ہل گہ نال

ہل گہ نال

19 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

Hidayat-Ullah قرآن سے یہ بات  ثابت ہے کہ کھیتی باڑی   اور زرعی آلات  کا استعمال حضرت آدم علیہ السلام  کے دنیا میں آنے کے بعد ہی سے  رائج    ہے۔قرآن  میں ہابیل اور قابیل کے واقعے  میں  ہابیل کا جانور  پالنے اور قابیل کا کھیتی باڑی کا ذکر ہے۔پتھر کے زمانے  کا انسان شروع میں جنگلی جانوروں   جیسی زندگی  گزارتا تھا  اور لباس سے ماورا  ہوتا تھا لیکن بعد میں اپنے جسم کو سردی اور گرمی سے بچانے کے لئے درختوں کے پتوں اور چھالوں کو اپنے بدن کا حصہ بنایا۔خوراک کے لئے جنگلی جانوروں کا شکار پتھروں سے کیا کرتا تھا اور جب جنگلی جانوروں کا خود شکار بنے لگا   تو  اپنی بچائو کا بھی سوچتےہوئے درختوں  کی بڑی  سوکھی شاخوں کو  جنگلی جانوروں  کے شکار  کرنے  میں استعمال کرنا  شروع کیا۔وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اپنی ضرورت کے مطابق مختلف اوزاروں کو ایجاد کرتا چلا گیا یوں انسان ارتقائی منازل طے کرتا رہا اور  سائسدان اس ارتقائی منزل کو  چالیس لاکھ سال پر محیط قرار دیتے ہیں۔اور مختلف  ادور میں پتھر سے لیکر لوہے تک کے مختلف اوزار انسان کے استعمال میں رہے،کھیتی باڑی سے متعلق  بارہ ہزار سال پہلے جس اوزار کی نشاندہی کی گئی اسے  چھڑی کا نام دیا گیا جس سے زمیں  نرم کی جاتی تھی بعض اوقات اس چھڑی کے سرے میں   وزنی اور نوکیلا پھتر باندھ کر زمیں  کی کھدائی کے لئے  استعمال میں لایا جاتا تھا۔تاریخی شواہد سے معلوم ہوتا ہے کہ نو ہزار سال پہلے آناج گندم جو باجرہ  کی کاشت اور بھیڑ بکریاں پالنے کا عام رواج شروع ہو چکا تھا یہاں تک کہ چھ ہزار سال پہلے تھائی لینڈ اور میکسیکو میں برتنوں  میں آناج پائے جانے کی تحقیق  کی گئی۔اسی روشنی میں تحقیق کا دائرہ کار وسیع ہوا اور یہ بات سامنے آئی کہ ہل کا پہلا استعمال پانچ ہزار سال پہلے  میسوپوٹامیا میں ۔۔چار ہزار سال پہلے مصر میں ، تین ہزار چار سو سال پہلے چین میں اور تین ہزار سال پہلے شمالی یورپ میں  استعمال میں آنا شروع ہوا۔اسی عرصے میں  یورپ میں  ہرن کے سینگ کے بنے ہوئے ہل کا ذکر بھی  مل جاتا ہے اور عموما  اسے کھینچنے کے لئے جانور کی جوڑی کا استعمال کیا جاتا رہا ہے۔لیکن  اس وقت بھی امریکہ ، اوشینیا اور افریقہ کے بعض علاقے ہل سے نا واقف تھے ۔انسانوں سے ہل جوتنے سے لیکر جانوروں کی جوڑی سے ہل چلانے  تک     لکڑی کے بنے ہوئے ہل  مختلف شکلوں میں  استعمال ہوئے تاوقتیکہ  دو ہزار سال سال پہلے جب  لوہے کی ایجاد ہوئی تو  لوہے کے بنے ہوئے  ہل عام  استعمال میں آنا شروع ہوئے۔