حرُیت کا روشن ستارہ اب نہیں رہا

حرُیت کا روشن ستارہ اب نہیں رہا

11 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

Sher Ali Anjum سب سے پہلے گلگت بلتستان اور آذاد کشمیر کے تمام قوم پرست جماعتوں کے کارکنان سمیت حق پرست عوام اور لواحقین کو عظیم قومی لیڈر سید حید شاہ رضوی کی المناک وفات پر تعزیت پیش کرتا ہوں اور دعاہے کہ پروردگار حیدر شاہ کا عزم ، اُن کی قربانیاں اور مستحکم نظریہ ہم سب کیلئے قابل تقلید بناتے ہوئے اُنکے مشن کو جاری رکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔ سید حیدر شاہ رضوی اُس عظیم شخصیت کا نام تھاجو جوانی سے لیکرمرگ بستر تک ریاست اور ریاستی عوام کیلئے پریشان رہے لیکن بدقسمتی سے قوم نے اس عظیم قومی سرمائے کو انکی زندگی میں قبول نہیں کیا کیونکہ ہمارے عوام کو معلوم ہی نہیں کہ لیڈر کون ہوتے ہیں جس معاشرے میں جس حالات کے ساتھ ہم زندگی گزار رہے ہیں یہاں بیداری پیدا کرنے کیلئے لیڈر کے اندر کیا خاص خوبیاں ہونی چاہئے آج بھی ہم سب سمجھنے سے قاصر ہے یہی وجہ ہے کہ ہم ہرپانچ سال بعد لوٹوں کو لیڈر مان کر اُن کیلئے نعرے لگا تے ہیں۔علم سیاست کی رو سے دیکھا جائے تولیڈر دو طرح کے ہوتے ہیں اول وہ لوگ جو پیدائشی طور پر ایسی صلاحیتوں کے مالک ہوتے ہیں جن کی بنا پر وہ ایک نظریہ اور اصول واضح کرتے ہیں اور پھر اس نظریے اور اصول کی بنا پر لوگوں کی راہنمائی کرتے ہوے انہیں ایک قومی پلیٹ فارم میں جمع کرنے کی کوشش کرتے ہوئے نظریے اوراسی بنیاد پر قائم پلیٹ فارم سے ہی ایک لیڈر قوم کی راہنمائی کرتے ہوئے انہیں ترقی اور خوشحالی کی راہ پر گامزن کرتے ہیں۔دنیا میں ایسی کئی مثالیں ہمارے سامنے ہے کہ اُن معاشروں میں حقیقی لیڈران کی موجودگی کے سبب منتشر ،جنگ زدہ اور معاشی اور سیاسی لحاظ سے شکست خوردہ معاشرے اور ریاست کو ایک نظریے اور اصول کے تابع ہونے کی وجہ سے ایک نئی پہچان دے کر ترقی اور خوشحالی کے راہ پر رواں ہوئے۔ دوسرے قسم کے لیڈر وہ ہوتے ہیں جنھیں عوام آگے لاتے ہیں اور ان کی صلاحیتوں کی بنا پر انھیں اپنا قائد اور رہبرتصور کرتے ہیں.

