کچھ کہا نہیں جا سکتا

کچھ کہا نہیں جا سکتا

10 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

پچھلے نتائج  کو  پرکھا جائے  تو معلوم  یہی ہوتا ہے  کہ  مرکز میں جو   پارٹی یا  حکومت بر سر اقتدار  ہوتی  ہے  وہی پارٹی  گلگت بلتستان میں حکومت بناتی ہے   انتخابات کے نتائج جو کچھ بھی ہوں  آزاد امیدوار   جیتنے کے بعد  حکومتی بنچوں میں شامل ہوتے ہیں ۔


Hidayat-Ullahگلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی 33 نشستوں پر مشتمل ہے جو گلگت بلتستان امپاورمنٹ اینڈ سیلف گورننس آرڈر کے  تحت  سال ۲۰۰۹ میں  وجود میں لائی گئی  تھی   اور اسی سال ہی  اس نظام کے تحت   گلگت بلتستان میں  انتخابات  منعقد  ہوئے تھے  ۔ آزاد  امیدواروں کے ساتھ جن سیاسی  پارٹیوں نے ان انتخابات میں حصہ لیا ان میں پاکستان پیپلز پارٹی ،پاکستان مسلم لیگ نون، پاکستان مسلم لیگ کیو، ایم کیو ایم، اور جماعت اسلامی شامل تھیں، یہ انتخابات جو  پہلی بار ایک  آرڈیننس کے تحت ایک غیر آئنی  صوبائی حکومت جس  پر کئی سیاسی و مذہبی پارٹیوں کے تحفظات  شامل تھے  ،گلگت بلتستان  صوبائی حکومت کا  نام  دیا گیا ۔

ان انتخابات میں پاکستان پیپلز پارٹی ایک بڑی اور اکثریتی پارٹی کے طور پر سامنے آئی  اور پانچ سال کی مدت  پوری  کرنے کے بعد  سدھار گئی اور ایک  ترمیم کے ذریعے  نگران حکومت کا وجود آیا جو  اس سال جون کے مہنے میں  نئی مدت کے انتخابات کرنے کی ذمہ دار ہے  ۔اس وقت کی  اسمبلی میں پارٹی پوزیشن کچھ اس طرح سے تھی۔ پاکستان پیپلز پارٹی  کی انیس، مسلم لیگ نون کی تین، پاکستان مسلم لیگ کی تین، جے یو آئی کی چار، ایم کیو ایم کی ایک، بی این ایف کی ایک  اور آزاد امیدوار دو۔اس اسمبلی میں نو نشتیں جو خواتین اور ٹیکنوکریٹس کے لئے مختص تھیں ان میں سے چارخواتین کی نششتوں کے ساتھ   اور ایک  ٹیکنوکریٹس  کی نششت پیپلز پارٹی کے حصے میں  ،ایک  خاتون کی نششت کے ساتھ  ایک ٹیکنوکریٹ جے یو آئی جبکہ ایک خاتون  کی نششت کے ساتھ ایک  ٹیکنوکریٹس  کی نششت  پاکستان مسلم لیگ کے حصے میں آئیں ۔ یاد رہے کہ بی این ایف اور ایم کیوں بعد میں ہونے والے ضمنی انتخابات میں اسمبلی کا حصہ بنےتھے ۔

ان انتخابات میں براہ راست منتخب ہونے والے سیاسی پارٹیوں کی پوزیشن کچھ اس طرح سے تھی.  جی بی حلقہ نمبر ون اور دو سے آزاد امیدوار اور حلقہ نمبر تین سے پاکستان پیپلز پارٹی کا امیدوار، جی بی حلقہ نمبر چار نگر سے  پاکستان پیپلز پارٹی  اور حلقہ پانچ سے  پاکستان مسلم لیگ کیو کا امیدوار، جی بی حلقہ نمبر چھ ہنزہ سے  پاکستان پیپلز پارٹی اور جی بی حلقہ سات ،آٹھ، نو اور ،دس سکردو سے پاکستان پیپلز پارٹی اور حلقہ آٹھ سکردو تھری سے پاکستان مسلم لیگ نون  جبکہ حلقہ بارہ سکردو چار سے ایم کیو ایم کا امیدوار، اسی طرح جی بی حلقہ تیرہ اور چودہ ٹو استور سے پیپلز پارٹی اور حلقہ چودہ استور ہی سے مسلم لیگ کیو، جی بی حلقہ سولہ اور اٹھارہ سے جے یو آئی اور ستارہ سے مسلم لیگ نون کا امیدوار،جی بی حلقہ انیس بیس اکیس غذر سے پیپلز پارٹی کے تین اور حلقہ اکیس غذر ٹو سے بی این ایف کا ایک  امیدوار،جی بی حلقہ تئیس گھانچے سے پیپلز پارٹی کا ایک اور حلقہ نمبر چوبیس سے مسلم لیگ نون کا ایک۔


