نئی حکومت خوش آمدید ۔مگر ۔۔

نئی حکومت خوش آمدید ۔مگر ۔۔

6 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

تمام تر عوامی توقعات اور سوشل میڈیا مجاہدین کی اُمیدوں پر پانی پھیرتے ہوئے نواز لیگ کی بھاری اکثریت کیساتھ Sher Ali Anjum خطے کی تاریخ میں بے بس جمہوری سفر کا دوسرا دور شروع ہونے پرصاحبان اقتدار کو مبارک باد پیش کرتا ہوں اوردعا ہے کہ یہ حکومت سابق حکومت کے نقش قدم پر چلنے کے بجائے عوام سے کئے ہوئے وعدوں کو عملی جامہ پہنانے کیلئے پہلے نوے دن میں جامع پالیسی کے ذریعے پانچ سال تک معاشرتی ضروریات پر توجہ دینے کی توفیق عطا فرمائے۔

اسکے علاوہ نئے آنے والے اراکین قانون ساز اسمبلی کوبھی خصوصی طور پر مبارک بار کہتا ہوں جنہیں عوام نے تبدیلی کے نعرے کی بنیاد پر ووٹ دیکرایوان اقتدار میں پہنچایا۔ ، اب دیکھنا یہ ہے کہ یہ لوگ کس طرح ایوان کو کرپشن اور بدعنوانی سے پاک کرکے وفاق کی طرف سے ملنے والی محدود بجٹ کو عوامی فلاح اور خطے کی تعمیر اور ترقی پر استعمال کرنے کیلئے کوششیں کرتے ہیں۔

ہم اگر خطے کی سیاسی تاریخ کا مطالعہ کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ ناکام بغاوت اور جعلی الحاق سے لیکر اب تک کے سفر میں خطے کی آوے کا آوا بھگڑا ہوا ہے کیونکہ بدقسمتی سے ماضی سے لیکر آج تک اس خطے کو ہمارے ہی لوگوں کی وجہ سے وفاق نے سوتیلی ماں جیسا سلوک روا رکھا ہیں۔ یہاں وفاق کی طرف سے جو بھی نظام نام بدل بدل کر نافذ کیا اُس نظام کے تحت کام کرنے والوں نے کبھی بھی خطے کی ضرورت اور ہماری حیثیت کی پاسداری نہیں کی بلکہ فنڈز کی بندربانٹ سے آج کئی لوگ ہزار پتی سے کروڑ پتی بن چُکے ہیں۔ جن میں ٹرانسپورٹ مافیا، گندم مافیا،پولٹری مافیا، لینڈ مافیا،نوکری مافیا و دیگر مافیاز شامل ہیں۔

اگر ہم گزشتہ دس سالوں میں خطے کی نظام تعلیم اور معیار تعلیم کو دیکھیں تو ایسا لگتا ہے کہ یہ محکمہ معیار کے حوالے سے آخری ہچکیاں لے رہی ہے کیونکہ سابقہ حکومت نے محکمہ تعلیم کو محکمہ تجارت اور کرپشن بازار کا درجہ دیکر منسٹر سے لیکر چپراسی تک لوٹ مار میں ملوث رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہماری اطلاع کے مطابق اس وقت خطے کے دور فتادہ علاقوں میں سرکاری اسکولز کی عمارتیں کہیں گودام تو کہیں کھنڈر بن چکے ہیں۔ لہذا حکومت کی اولین ترجیح اس مسلے پر ہونا چاہئے تاکہ یہاں کے غریب عوام ایک بار پھر اپنے بچوں کو سرکاری اسکولز میں داخلہ کروا سکیں۔

دوسرا اہم مسلہ صحت کا ہے اس وقت خطے کے تمام اضلاع میں موجود ڈسٹرک ہیڈکوارٹر ہسپتالوں میں ڈاکٹر مافیا نے عوام کا جینا دوبھر کیا ہوا ہے۔ سرکاری ہسپتالوں میں ڈاکٹروں کا رویہ اور مریض کیلئے سرکاری دوائیاں ذاتی کلینک پر مہنگے داموں فروخت کرنے کے اسیکنڈلز کئی بار مقامی پرنٹ میڈیامیں آچُکی ہے۔ لہذا سرکاری ہسپتالوں کے تمام ڈاکٹر حضرات کے ذاتی دواخانوں میں ہونے والے کرپشن اور سرکاری ہسپتالوں میں مریض کے ساتھ ہونے والی ذیادتیوں کی ازالے کیلئے ایمرجنسی سیل قائم کرکے ہر ضلعے میں چھان بین کرنے کی ضرورت ہے۔

اسی طرح پانی انسان کی اولین ضروریات میں شامل ہیں اور ہمارے خطے کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ یہاں قدرتی طور پر صاف و شفاف چشمے اور منزل پانی کی ندیاں بہتی ہے لیکن مناسب سوریج کا نظام نہ ہونے کی وجہ سے آج یہ صاف شفاف پانی مضر صحت بنتی جارہی ہے جو کہ آنے والے وقتوں میں مزید گھمبیر صورت حال اختیار کر جائے گا۔ لہذا پورے خطے کی سطح پر سوریج نظام بنانے کیلئے ایک جامع منصوبہ بندی کی ضرورت ہے تاکہ آنے والی نسلوں کیلئے پانی کو بچا کر رکھ سکیں۔

اس کے علاوہ اور بھی کئی مسائل ہیں جنکا آنے والے وقتوں میں نشاندہی کا سلسلہ جاری رہے گا۔یہاں اب اصل قومی ایشو کی طرف توجہ دلاتے ہوئے یہ بتانا ضروری سمجھتا ہوں کہ اب ہمیں نواب اور رقاصے والی محاورے کی دنیا سے نکل کر خطے کی آئینی حیثیت کے حوالے سے کچھ اہم فیصلے کرنے ہونگے جس میں سب سے لازمی نقطہ اکنامک کوریڈور کا ہے اس اہم منصوبے میں جی بی کو بحیثیت اہم سٹیک ہولڈر شامل نہیں کرنا وفاقی سازش سمجھیں یا ہماری کمزروری کا نتیجہ۔ آج بلوچستان میں اس منصوبے میں شراکت داری کیلئے قومی سطح پر احتجاج ہورہے ہیں لیکن ہمارے سیاست دانوں کو اس حوالے سے کوئی فکر لاحق ہوتا دیکھائی نہیں دیتا۔ حالانکہ یہ اہم منصوبہ خطے کی مسقتبل کے حوالے سے ایک سنگ میل حیثیت رکھتے ہیں۔ لیکن اہل وفاق کی خاموشی دیکھ کر افسوس ہوتا ہے لہذا اس حوالےسے عملی کوشش کرکے ہماری جعرافیائی حیثیت کے مطابق اس اہم منصوبے میں شراکت داری کو یقینی بنانے کیلئے وقت گزرنے سے پہلے ہرممکن کوشش کرنے کی ضرورت ہے۔

اسکے علاوہ اہل ایوان کوچاہئے کہ اب وہ وقت آن پہنچا ہے کہ آذادکشمیر کے حکمرانوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر سوال پوچھنا ہے کہ آخر کب تک ہمارےحقوق کے راستے میں دیوار بنو گے؟ کیونکہ معاہدہ کراچی سے لیکر آج تک جب کبھی وفاق کی طرف سے گلگت بلتستان کو حقوق دینے کی بات آتی ہے تویہ لوگ آڑے آجاتے ہیں۔ حالانکہ آبادی اور رقبے کے لحاظ سے یہ خطہ آذاد کشمیر سے کئی گنا ذیادہ ہیں لیکن کشمیری سیاست دانوں کی چالاکی اور خود غرضی نے ہمارا معاشرہ اور معاشرے کے لوگوں کواندھیرے میں رکھا ہوا ہے۔ ایسے میں نئی کابینہ کو چاہئے کہ ماضی کی طرح عمل نہ ہونے والے قرادادیں پیش کر کے وقت کا ضیاع کرنے کے بجائے کشمیر اسمبلی میں بن بُلائے مہمان بن کر جائیں اور انکو بتائیں کہ آخر کب تک ہمیں جینے نہیں دو گے؟

چلو ہم ایک لمحے کیلئے انقلاب گلگت کو بُھلا کر ریاست جموں کشمیر کا حصہ مان کرگلگت بلتستان اور آذاد کشمیر کوملا کر ایک سیاسی نظام تشکیل دیتے ہیں جس میں صدرآذاد کشمیر سے اور وزیراعظم گلگت بلتستان کے ہوں گے۔ اس تجویز کورد کرنے کی صورت میں مسقتبل کیلئے انکی مداخلت بند کرنے کیلئے وزارت امور کشمیر اور گلگت بلتستان کیلئے دو الگ منسٹریاں قائم کرکے گلگت بلتستان کے معاملات براہ راست وزیراعظم ہاوس یا گلگت بلتستان اسمبلی سے الیکشن کے ذریعے کسی مقامی بیوروکریٹ کو امور گلگت بلتستان کی ذمہ داری سونپتے ہوئے گلگت بلتستان میں سٹیٹ سبجیکٹ رول کی بحالی یقینی بنانے کیلئے کوششیں کرنے کرنے ہونگے ۔

یہ دونوں آپشن قابل عمل نہ ہونے کی صورت میں اب وفاق سے دو ٹوک الفاظ میں مطالبہ کرنا ہے کہ پاکستان کیلئے ہماری تمام تر قربانیوں کو سامنے رکھتے ہوئے اب وقت کی ضرورت ہے کہ اس خطے کو مسلہ کشمیر کی حل تک(جیسے ابھی کہا جارہا ہے) عبوری طور پر مکمل آئینی صوبے کی حیثیت دیکر قومی اسمبلی اور سینٹ میں نمائندگی دیا جائے اور اگر وفاق یہ شرط بھی قانونی تقاضے پورا نہ ہونے کا بہانہ بنا کرانکار کرتے ہیں تو مقامی حکومت کو چاہئے کہ ریاست کی بحالی کیلئے عملی اقدامات شروع کریں اور ویسے بھی جس الحاق کا ہمارے عوام ذکر کرتے ہیں اُس بات کو نہ وفاق ماننے کیلئے تیار ہیں اور نہ ہمارے پاس کسی قسم کی دستاویزی ثبوت موجود ہے۔ لہذا آخری آپشن کے طور پر UNCIPمیں گلگت بلتستان کی جو قانونی حیثیت درج ہے اُسے بحال کرنے کیلئے کوشش کرنے ہونگے۔

اللہ ہم سب کو قانون کے دائرے میں رہ کر قومی حقوق کیلئے جہدجہد کرنے کی توفیق عطا فرمائیں۔ آمین

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

شیر علی انجم

شیر علی بلتستان سے تعلق رکھنے والے ایک زود نویس لکھاری ہیں۔ سیاست اور سماج پر مختلف اخبارات اور آن لائین نیوز پورٹلز کے لئے لکھتے ہیں۔