حیدر شاہ رضوی کا شمار بھی ایسے لیڈران میں کیا جاتا تھا جو معاشرے کوپستیوں سے نکال کر بلندی کی طرف لے جانا چاہتے تھے۔ ایک مکمل مذہبی گھرانے میں آنکھ کھول کر سخت نظرئے کا حامل قومی لیڈر بننااُنکے اندر بچپن سے لیڈر انہ صلاحیت اور سوچ ہونے کی نشاند ہی کرتے ہیں لیکن پھر وہی بات دہراوں گا کہ ہم نے اس عظیم لیڈر کو زندگی بھر تنہا چھوڑا وہ چیختے رہے پُکارتے رہے لیکن ہمارے عوام کے اندراس عظیم لیڈر کو سمجھنے کی صلاحیت موجود ہی نہیں تھا یہی وجہ ہے کہ آج اُنکا دنیا سے جانے کے بعد ہم اُنہیں قومی ہیرو کا لقب دینے رہے ہیں۔اے کاش یہی الفاظ اُنہیں زندگی میں سُننے کوملتا تو شائد انکا زخم اور بیماری اسی خوشی میں ختم ہوجاتی کہ میرے عوام نے میری قومی جذبات کوسمجھ لیامگر افسوس ایسا نہ ہوسکا اور وہ ہم سب کو اشک بار چھوڑ کر دار فانی سے ابدی حیات کی طرف کوچ گئے۔اگر ہم انکی عملی سیاسی زندگی پر روشنی ڈالیں تو اُنہوں نے بلتستان اسٹوڈنٹس فیڈریشن کے پلیٹ فارم سے عملی سیاست کا اغاز کیا اُنکا شمار بی ایس ایف کے بانی اراکین میں ہوتا ہے اُس وقت سے لیکر آخری وقت تک انہوں نے ذاتی ذندگی کو بھی قوم پر قربان کرکے سوئی ہوئی قوم کو جگانے کیلئے عملی جدوجہدکرتے رہے یہی وجہ ہے کہ اُنکے المناک موت پر گلگت بلتستان سمیت آذاد کشمیر کے قوم پرستوں نے دلی افسوس کا اظہارانکی حق خودارادیت کیلئیدی جانے والی قربانیوں پر زبردست الفاظ میں خراج عقیدت پیش کیا ۔سید حیدر شاہ رضو ی اپنی پوری زندگی گلگت بلتستان کی حقوق کے حصول اور مسائل کی حل کے لئے جنگ لڑتے ہوئے کئی مرتبہ جیل گئے گلگت ، سکردو اور چلاس جیل میں مرحوم نے صعوبتیں برداشت کیں تاہم حق پر کبھی کوئی سمجھوتہ نہیں کیا اُنکے کے خلاف 51مقدمات قائم کئے گئے تھے ان میں بغاوت کا مقدمہ بھی شامل تھا تاہم بغاوت کے مقدمے میں وہ عدالت سے باعزت بری ہوگئے تھے ۔سید حیدر شاہ رضوی مرحوم کا شمار گلگت بلتستان کے ان قوم پرستوں میں ہوتا تھا جو نڈر، بہادر اور باکردارتھے انہوں نے ہمیشہ علاقے کے آئینی ، بنیادی اور سیاسی حقوق کی جنگ لڑی گزشتہ سال انہوں نے شگر ، کھرمنگ اضلاع کے علامتی جنازے نکالے اس دوران ان کا پولیس سے سامنا ہوا اور شدید ہاتھا پائی اور تصادم کے باعث اُنکے کے جسم پرشدید چوٹیں آئیں لیکن انہوں نے حق پرستی کی آواز کو بلند رکھا اورمسلط نظام کے غلام حکمرانوں کے خلاف برسرپیکار رہے۔ قومی حقوق کیلئے انکی تقریریں اور اُنکا منفرد انداز بیاں ایوان اقتدار میں لرزہ طاری پیدا کرتے تھے یہی وجہ ہے کہ اُنہیں حقوق کی جدوجہد کے دوران مختلف قسم کی پیشکش بھی کی گئیں تاہم انہوں نے تمام پیشکش کوٹھکرا کر اصل قومی حقوق کی حصولکیلئے جدوجہدکو اپنے لئے اعزاز سمجھ کر منقسم ریاستوں کے عوام کو اپنے حقوق کی خاطر بیدار ہونے کی نصیحت کرتے رہے،انہوں نیسٹیٹ سبجیکٹ رول کی بحالی،لائین آف کنٹرول کے تمام راستوں کو تجارت کیلئے کھولنے ،مہاجرین کارگل لداخ کی بحالی، نئے اضلاع کے قیام،حقوق بلتستان،کیڈٹ کالج اور یونیورسٹیوں کی قیام کیلئے عملی جدوجہد کیا یعنی انہوں نے مفاد پرست سیاست دانوں کے بلکل برعکس قوم کی حقیقی آزادی کے لئے جدوجہد کرتے ہوئیظالم نظام کے سامنے سر تسلیم خم کرنے سے انکار کر کے نئی نسل کو سبق دیا کہ وہ بھی اس راہ کو اپناتے ہوئے غلامانہ عہدوں کوٹھوکر مار کر اپنے آئینی و قانونی حقوق کے لئے ہمیشہ کمربستہ رہیں۔اُن کے اندروطن پرستی کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی یہی وجہ ہے کہ جیسے اوپر ذکر کیا کہ اُنکی ذاتی زندگی میں کئی موڑ پر بے شمار مسائل پیدا ہونے کے باوجود اُنہوں نے ذاتی زندگی سے بڑھ کر قومی حقوق کی جدوجہد کو اپنا فریضہ سمجھ کر ادا کیااُنکے اندر ایک خاص بات یہ تھی کہ وہ تلخ باتوں کو نہ صرف خندہ پیشانی سے سنا کرتے تھے بلکہ دلیل کے ذریعے لوگوں کو قوم پرستی کا فلسفہ سمجھاتے تھے صرف اتنا نہیں بلکہ اُن کا شمارخطے کے سخت گیر موقف اور نظریات سے سودا بازی نہ کرنے والے قوم پرست رہنماوں میں ہوتا تھایہی وجہ تھی کہ اُن کو قیدوبند کی صعوبتیں برداشت کرنی پڑی اور یہی انکیبیماری کا اصل سبب بنا۔ آخر میں یہی کہوں گا کہ اُ نکے ساتھ نہ صرف گلگت بلتستان کے دیگر قوم پرستوں نے قومیت اور نظریات کی بنیاد پر دھوکہ کیا بلکہ کشمیر کے کچھ نام نہاد قوم پرستوں نے بھی حیدر شاہ کی جذبہ حب الوطنی کو متنازعہ بنایاآج وہ ہم سے جُدا ہوچکے ہیں لیکن جبر و استحصال کے خلاف انکا نظریہ اور قومی حقوق کیلئے انکا مشن انشاللہ جاری رہے گا ۔میری دعا ہے کہ پررودگار انکی کاشوں کا صلہ بعد ازمرگ انہیں عطا کرے اور ہم سب کو باطل قوتوں کے سامنے کو حق گوئی کرتے ہوئے انکی کی راہ پرچلنے توفیق عطا فرما ئیں۔آمین

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

شیر علی انجم

شیر علی بلتستان سے تعلق رکھنے والے ایک زود نویس لکھاری ہیں۔ سیاست اور سماج پر مختلف اخبارات اور آن لائین نیوز پورٹلز کے لئے لکھتے ہیں۔