گلگت بلتستان کے ہیڈ کوارٹر گلگت میں  مذہبی عنصر کا اضافہ   زائد دکھائی  دیتا ہے ۔  خاص کر حلقہ نمبر ون اور ٹو   گلگت میں آج تک جتنے ووٹ ڈالے گئےہیں وہ صرف اور صرف مذہبی بنیاد پر پڑے ہیں۔  آئندہ آنے والے انتخابات میں بھی  اس عنصر کو یکسر رد نہیں کیا جا سکتا ہے۔


اس سیاسی پس منظر کی روشنی میں ہی اس نظام کے تحت دوسری قانون ساز اسمبلی کے  انتخابات  کا جائزہ اور پیشن گوئی کی جا سکتی ہے کہ آئندہ آنے والی حکومت کس کی ہو سکتی ہے۔ ان نتائج کے علاوہ گلگت کی سیاست میں کچھ اور عنصر بھی  ہیں جو انتخابات کے نتائج بدلنے اور تبدیل کرنے کے سبب بنتے ہیں ۔جوکہ میرے خیال میں پاکستانی  سیاسی معاشرے کا خاصہ ہیں  ۔برادری اور قبیلے کی بنیاد پر ووٹ حاصل کرنا۔اس سے ہٹ  کر گلگت بلتستان کے ہیڈ کوارٹر گلگت میں  مذہبی عنصر کا اضافہ   زائد دکھائی  دیتا ہے ۔  خاص کر حلقہ نمبر ون اور ٹو   گلگت میں آج تک جتنے ووٹ ڈالے گئےہیں وہ صرف اور صرف مذہبی بنیاد پر پڑے ہیں۔  آئندہ آنے والے انتخابات میں بھی  اس عنصر کو یکسر رد نہیں کیا جا سکتا ہے۔

گلگت بلتستان کی سیاسی تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہوتی ہے کہ یہاں نظریاتی بنیاد پر ووٹ بہت کم پڑتے ہیں. مرکز اسلام آباد میں پاکستان مسلم لیگ کی حکومت قائم ہے دیکھنا یہ ہے کہ گلگت بلتستان میں  حکومت کس کے ہاتھ میں آتی ہے۔ پچھلے نتائج  کو  پرکھا جائے  تو معلوم  یہی ہوتا ہے  کہ  مرکز میں جو   پارٹی یا  حکومت بر سر اقتدار  ہوتی  ہے  وہی پارٹی  گلگت بلتستان میں حکومت بناتی ہے   انتخابات کے نتائج جو کچھ بھی ہوں  آزاد امیدوار   جیتنے کے بعد  حکومتی بنچوں میں شامل ہوتے ہیں ۔گلگت بلتستان کا ووٹر ہو یا پارٹی کا رہنما  سوائے چند افراد کے ان کی  نظریاتی وابستگی  پارٹیوں کے ساتھ اتنی زیادہ نہیں ہوتی ۔ان کے سامنے متمنی نظر یہی ہوتا ہے کہ  وقت سے فائدہ اٹھایا  جائے۔

اب کے بار جو انتخابات ہونے جا رہے ہیں ان کے لئے سیاسی جوڑ توڑ زور و شور سے جاری ہے ۔اور اس  بار کے  گلگت بلتستان  کے انتخابات میں  پاکستان کی سیاسی پارٹی  تحریک انصاف اور دو مذہبی پارٹیوں  ایم ڈبلیو ایم اور تحریک اسلامی  کا اضافہ   ہے. پچھلے انتخابات  کے نتائج  کی طرف دیکھا جائے  تو پتہ چلتا ہے کہ  عموما چھوٹی پارٹیاں اور آزاد امیدوار آخری دنوں میں انتخابات سے دستبردار  یا دوسری بڑی سیاسی پارٹیوں کی حمایت  کرنے میں لگ جاتی ہیں  جس کے باعث    گلگت بلتستان  میں راتوں رات سیاسی نقشہ بدل جاتا ہے۔ اس لئے کوئی بھی وثوق سے نہیں کہہ سکتا کہ  اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا.


موجودہ صورت حال کو مد نظر رکھا جائے تو  سوائے  چند حلقوں میں جہاں  آزاد امیدواروں  کے ووٹ بنک ہیں  دو بڑی سیاسی پارٹیاں  پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ  نمایاں ہیں   ۔ اگلے چند روز میں  انتخابی جوش خروش میں مزید  تیزی آنے کا امکان ہے ۔  اس جوڑ توڑکے  نتیجے  میں جو  تصویر  ٓ ابھرے گی اس کی روشنی میں ہی  گلگت بلتستان کے   آئندہ انتخابت کی صحیح پیشنگوئی ہوسکے گی ابھی کچھ کہا نہیں جا سکتا۔


الیکشن کمیشن آف  گلگت بلتستان  نے اب تک جو حتمی فہرست جاری کر دی ہے اس کے مطابق  آئندہ ہونے والے  انتخابات میں  امیدواروں  کی  ایک  کثیر تعداد نظر  آتی ہے ۔درجن بھر سے کم  تو کسی حلقے میں   نظر نہیں  آتے ۔اس صورت حال کے پیش نظر سیاسی تجزیہ کیا جائے تو لگتا ایسا ہے کہ گھمسان کا رن پڑنے والا ہے۔ اگر ان انتخابات کو مراعات حاصل کرنے کی جنگ قرارا دیا جائے تو مناسب ہوگا  وہ اسلئے کہ  پچھلی صوبائی حکومت کے ٹھاٹ بھاٹ ہی  امیدواروں  کی اتنی کثیر تعداد کی وجہ بنی  ہے ۔ ۔جیسا اوپر مذکور ہوا ہے کہ ان کے سامنے  بس ایک ہی مقصد ہے کہ کسی طرح سے انتخاب جیتنا ہے۔ دوسری بات خواتین اور ٹیکنوکریٹس  کی  نششت کے خواہش مند بھی اسی جوڑ  توڑ میں مصروف ہیں کہ کس سیاسی پارٹی کی حمایت  میں ان کا فائدہ پوشیدہ ہے وہ اس لئے کہ ٹیکنوکریٹس اور خواتین  کے انتخاب میں کوئی معیار مقرر نہیں  اور اسمبلی میں منتخب ہونے والے   ممبران ہی  ان  نششتوں کو پُر کرتے ہیں اور پچھلی صوبائی حکومت میں   خواتین اور ٹیکنوکریٹس   کے معیار کو ملحوظ خاطر ہی نہیں رکھا گیا۔ایسی خواتین اور ٹیکنوکریٹس اسمبلی میں آئے  جو ٹیکنو کریٹس اور  مخصوس نششت  کے مقصد سے ہی بے خبر تھے ۔فلاح و بہبود کے حوالے سے بات کی جائے تو   ایسا کوئی کام بھی  ہمیں نظر نہیں آتا جو خواتین کے لئے کیا گیا ہو۔ ٹیکنوکریٹس صرف نمبرداری ہی جماتے رہے  ویسے تو  سارے ممبروں نے مراعات اور پروٹوکول  اٹھانے کے سوا   فلاحی منصوبوں کی طرف  توجہ نہیں دی  اور جنہوں نے  کچھ کیا بھی تو صرف اپنے  مذہب اور علاقے یا  مخصوص افراد کو نوازنے یا ذاتی فائدہ  کی نسبت سے  ۔جو  بھی ترقیاتی کام ہوئے  ان کو دیکھا جائے تو  وہ صرف مخصوس فرقہ یا علاقے کو فائدہ پہنچانے  کے سوا کچھ نظر  نہیں آتا  ۔یہ عنصر بھی  گلگت بلتستان کے آئندہ  آنے والے انتخابات میں ضرور  اثر انداز ہوگا ۔

دوسری باتوں کے علاوہ جدید کمپوٹرئزد  شناختی کارڈ  سسٹم کے تحت ووٹر لسٹ  بھی ان انتخابات کے نتائج  کی تبدیلی کا باعث بنے گی  وہ اس لئے کہ جعلی اور ڈبل ووٹنگ  کا عنصر اب کے انتخاب میں کم رہےگا۔  ابھی تک گلگت بلتستان  کی انتخابی مہم میں جوش اور خروش کا عنصر  اس نہج میں نہیں پہنچا ہے  جس کے باعث کسی پارٹی یا آزاد امیدواروں کی جیتنے کی پیشن گوئی کی جا سکے  ۔موجودہ صورت حال کو مد نظر رکھا جائے تو  سوائے  چند حلقوں میں جہاں  آزاد امیدواروں  کے ووٹ بنک ہیں  دو بڑی سیاسی پارٹیاں  پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ  نمایاں ہیں   ۔ اگلے چند روز میں  انتخابی جوش خروش میں مزید  تیزی آنے کا امکان ہے ۔  اس جوڑ توڑکے  نتیجے  میں جو  تصویر  ٓ ابھرے گی اس کی روشنی میں ہی  گلگت بلتستان کے   آئندہ انتخابت کی صحیح پیشنگوئی ہوسکے گی ابھی کچھ کہا نہیں جا سکتا۔

دیکھئے اس بحر کی تہ سے اچھلتا ہے کیا

گنبد نیلوفری رنگ بدلتا ہے کیا

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments