان کے حلاف سخت کاروائی کی جائے ۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