ہل کی تھوڑی سی اجمالی تصویر کا تذکرہ  اس لئے ضروری تھا کہ  گلگت نگرل پہاڑ کے اوپر قدرتی طور  پر بنی ہوئی  ہل اور نال کی شبیہ جو نمایاں طور پر نظر آتی ہےجسے شینا میں ہل گہ نال کہا جاتا ہے  اس کی تاریخی   اور اس سے  جُڑی ہوئی من گھڑت اور بے بنیاد کہانیوں  کے بجائے اس کو تاریخی زاویے سے پرکھا جائے ۔گلگت جس کی ایک قدیم تاریخ ہے لیکن  بد قسمتی سے اس تاریخ پر تاریکی چھائی ہوئی ہے ۔اسی طرح  ہل گہ نال  کی اس شبیہ کے بارے بھی تاریخی کتابوں میں کوئی ایسا مواد نہیں ملتا جس کی روشنی میں یہ اندازہ کیا جا سکے کہ یہ شبیہ  اس مقام پر کب اور کیسے وجود میں آئی اور  نہ ہی  کسی لوک کہانی اور مقامی شاعری میں    کوئی ایسا اشارہ پایا جاتا ہے  جس کو  بنیاد بنا کر کچھ  لکھا جا سکے۔ مقامی لوگوں میں  یہ مقام ہل گہ نال کے نام سے مشہور ہے  لیکن کسی سے پوچھا جائے کہ  یہ یہاں کب سے موجود ہے اور اس کے پیچھے کیا کہانی ہے کوئی بھی بتانے سے قاصر ہے۔ چند ایک معلومات کی روشنی میں راقم  نے کئی بار جائزے کے لئے  اس مقام پر  گھنٹوں صرف کئے  صرف اس لئے کہ شائد کوئی ایسا اشارہ  مل جائے جس سے اس بات کی صداقت  ثابت ہوجائے کہ یہ انسانی شہکار ہے یا  کوئی ایسے شواہد  ملیں جس سے  یہ پتہ لگ  سکے کہ یہ  شہکار پہاڑ یا زمین کے ٹوٹنے اور پھوٹنے  کے عمل سے وجود میں آیا ہو لیکن تلاش بسیار کے باوجود راقم   اس معمہ کو حل کرنے میں  ناکام رہا۔جائزے کے بعد یہ بات وثوق سے کہی جا سکتی ہے کہ   اس شہکار  کے پیچھے انسانی اور جنوں کی کہانی نہیں ہے بلکہ یہ تو قدرت کی طرف سے کاڑھا ہوا  ایک قدرتی شاہکار ہے۔جب ذہن گلگت  میں انسانی آبادی  کے آثار  کی طرف  مڑ جاتا  ہے  تو اس کی تاریخ بھی لگ بھگ  تین چار ہزار سال  قدیم  معلوم ہوجاتی ہے۔اور یہ وہ زمانہ ہے جب  چین میں  ہل کا استعمال  شروع  ہونے لگا تھا۔چینی سیاح فاہیان  جو چار سو عیسوی میں  ان علاقوں سے گزرا   اس نےاس خطے میں انسانی آبادی کے ساتھ پہاڑوں پر نقش  و نگار   کی نشاندھی کی ہے  اس کے علاوہ گلگت کے قدیم نام  امسار کا جائزہ لیا جائے  تو  عرب حکمرانوں  کے حملے اور قابض ہونے کے بعد  مفتوحہ علاقوں میں  ایسی جگہوں میں  فوجی چھاونیاں بنانے کا  جہاں سے انہیں  کسی علاقے کو اپنی گرفت اور کنٹرول میں  رکھنے میں آسانی ہوتی تھی یا  وہ وہاں پر اپنے قدم جما کر آگے کی طرف پیش قدمی کرنا  چاہتے تھے ایسی جگہوں کو وہ امسار(فوجی چھاونی) کا نام دیتے تھے  شواہد ملتے ہیں ۔اس سلسلے میں بصرہ اور کوفہ کو پہلی فوجی چھاونیاں (امسار) سمجھا جاتا ہے خلیفۂ ثانی امیر المؤمنین حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالٰی عنہ   کے زمانے میں  فتوحات ہوتی گئی اور عرب  حکمران آذربائیجان  تک پہنچ گئے اور آذربائجان میں آج بھی ایک شہر امسار کے نام سے موجود ہے ۔۔اس حوالے کی روشنی میں  دیکھا جائے تو یہ بات   پکی معلوم ہوتی ہے   کہ  کسی عرب   حکمران نے گلگت کو فتح کرنے کے بعد موجودہ   نوپورہ میں  اپنی فوجی چھاونی قائم  کی  اور اسے  امسار کا نام دیا ۔گلگت کی قدیم آبادی  موجودہ  نوپورہ میں بتائی جاتی ہے  قدیمی نام  امسارتھا۔ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ ان علاقوں میں انسانی آبادی اور یہاں بسنے والوں  جنہیں درد کہا جاتا تھا  ایک  تہذیب اپنے اندر لئے ہوئے تھے ۔ ہل گہ نال جس کو لوگ  گلگت کے اولین راجہ  جس کا تعلق  شین ذات سے بتایا جاتا ہے  اور شینا  زبان  کی وجہ سے شین  لوگوں سے منسوب کرتے ہیں  اس کی نفی   کرتی ہیں  کہ  اس قدرتی طور پر بنے ہوئے ہل گہ نال کا زبان سے کوئی تعلق  نہیں اور ہل  اور نال دونوں سنسکرت زبان کے الفاظ ہیں   جو یہاں بہت بعد میں بولی جانے والی زبانوں میں شمار ہوتی ہیں  ۔اس لئے اس کا تعلق لسانیات سے جوڑا نہیں جا سکتا۔  ممکن ہے کہ اس وقت کی بولی جانے والی زبانوں میں ہل گہ نال کو  کسی اور نام سے پکارا جاتا ہو ۔ان تمام باتوں کے بعد ذہن دوبارہ گھوم پھر کر ہابیل اور قابیل  کے قصے کی طرف جا نکلتا ہے۔اور اس واقعہ میں    قابیل کا  ہابیل  کو قتل کرنا اور پھر دو کوئوں کا کہیں سے آنکلنا اور ایک کوے کا مرنا اور پھر دوسرے کوئے کو اسے زمین میں مٹی ڈال کر  چھپانا  اور پھر اس کوئے  کی نقل کرتے ہوئے قابیل کا ہابیل کو زمین میں دفنا دینا  ۔ یہ سب باتیں  ایسی ہیں کہ قدرت  کسی نہ کسی طریقے اور ذرائع سے  اپنے بندوں کوسیکھنے اور سیکھانے کے عمل سے دوچار کرتی ہے اور     بات عقل میں ڈال دیتی ہے۔۔ان تمام شواہد اور واقعات  کی روشنی میں  گلگت میں موجود ہل اور نال  کوئی افسانوی  قصہ یا فن مصوری یا فن سنگ تراشی  نہیں بلکہ  یہ تو اس مصور عالم کی مصوری اورکاریگری لگتی  ہے جس کے سامنے کائینات کی ساری فنکاری اور ہنر ہیچ ہیں  ہل گہ نال ایک ایسا  قدرتی شہکار ہے جسے اللہ نے اپنی قدرت سے یہاں  کاڑھ دیا ہے  جسے دیکھ کر بس یہی کہا جا سکتا ہے کہ اللہ نے اپنی حکمت کے تحت اس پہاڑ پر ہل اور نال کو  صرف اور صرف اس مقصد کے لئے وجود میں لایا تاکہ یہاں جو اول  انسانی آبادی تھی ان کو اپنی قدرت سے زراعت اور کھیتی باڑی سے آشنا  کرنا  مقصود تھا۔واللہ علم

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments