گلگت بلتستان میں حکومت سازی

گلگت بلتستان میں حکومت سازی

6 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

عبدالجبارناصر

Abdul Jabbar Nasir (1) (1)گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی کاانتخابی عمل مکمل ہونے کے بعد اب حکومت سازی کا عمل بھی آخری مرحلہ میں ہے، مسلم لیگ(ن) نے وزیر اعلیٰ کیلئے صوبائی صدر حافظ حفیظ الرحمن ،اسپیکر کیلئے حاجی فدا محمد ناشاداور ڈپٹی اسپیکر کیلئے جعفراللہ خان کو امیدوار نامزد کیاہے۔وزیر اعلیٰ کا انتخاب 26جون(کل)جبکہ اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کا انتخاب 25جون کو(آج )ہوگا۔ قبل ازیں 23جون کو خواتین کی 6اور ٹیکنوکریٹ کی 3نشستوں کا متناسب نمائندگی کے ذریعے انتخاب کیاگیا جس میں مسلم لیگ(ن) کو خواتین 6میں سے 4اورٹیکنوکریٹ 3میں سے 2کی نشستیں ملی جبکہ مجلس وحدت مسلمین کو خاتون کی ایک اور اسلامی تحریک پاکستان ایک خاتون نشست اور قرعہ اندازی میں ٹیکنوکریٹ کی ایک نشست ملی۔مخصوص نشستوں پر انتخاب کی تکمیل کے بعد اب 33رکنی ایوان میں مسلم لیگ(ن)کی22،اسلامی تحریک پاکستان کی 4،مجلس وحدت مسلمین کی 3،جمعیت علماء اسلام (ف)،پیپلزپارٹی ،تحریک انصاف اور بالاورستان نیشنل فرنٹ کی ایک ایک نشست ہے۔

مسلم لیگ(ن) نے خواتین اور ٹیکنوکریٹ کی مخصوص نشستوں کیلئے انتخابی عمل کے دوران ہونے والے معاہدوں اور میرٹ کو مدنظر رکھاہے تاہم رانی عتیقہ غضنفر علی خان کی نامزدگی کے حوالے سے لیگی حلقوں میں تشویش ہے اور کہا جارہاہے کہ ان کا انتخاب میرٹ سے ہٹ کر کیاگیا ہے کیونکہ پارٹی کیلئے ان کی کوئی خدمات ہیں اور نہ ہی انہوں نے حالیہ انتخابات میں پورے خطے میں مسلم لیگ (ن) کی کامیابی کیلئے کوئی اہم کردار ادا کیا،ان کے پاس سوائے میر غضنفر علی خان کی اہلیہ ہونے کے کوئی میرٹ نہیں ہے جبکہ بعض ذرائع کا کہناہے کہ میر غنضفر علی خان وزیر اعلیٰ بننے کیلئے بضد تھے اور انہوں نے اندورون اور بیرون ملک تمام ذرائع استعمال کیے تاہم وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف نے حافظ حفیظ الرحمن کے مقابلے میں میر غضنفر علی خان کو وزیر اعلیٰ نامزد کرنے سے انکار کردیا اور واضح طور پر کہاکہ فوجی آمر کے دور میں میر غضنفر سمیت تمام لوگ پارٹی چھوڑ کر آمر کے ساتھ گئے لیکن حافظ حفیظ الرحمن نہ صرف ان مشکل حالات میں پارٹی کے ساتھ کھڑے رہے بلکہ پارٹی کو متحد ،منظم اور فعال بنانے میں ان کاہی کردار ہے اور حالیہ کامیابی بھی ان کی بہترین حکمت عملی کا نتیجہ ہے۔لیگی ذرائع کا کہناہے کہ 22جون کو میر غضفر علی خان کی جانب سے وزیر اعلیٰ کا امیدوار ہونے کے بیان پرن لیگ میں سخت ناپسندیدگی کا اظہار کیاگیا ہے ،جس کے بعد ہی میر غضنفر علی خان نے اپنی خواہش کو دوبارہ نہیں دھرایا اور انہیں خوش رکھنے کیلئے پارٹی نے خواتین کی مخصوص نشست پر ان کی اہلیہ کو آخری مرحلے پر شامل کیاگیا۔

گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی کے پہلے اجلاس میں 24جون کو تمام33ارکان نے اپنی رکنیت کا حلف اٹھا یا اور اسپیکر وزیر بیگ نے ان سے حلف لیا، اسمبلی کا دوسرا اجلاس 25جون کو(آج) ہوگاجس میں اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کا انتخاب ہوگا،مسلم لیگ(ن)نے اسپیکر کیلئے بلتستان سے سینئر سیاستدان اور سابق ڈپٹی چیف ایگزیکٹو فدا محمد ناشاد کو اسپیکر جبکہ پارٹی کے دیرینہ کارکن اور گلگت سے منتخب رکن جعفرا للہ خان کو ڈپٹی اسپیکر کیلئے امیدوار نامزد کیاہے۔ اپوزیشن کے سینئر رہنماء نواز خان ناجی کے مطابق اپوزیشن نے تحریک انصاف کے راجہ جہانزیب کو اسپیکر اورمجلس وحدت مسلمین کے کاچو امتیاز حیدرکو ڈپٹی اسپیکر کیلئے نامزد کیا ہے ۔26جون کے اجلاس میں قائدایوان کا انتخاب ہوگا، مسلم لیگ (ن)نے صوبائی صدر حافظ الرحمن نامزد کیاہے۔ وزیر اعلیٰ ،اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کی نشستوں پر مسلم لیگ(ن) کے امیدواروں کی کامیابی یقینی ہے کیونکہ 33رکنی ایوان میں 22ارکان کی حمایت حاصل ہے،تاہم کوشش جاری ہے کہ وزیر اعلیٰ ،اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کا انتخاب اتفاق رائے سے ہوجائے اس ضمن میں رابطے جاری ہیں ممکن ہے کہ اس سطور کی اشاعت تک صورتحال واضح ہوجائے گی۔26جون کو مسلم لیگ (ن) کے سربراہ اور وزیر اعظم پاکستان میاں محمد نوازشریف کی گلگت آمد متوقع ہے ۔لیگی ذرائع کے مطابق وہ وزیر اعلیٰ کے انتخاب کے اجلاس میں میں شرکت اور خطاب کریں گے اور بعد ازاں حلف برداری کی تقریب میں شریک ہوں گے۔وزیر اعظم نوازشریف اجلاس سے متوقع خطاب میں اہم گلگت بلتستان کے حوالے سے کئی اہم اعلانات اور سابقہ اعلانات پر عملدرآمد کے حوالے سے احکام بھی جاری کریں گے۔

گلگت بلتستان میں مجموعی طور پر دوسری بار مسلم لیگ(ن) کو حکومت بنانے یا حکومتی اتحاد میں شامل ہونے کا موقع ملاہے۔ خطے میں پہلی بار جماعتی بنیادوں پر 1994ء میں انتخابات ہوئے اور پیپلزپارٹی نے دوسری جماعتوں کے ساتھ مل کر حکومت بنائی اور ڈپٹی چیف ایگزیکٹو پیر کرم علی شاہ کو بنایا۔1999ء کے انتخابات کی تاریخ کا اعلان اگرچہ مسلم لیگ(ن) نے کیا،لیکن انتخابی عمل قبل سے قبل ہی12اکتوبر 1999ء کو فوجی آمر پرویز مشرف نے اقتدار پر قبضہ کرکے وزیر اعظم نوازشریف سمیت بیشتر لیگیوں کو گرفتارکیا ،اس کے باوجود3نومبرکو ہونے والے انتخابات میں مسلم لیگ(ن)24میں سے 6نشستیں حاصل کرنے میں کامیاب رہی اور اسلامی تحریک پاکستان (کالعدم تحریک جعفریہ پاکستان) کے ساتھ مل کر حکومت سازی کی۔ اسلامی تحریک پاکستان کے فدا محمد ناشاد،ڈپٹی چیف ایگزیکٹو اور مسلم لیگ(ن) کے چیف جسٹس حاجی صاحب خان اسپیکر منتخب ہوئے۔2004ء میں انتخابی عمل میں پروزیر مشرف کی سرپرستی میں مسلم لیگ (ق) کامیاب ہوئی اورمیر غضنفر علی خان چیف ایگزیکٹو ،ملک محمد مسکین اسپیکر اورسید اسد زیدی ڈپٹی اسپیکر منتخب ہوئے،جبکہ پہلی مرتبہ ایوان میں قائد حزب اختلاف کا عہدہ تخلیق کیا گیا اور مسلم لیگ( ن) کے حافظ حفیظ الرحمن خطے کے پہلے قائد حزب اختلاف بنے۔

2009ء میں پیپلزپارٹی نے خطے کیلئے خصوصی انتظامی پیکج دیا جس کے تحت گلگت بلتستان کو انتظامی صوبے کا درجہ ملا اور پہلی بار گلگت بلتستان قانون ساز کونسل کو قانون ساز اسمبلی کا درجہ دیا گیا اور گلگت بلتستان قانون ساز کونسل کے نام سے وزیر اعظم کی سربراہی میں 15رکنی ایوان بالا تشکیل دیا گیا۔پیپلزپارٹی کے سید مہدی شاہ بھاری اکثریت سے خطے پہلے وزیر اعلیٰ بنے جبکہ استور سے تعلق رکھنے والی خاتون ڈاکٹر شمع خالد کو پیپلزپارٹی نے گورنر مقرر کیا بعدا زاں ان کے انتقال کے بعد پیر کرم علی شاہ کو گورنر بنایایاگیا۔

قانون ساز اسمبلی کیلئے دوسری بار 8جون 2015ء کو انتخابات ہوئے اور مسلم لیگ (ن) دو تہائی اکثریت کے ساتھ حکومت سازی کے عمل میں مصروف ہے۔ سیاسی حلقوں میں مجموعی طور پر انتخابی عمل کو تسلی بخش قرار دیا جارہاہے تاہم بعض جماعتوں کی جانب سے مختلف انتخابی حلقوں میں سنگین انتظامی اور ماقمی شکایات کا بھی سامناہے،اس ضمن میں پیپلزپارٹی اور تحریک انصا ف اور مجلس وحدت کی جانب سے تحفظات سامنے آئے ہیں تاہم انتخابات میں نظر رکھنے والے غیر جانبدار بیشتر ادارے اور مبصرین چند انتخابی حلقوں کے سوا اپوزیشن جماعتوں کے اعتراضات کو بے جا قرار دے رہے ہیں ۔مبصرین کے مطابق پیپلزپارٹی کی ناکامی کی اصل وجہ 5سالہ بدترین حکمرانی اور ناکام انتخابی حکمت عملی ہے شاید اس کا اداراک پیپلزپارٹی کی قیادت کو بھی ہے یہی وجہ ہے کہ گزشتہ ہفتے اسلام آباد میں اس ضمن میں اہم اجلاس ہوا جس میں پارٹی کی تنظیم نو کرنے کا فیصلہ کیاگیا۔ اطلاعات کے مطابق سابق وزیر اعلیٰ اور پارٹی کے صوبائی صدر سید مہدی شاہ کو عہدے سے ہٹادیاگیاہے تاہم سید مہدی شاہ کا دعویٰ ہے کہ ایسا نہیں ہوا ہے اور وہ اب بھی پارٹی کے صوبائی سربراہ ہیں۔مبصرین کے مطابق پیپلزپارٹی کیلئے ضروری ہے کہ وہ اپنی حکمت عملی عوامی امنگوں کے مطابق بناکر عوام کی فلاح وبہبودکیلئے ایوان کے اندر اور باہر مثبت کردار ادا کرے اور کسی ایسے جارحانہ عمل سے گریز کرے جو خطے میں کشیدگی کا باعث بنے اسی میں اس کی بہتری ہے۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